قومی غلامی سے نجات مظبوط سیاسی اداروں کے قیام سے ممکن ہے۔

تحریر: ڈاکٹر سلیمان بلوچ (جونیئر وائس چیئرمین بی ایس او آزاد
زندہ اور باشعور سماج ہمیشہ علمی بحث و مباحثوں کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، خود کو جاننے کی طلب اورجستجواگر ختم ہو جائے تو معاشرے جمود کا شکار ہوکر زنگ آلود ہو جاتے ہیں اور وہ سماج یا معاشرہ چلتے پھرتے زندگی کی رمق سے محروم آدمیوں کی ہجوم کاشکل اختیار کرتا ہے، جس موضوع پر آج میں بحث چھیڑنے کا طلبگار ہوں ایسا نہیں کہ آج سے پہلے اس موضوع پر کبھی لکھا نہیں گیاہے مگر یہ ایسا موضوع ہے جس پر زیادہ سے زیادہ بحث کرنا گویا مستقبل کے سنہرے خوابوں کو بہتر سمت دینا ہے۔ کیونکہ بلوچ سماج میں تعلیم کی کمی اور تعلیمی اداروں میں نوآبادیاتی تعلیمی نظام کافی حد تک ہمارے معاشرے اورمعاشرے کی ذہنیت پر حاوی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی قابض ریاست کا کسی مقبوضہ قوم یا کلاس کے لئے علمی و شعوری بانجھ پن قابض کی دیر پا قبضہ گیر پالیسیوں کا حصہ ہوتا ہے۔ کیونکہ نو آبادیاتی نظام تعلیم قوموں کو ذہنی اور شعوری طور پر بانجھ بنانے کے لئے تشکیل میں لائے جاتے ہیں جو کہ صرف مقبوضہ اقوام کے لئے مختص کئے جاتے ہیں، تاکہ ان اداروں سے باشعور سیاسی و سماجی ورکر،دانشور اورفلاسفر نکلنے کے بجائے نوکری پیشہ ذہنیت کے چلتے پھرتے کل پرزے نکلیں جو نوآبادیاتی مشین میں جڑ کر اپنے ہی قوم و سماج کے استحصال میں معاون کاراورمددگار ثابت ہوں۔ عموماََ دیکھا گیاہے کہ نوآبادیاتی نظام تعلیم سے فارغ شدگاں محض چند ٹکوں کے عوض کسی جانور کی طرح زندگی بھر کسی نوکری پر جْت جاتے ہیں۔انہیں جواب سننے اور اس پر عمل پیرائی کی تربیت ملتی ہے نہ کہ سوال کرنے، سوچنے اور جستجوکی۔ایسے نظام میں لوگوں کی اکثریت کو نہ معاشرے اورسماج کی بقا کی پروا ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے قوم و سرزمین سے اپنے رشتے کا ادراک۔ہندوستا ن انگریزکا لونی تھا تو نوآبادیاتی نظام تعلیم کے خالق لارڈ میکالے نے کہاتھا کہ ’’ہم ایسے لوگ پیداکریں گے جو شکل سے ہندوستانی اور ذہنیت کے اعتبار سے انگریز‘‘یعنی ایسی ذہنیت جس میں انکا ر،سوال او رجستجو کے بجائے محض قبولیت ہی ہو۔ہر کالونی کی طرح مقبوضہ بلوچستان میں پاکستان کا تعلیمی نظام بھی ایک نو آبادیاتی نظام تعلیم ہے لیکن مشاہدہ یہی کہتاہے پاکستان دوسرے قبضہ گیرو ں کے برعکس اس نوآبادیاتی نظام سے بھی بلوچ کو محروم رکھنا چاہتاہے اس کی وجہ یہ بتایاجاتاہے کہ بلوچ قوم میں قومی پرستی اور وطن دوستی کے جذبات اتنے موثر ہیں کہ پاکستان پورے تاریخ میں انہیں اپنے جبر،نوآبادیاتی تعلیم او ر حربوں سے مانند نہیں کرسکاہے اس لئے تعلیم کے باب میں پاکستان ہمیں دوسرے قابضین سے بھی دو ہاتھ آگے نظرآتا ہے پہلی بات یہ ہے کہ بلوچستان میں اکثر علاقوں میں تعلیمی ادارے وجود ہی نہیں رکھتے اور جہاں پر تعلیمی اداروں کے نام پر پتھر اور اینٹوں سے بنے چار دیواریاں موجود بھی ہیں تو وہ فوجی کیمپس، چیک پوسٹس اور مذہبی مدرسوں میں تبدیل کر دیے گئے ہیں اور جتنے بھی کالجز اور یونیورسٹیاں ہیں ان کے سربراہاں بھی ریٹائرڈ آرمی افسران ہیں جو کہ قبضہ گیریت کے عملی نمونہ ہے تاکہ ذہنوں کی تربیت براہ راست فوج کے نگرانی اور ان کے بنائے گئے پیمانوں میں ہو اور یہ بات یقینی ہو کہ اس تعلیمی نظام کے پیداوارغلام ہی رہیں اور ان میں بغاوت اورانکارکا عنصر پنپ نہ پائے۔اس لئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچستان کے بڑے یونیورسٹی تعلیم ادارے کم اور فوجی بیرک زیادہ نظر آتے ہیں جن کا کسی مہذب ملک یا سماج میں تصورہی نہیں جاتاہے۔ اسی تناظر میں قابض اور اسکے ہمنوا ہمیشہ یہی کوشش کرتے رہے ہیں کہ بلوچ سماج یا اداروں کو بانجھ بنا کر ان کے مقدرمیں غلامی ہی لکھی جائے یا ان تعلیمی اداروں میں موجود نظریہ رکھنے والے نوجوان نسل کوکبھی بھی مجتمع ہونے کا موقع نہیں دیاجائے بلکہ انہیں بہرصورت منتشر کیا جائے اس پالیسی کو زندہ رکھنے کی کوششوں میں خواہ جتنی بھی نوجوان جانیں لینی پڑیں وہ اس سے قطعاََ گریز نہیں کریں گے یہی غلام اور یہی دستورِ نوآبادیاتی نظام ہے۔ مگر اسے بلوچ قوم کی بد بختی کہیں یا غلامی کا شاخسانہ کہ بلوچ کے نامی گرامی ہستیاں نوجوانوں کی قوت کو یکجاہ و یکمشت کرنے میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ نوجوان ان کے سیاسی مقاصد کے حصول میں محض بھیساکی ہی رہیں وہ کسی تنظیم کی صورت میں فیصلہ کن قوت نہ بن جائیں میں اس عمل قابض کے معاونت کے مترادف ہی سمجھتاہوں اگر یہ سوچ یا فلسفہ جاری رہا تو بلوچ نوجوانوں کی منظم طاقت یا منظم سوچ مسلسل ٹوٹتااور بکھرتا رہے گا جسے دوبارہ جڑنے میں وقت درکار ہوگا ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اور ہمارا سیاسی سفر بھی۔ قارئین میرا موضوع اسٹوڈنٹس تنظیم بی ایس او ہے بلوچ نوجوانوں کی نظریاتی اور فکری تربیت کا سب سے بڑا مورچہ،جس کی آبیاری بلوچ نوجوان اپنے خون اور قومی آزادی کی سوچ کے ساتھ کر رہے ہیں ایک بڑے ارتقائی عمل سے گزر کر بی ایس او تحریک کے تقاضوں کے مطابق یہ سمجھتا ہے کہ کسی بھی قوم کی آزادی اور تشکیل نوکا دارومدارسیاسی اداروں اور علمی بنیاد پر ہونا لازمی ہے کیونکہ جب سے انسانی تہذیب کا وجود عمل میں آیا ہے تو جہاں جہاں انسان نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں تووہاں ہمیں اداروں کا سراغ ملتاہے یہ الگ بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اداروں کی ساخت اور ہیئت میں تبدیلی آتارہتاہے اوریہی ارتقائکا سچائی ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی سماج کی ترقی یا قوموں کی تشکیل نوکے ساتھ ادارے لازم و ملزوم ہے، خاندان، طبقات،اقوام بھی ادارے ہیں جبکہ ریاست بھی ادارے ہی کی ایک ارتقائی شکل ہے۔لیکن جس طرح چیئرمین خلیل بلوچ کہتے ہیں کہ ’’نجات ادارے میں ہے‘‘تو اس تناظر میں دیکھاجائے توریاست سے محروم قوموں کے لئے اداروں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے،ادارے ہی قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرسکتے ہیں یہ کسی شخصیت یا فرد کا کام نہیں ہوسکتاہے، اجتماع کے فیصلے اجتماع ہی کرسکتے ہیں نہ کہ شخصیات۔ اور اس کام کے لئے بی ایس او کے خدمات بلوچ سماج میں ہمیشہ پیش پیش رہاہے۔ کیونکہ اگر ہم کسی جمہوری ریاست کی تشکیل کی جدوجہد کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اصولی طورپر محض قول نہیں بلکہ اپنے فعل سے یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ بی ایس او جہاں نوجوانوں کو نہ صرف اس کے لئے راغب کرتی رہی ہے بلکہ ان کو نوآبادیاتی نظام تعلیم کے اندر نظریاتی تعلیم کے ہتھیار سے لیس کرتارہاہے اور یہ واضح کرتا رہا ہے کہ غلامی کسی بھی شکل میں ہو وہ غلامی ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ بلوچستان میں پارلیمانی جدوجہد کرنے والے ریاستی آشرباد میں سیاست کرنے والی پارٹیز اور شخصیات تو اس پر ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے ہیں کہ بی ایس او کو اپنے بلوچ دشمن منصوبوں کی آبیاری کے لئے استعمال کریں مگر بی ایس او کو اپنے دست نگر لانے کے لئے آزادی کی جدوجہد کرنے والی قوتوں نے بھی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی گویا ہر کسی کا مقصد بی ایس او کو خود سے منصوب کرکے اس قوت کو اپنے حق میں استعمال کرنارہا ہو۔
بحثیت بلوچ طالب علم میں نے بی ایس او کے دوستوں اور لیڈر شپ کوقریب سے ایسی سوچ کے خلاف لڑتے دیکھا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی ظلم وجبر کا شکار بلوچ قوم کو اس جبر سے چھٹکارا دینے کے لئے ہما وقت بلوچستان کے طول وعرض میں سراپا احتجاج رہے اور موبلائزیشن کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رکھا جو آج کے مشکل دور میں بھی جاری ہے۔ اور ان سب کے علاوہ مذہبی منافرت، انتہاپسند سوچ، بلوچی زبان کو مٹانے کی کوششوں اور بلوچ قوم کے درمیان تضاد پید کرنے والی قوتوں کے سامنے بھی بی ایس او ہمیشہ کھڑی رہی۔ میں فخریہ کہہ سکتا ہوں کہ بی ایس او کے دوستوں نے بیک وقت کئی محازوں پر بلوچ قوم اور بی ایس او کے خلاف ہونے والی سازشوں کو روکنے میں کردار ادا کیا اور بلوچ سیاست دان ابھی اس بحث سے نہ نکلے تھے کہ بلوچ خواتین کو قومی تحریک کا حصہ بنایا جائے یا نہ؟ مگر بی ایس او نے عملََا یہ ثابت کردیا کہ وہ معاشرے کے اکثریت کو معاشرے سے کاٹ کر ایک کامیاب تحریک اور ایک جمہوری اور آزاد ریاست کی بنیاد نہیں ڈال سکتے۔ ممکن ہے مجھ سے کوئی اتفاق نہ کرے مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ بی ایس او بلوچ سیاست کی اکائی ہے۔ لیکن تکلیف اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ بلوچ قومی آزادی کے لئے کسی مظبوط و منظم سیاسی پارٹی بنانے کے بجائے ہمیشہ سے سب کی کوشش یہی رہی ہے کہ وہ کیسے بی ایس او کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزار کر اپنا اپنا حصہ اس میں سے نکال لیں۔ بی ایس او کو اینٹ بنا کر اپنی اپنی ڈیڈھ اِنچ کی مسجد کی تعمیر کے چکروں میں نوجوانوں کے اس آرگنائزیشن کو صدقے کے طور پر استعمال کرتے رہے اور آج بھی کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اگر بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے پس منظر کو دیکھیں تو بلوچ تحریک ہمیشہ قبائلی یا نیم قبائلی شخصیات کے ماتحت رہی ہے آج بھی یہ سوچ پارلیمانی اور آزادی پسند شخصیات اور گروپوں میں موجود ہے اور بد قسمتی سے چند پڑھے لکھے لوگ بھی ان قبائلی یا نیم قبائلی بنائے گئے اداروں کو فنکشنل کرانے کے لئے بی ایس او کو ذیلی تنظیم یعنی (پاکٹ آرگنائیزیشن) بننے کی تجویز دیتے ہیں مگر تاریخ کی زد سے کوئی نہیں بچ سکتا تاریخ کے اوراق ہمیشہ بی ایس او کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور دھوکے کو سیاہ الفاظ میں لکھے گا۔
آج بھی بی ایس او اسی طرح کی سازشوں کا سامنا کر رہی ہے اور اس تناظر میں کبھی کسی نے نہیں سوچا ہے کہ بی ایس او کے ساتھ ہونے والے منفی رویوں کا اثر بلوچ سیاست اور بلوچ نوجوانوں کو کس طرح متاثر کرے گی۔ بی ایس او کو بی ایس او رہنے دیا جائے اور اسے اپنے آزاد حیثیت کے ساتھ قبول کر کے منظم و متحد ہونے دیا جائے اس پر کبھی کوئی سنجیدہ مشترکہ ڈسکشن کیوں نہیں کیا گیا؟۔ اگر واقعی میں بلوچ سیاست سے وابستہ تمام جْز حقیقی بنیادوں پر اس بات سے متفق ہوتے تو آج بی ایس او جیسے ادارے کو یہ دن دیکھنے نہ پڑھتے، ان تمام تقسیم در تقسیم کے پیچھے انھی صاحبان کا دست شفقت رہا ہے جس کے نتیجے میں آج بی ایس او،پجار، مینگل، بی آر ایس او کے مختلف ناموں سے جانے جاتے ہیں، اگر تحریک کے اس دھانے پر پہنچ کر بھی ہم اس مفاد پرستانہ اور غیر سیاسی عمل سے باز نہ آئے تو ہم یہ کہنے حق بجانب ہیں کہ بلوچ نوجوانوں کے سیاسی سوچ کو پاکستان کے تعلیمی ادروں سے زیادہ بانج بنانے میں ان کا کردار مثالی رہے گا۔۔۔۔۔
بی ایس او پارلیمانی سیاست سے لیکرقومی آزادی کی تحریک میں مختلف لیڈر شپ کے ہاتھوں یرغمال ہوتا رہا، بلوچ دانشور،سیاسی ورکرز، تماشائی بن کر دیکھتے رہے نوجوانوں کی قوت منتشر ہوتا رہا۔جب جہاں کہیں جسے نوجوانوں کی ضرورت پڑھتی تو وہ بلا جھجک بی ایس او کو تقسیم کی طر ف لے جا کر ایک الگ بی ایس او بناکر قوم و دنیا کو کنفیوز کرتے اور ایک نئی بی ایس او متعارف کر کے نوجوانوں کو دن بہ دن مایوسی کی طرف دھکیلتے۔
میں یہی سمجھتا ہوں کہ بی ایس او ریاستی ظلم وجبر سے زیادہ اپنوں کی انا اور رسہ کشیوں شکار رہا ہے اگر ہم بی ایس او کی ماضی کو دیکھیں تو سرداروں اور متوسط طبقات نے بی ایس او کے ساتھ خوب کھیل کھیلا آج تک نہ صرف بی ایس او بلکہ قومی تحریک آزادی بھی ان تمام اعمال کا سزا بھگت رہی ہے۔ جس پیداواری عمل سے قومی تحریک زرخیز ہوتی رہی اس قوت کو چند وقتی مفادات کے بھینٹ چھڑانے میں کوئی کسر نہ چھوڑا گیا جس کے بدولت ہم بی ایس او جیسی فیکٹری سے بننے والے کیڈرز کو ایک قومی پارٹی دینے میں ناکام رہے، ان نا پختہ رویوں اور مفادات کی جنگ کے بدولت ماضی اور حال کے بلوچ لیڈر شپ قوم کو ایک ماس پارٹی دینے میں ناکام رہے جو کہ ایک قومی آزادی کی تحریک کی اولین شرط ہے، کیونکہ پارٹی و اداروں بغیر کسی ریاست کا خواب کیسے عمل میں آ سکتا ہے؟ پارٹی قوم کی، تحریکوں کی ترجمانی کرتے ہیں نہ کہ شخصیات، پارٹی نظام ریاست بناتے اور چلاتے ہیں، پارٹی عالمی سطح پر کسی بھی قوم کا آواز اور واحد فلیٹ فارم ہوتی ہیں جو آزادی کا پرچار کرتی ہیں۔ سماج میں بسنے والے تمام طبقات کیلئے قابل قبول ہوتے ہیں اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے والے ہوتے ہیں نہ کہ خود کو خلائی مخلوق اور افضل و عالیٰ تصور کر کہ قوم کو اور تحریک سے جڑے باقی جزوں کو حقیر سمجتا ہو۔ پارٹی سماج کے مسائل حل کرتی ہے نہ کہ سماج کو مسائل میں دھکیلتی ہے، کوئی بھی پارٹی بغیر عوامی سپورٹ، اور حمایت کے زندہ رہ ہی نہیں سکتی۔
قومی تحریک میں ان رویوں کو فروغ دینے والے شخصیات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو بلوچ تحریک کے لئے ادارہ جاتی پالیسی اپنانے یا ادارے بنانے میں رکاوٹ ہوں۔ انہی رویوں کے سبب آج ہم ایک منظم پارٹی بنانے میں ناکام رہے،اگر تاریخی یا حقیقی زاویوں پر دیکھیں تو ہمارے بغض،انا،قباہلی سوچ،اداروں پر اپنی بالادستی اور شخصیت پرستی نے بلوچ پارٹی بنانے میں جو خلا پیدا کیا وہ یقیناً ہماری دشمن نہ کر پائے۔ بقول واجہ انور صاحب خان۔
بدبختی ے سوگاتاں امروزے کواران کن
براسے کہ بہ بیت دژمن،سد دژمنے کارا کن
اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ لکھنا بحث کرنا ہماری زمہ داری ہے، کیونکہ یہ موضوع آج ہر نوجوان کا سوال ہونے کے ساتھ ساتھ قومی ضرروت بھی ہے اور دوسری جانب بلوچ نوجوانوں کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں اور اپنی زمہ داریوں کا احساس کرکے اپنی صفوں کو منظم اور توانا رکھنے کیلئے بھرپور جدوجہد کریں۔ بی ایس او کے ساتھ ماضی میں جو ہوا یہ احساس بلوچ اسٹوڈنٹس بلخصوص بی ایس او آزاد سے وابستہ ساتھیوں کو سنجیدگی کے ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ ہر کسی کے فرماہش پر روز نئے بی ایس او کو وجود میں لانا ہمارے ان ساتھیوں کی قربانیوں کا مذاق اْڑانا ہے جو آج ہم میں نہیں ہیں، یا تاریک زندانوں میں ہیں یا پھر ریاست کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کر کے ویرانوں میں پھینک دیئے جا چکے ہیں۔ میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اْس بی ایس او کو مضبوط اور آئیڈل بنائیں جس کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی غلامی کا نجات ممکن ہو۔یہی احساس اور سوچ ہماری کامیابی کے علامت ثابت ہو سکتی ہے اسی سوچ کو اپنانے سے ہماری آنے والی نسل منتشر ہونے اور تقسیم درتقسیم کے عذاب سے نجات پائے ۔




براہوئی جدید شاعری میں امن کی تلاش۔ ڈاکٹر لیاقت سنی

امن‘ آشتی یا ایمنی متضاد الفاظ ہیں‘ ظلم‘ بربریت‘ جبر اور استحصال کی‘ جہاں احساسات جذبات اور افکار متزلزل ہوں ‘ وہاں روح گھائل ہوکر سکون آرام اور مسرت کی تلاش شروع کرتی ہے۔
کائنات میں یہ فلسفہ عجیب لگتا ہے کہ امن اور جنگ ایک دوسرے کے متضاد ہیں لیکن اکثر جنگیں امن ہی کے لئے لڑی جاتی ہیں۔ اسی لئے ڈر لگتا ہے کہ جہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں وہاں مابعد امن کسی جنگ کی تیاری تو نہیں ہو رہی ہے؟
اسی تناظر میں براہوئی جدید شاعری میں پیام امن کی تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ بلوچستان آخر ہے کیا؟ گذر گاہ ہے‘ قیام گاہ ہے یا تجربہ گاہ؟ جہاں کی سورج تب تک نہیں نکلتاجب تک کسی ماں کی لخت جگر کو دہشت گرد قرار دیکر اسکی لاش مسخ نہ کی جائے۔ اسیطرح کسی کی ماورائے آئین اغوا یا گرفتاری کے بعد ہی غروب آفتاب ممکن ہو پاتی ہے۔ ان تما م انسانیت سوز جبر کے باوجود بلوچستان کے لکھاریوں کے عنوانات میں امن کی جستجو اور آرزو کی طلب مگر یقینی نہ ہونے کی وجہ سے تذبذب کا شکار نظر آتی ہے۔
براہوئی جدید شاعری کا سورج جو 1960 سے جدید اور نئے رجحانات اور موضوعات لیکر طلوع ہوتا ہے۔ 80ء کی دھائی تک براہوئی جدید شاعری مکتبہ درخانی کے مذہبی رجحان سے نکلنے میں بلآخر کامیاب ہوتا ہے۔ جہاں سے شعوری طور پر رومانوی شاعری کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن بیسوی صدی کے آخری دوعشروں میں براہوئی جدید شاعری کئی فکری میلانات‘ سماجی رویوں‘ فرنگی سے قومی آزادی اور حقوق کی جنگ جیسے رجحانات لے کر رومانوی پیراھن سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔
براہوئی جدید شاعری کا واسطہ اور تعلق اس وقت امن اور آشتی سے جا ملتا ہے جب1998 میں چاغی میں واقعہ راسکو کی بلند چوٹیاں ایٹمی دھماکوں سے گونج اٹھتی ہے۔ تب سے براہوئی جدید شاعری میں امن کی آواز اور آذان سنائی دیتی ہے۔ براہوئی شعراء ایٹم کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے امن کی جستجو شروع کرتی ہیں۔ اور وہ ایٹم کو انسانیت کے خلاف قرار دیکر راسکو کی شہادت پر نوحہ پڑھتی ہیں۔
است ہشوکن داوڑ دنکہ ہشنگا چاغی
غم تا خلوکن داوڑ دنکہ خلنگا چاغی
ہستی ٹی کس داوڑ نیست مرو ننے آنبار
تینتو الوکن داوڑ دنکہ النگا چاغی(1)
دل ایسی جلی ہے جیسے چاغی کو جلا دیا گیا ہے
غموں نے ایسی وار کی ہے جیسے چاغی پر وار ہوا ہے۔
اس لئے براہوئی جدید شاعری میں بلوچستان کے پہاڑوں راسکوہ، چلتن، آماچ ، بطور ’’امن اور استقامت‘‘ کی علامت سمجھی جاتی ہیں اور جنہیں موضوع بنا کر نظم تخلیق کیے جاتے ہیں۔
ایسے ہی بولان، سیندک، ریکوڈک کوہلو اور گوادر کے لئے شاعر ہمیشہ آشتی کا طلبگار ہے مندرجہ بالاناموں کے لئے امن کی درخواست ہر شعراء نے کی ہے
چاغی اور نوشکی کے ایک نوجوان شاعرغمخوارحیات جو براہ راست ایٹمی دھماکوں کے متاثر علاقوں سے تعلق رکھتاہے اس واقعہ کے بعد حیات انسانی کے لئے اپنی زمین، گاؤں اور گھر کے لئے امن اور آشتی کے موضوع باندھتا ہے۔
کنا لوزاک ڈغار کن ندر
کنا شعراک امن نا پھل
کنا فکر بندغی نا فکر
حیات اٹ ای کنے
پگہ نا تاریخ اٹ
پدا خوانیس
ای تینا ڈیہہ نا تاریخ اٹ
میرے الفاظ دھرتی پر قربان
میرے اشعار امن کے پھول
مرا فکر انسانیت سے جڑا ہے
حیات ہوں اور مجھے
کل کی تاریخ
دوبارہ دہرانا بھی ہے


میں اپنی دھرتی کی تاریخ ہوں(2)
بابو عبدالرحمان کرد ‘ نادر قمبرانی اور گل خان نصیر یہ تینوں شعراء‘ فیض احمد فیض ‘ حبیب جالب اور شیخ ایاز کے ہم عصر تھے۔ جنکے اشعار امن کی دائی تھے۔ لیکن نا عاقبت اندیشوں کی پالیسیوں کی نظر انکا نظریہ امن کار آمد نہ ہو سکا۔ مگر آج جسطرح وطن عزیز کو امن کی تلاش ہے اور ان اشخاص کو ایک مرتبہ پھر مقدس مقام دینے کی کو شش ہو رہی ہے۔
وحید زہیر جو اپنی شاعری میں اتحاد اور اتفاق کی تلقین کرتا ہے۔ وہ ان سامراج سے مخاطب ہو تا ہے کہ اگر تم میری فلاح چاہتے ہو تو مجھے تعلیم دو۔ وہ ایک ہائیکو میں یوں گویا ہوتا ہے


کلاشنکوف ای خواپرہ
کنے خوانف کنا دوست اس؟
دا رازے کسے پاپرہ (وحید زہیر‘ کونٹ)
مجھے تعلیم دو میرے دوست
اگر اسے راز جانتے ہو
تو یہ راز راز ہی رہیگا۔
فاختہ جسے براہوئی میں گوگو یا ’’پین آ کپوت‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اسے اکثر امن کی تلاش میں گھائل ہوتے دیکھ کر براہوئی شعراء اپنی شاعری میں اسے مقام بخشتا ہے۔
دنزو مول خاخرتیٹ امن او خوشی گوہنگا
گگ تہارا جمرتیٹ امن او خوشی گوئنگا
مس دترچُر ہر گاما پین آ کپوت قاصد
وا ستم تا محشرتیٹ امن او خوشی گوئنگا (3)
گرد، دھواں اور آگ میں امن اور خوشی دھول ہے
اندھیری راتوں میں بادل سے امن اور آشتی منفی
ہر قدم خون آلود ہے یہ امن کی طالب فاختہ
ظلم اور ستم کی محشر میں امن اور آشتی بے نامُ نشان ہو گئے ہیں۔
براہوئی جدید شاعری میں امیرالملک مینگل یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ جب معاشرے میں حق اور سچائی کی باتیں کرنے والا کوئی نہیں ہوگا تب وہ معاشرہ تنزلی کی جانب گامزن ہوگا امیر اپنے دور میں امن کی متلاشی ہونے کے باوجود آخر کار مایوس ہوکر ’’انجیر کے پھول‘‘ کو علامت بناتا جو ایک خواب ہے۔ براہوئی ادب میں انجیر کا پھول ایک علامت ہے انجیر کے پھول کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے کہ انجیرکا پھول دیکھنا اس طرح امن بھی خوش بختوں کی قسمت میں ہوتی ہے۔
امیر رقمطراز ہے
راستگوئی جہاں سے اس طرح غائب ہے
جیسے انجیر کی پھول اور شہر میں امن(4)
کیونکہ اس پتہ تھا کہ
’’جب سے کلاشنکوف آئی ہے مشکلات بڑھ گئی ہیں
ہر گھر میں آہ وزاری کا سماں ہے
ہر کوئی غیرت اور عزت کے لئے روتا ہے۔
کیونکہ سرمایہ داری کا سماں ہے(5)
براہوئی جدید شعراء قلم اور کلاشنکوف میں واضح تمیز رکھتے ہیں انہوں نے قلم کی جگہ کلاشنکوف تھامنے والے اذہان اور افکار کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے کہ کوئی سامراج ہی ہے کہ میری ہاتوں میں قلم کی جگہ کلاشنکوف تھمانے کی شعوری کوشش کررہی ہے لیکن براہوئی شعرا نے اکثر اس کوشش کے خلاف آواز بلند کی ہے کہ اسے یقین کامل ہے کہ
’’مسلم ہے کہ بندوق سے روشنائی نہیں چھٹتی
سچا علم ہی کسی قوم میں فکری تبدیلی کا سبب ہوتا ہے(6)
اکیسویں صدی میں براہوئی کا ایک نوجوان شاعر ’’سائرعزیز‘‘ امن کی تلاش میں سرگرداں اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتا ہے کہ

امن اسے کن وطن زہیر
زہرے کر شکرے جتا
امن کے لئے دھرتی تشنہ ہے
زہر اور شکر میں فرق کریں(7)
بیچارا سائر عزیز ظلم اور جبر کے جنم سے چھٹکارہ پانے کے لئے وطن اور دھرتی میں امن عام کرنے کے بہانے اپنی بساط کے مطابق تلاش کرتا ہے کہ شاعری ہے جو امن لاسکتی ہے وہ ایک جاگہ رقمطراز ہے
شاعر امن کی پاسباں ہے
پھول اور چمن کی نگہبان ہے
ظلمت میں اضافہ دن بدن
شاعر ہی امن کی پاسباں ہے(8)
براہوئی جدید شعراء انسانیت کی فلاح اور بقاء کے لئے امن، آشتی کو نہایت لازمی عنصر خیال کرتے ہیں اس طرح قیوم بیدار نے انسانیت سوز مظالم کے محرک انسان ہی سے مخاطب ہوتا ہے۔
اے انسان نی انسان تیا ظلم کپہ
کرک داڑے بڑزا توارے امن نا (9)

حوالہ جات
۱۔ منظور بلوچ،برگشت، براہوئی ادب سوسائٹی کوئٹہ
۲۔ غمخوارحیات، آجوئی دتر خوائک، راسکوہ ادبی دیوان صفحہ ۹۸
۳۔ غمخوارحیات، ایضا۴۶
۴۔ امیرالملک مینگل،’’چلہ نا توبے‘‘ صفحہ ۷۶
۵۔ ایضا ۵۳
۶۔ غمخوارحیات صفحہ ۸۷
۷۔ سائر عزیز، دیر و خاخر، ۲۳
۸۔ایضاً ۳۷
۹۔ قیوم بیدار ، شمبلاخ ۲۴
10۔ وحید زہیر‘ کونٹ۔




قوموں کے عروج وزوال میں لیڈر شپ کا کردار  حمید بلوچ

کسی بھی قوم یا سماج کی ترقی میں اسکے تعلیمی، سماجی، سیاسی و معاشی نظام کے علاوہ گڈ گورنس کا خاصا عمل دخل ہوتا ہے لیکن اس حقیقت سے کوئی باشعور فرد انکار نہیں کرسکتا کہ ان تمام خوبیوں کو حاصل کرنے میں لیڈر شپ ایک اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ مخلص ، باشعور اور معاملہ فہم لیڈر ہی قوم کے لئے ترقی کے راستے کا تعین کرکے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے قوم کو آمادہ کرتا ہے اور اپنی بہترین ٹیم ورک کے ذریعے عوام کے ساتھ ملکر جدوجہد کرتا ہے اگر لیڈر شپ بے شعورو بے ضمیر ہوگا تو وہ قوم کے عروج کو زوال میں بدل ڈالے گا۔ دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ قابل لیڈروں نے اپنی ذہانت و قابلیت سے زوال پزیر قوموں کو کمال تک پہنچایا ایسے لیڈر تاریخ کے صفحوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ایسے لیڈر بھی ہمیں ملیں گے جنھوں نے چند ٹکوں کی خاطر اپنی ضمیر کا سودا کرکے قوم کے عروج کو زوال میں تبدیل کیا اور تاریخ میں ناکام اور قوم دشمن لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔
دنیا کے کامیاب لیڈروں میں ایک نام کوامے نکرومہ تھا ۔جب نکرومہ پیدا ہوا تو گھانا کے عوام غلامی کے استحصال زدہ دور میں زوال پزیری کی جانب گامزن تھی ۔ جب کسی قوم پر بیرونی طاقت قابض ہوجائے تو اس قوم کی نفسیات اور کردار پر منفی اثرات پڑتے ہیں وہ اپنے قومی شناخت کی جگہ قابض کی شناخت کو اپناتے ہیں یہی حال گھانا کا تھا ۔نکرومہ نے سامراجی قبضے اور قوم کے زوال کو محسوس کرکے سیاسی جدوجہد کا آغاز 1947ء میں کیا لیکن پارٹی کی ناکام پالیسیوں سے دلبرداشتہ ہو کر ایک نئی انقلابی عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی اور اسی پلیٹ فارم سے انقلابی جدوجہد کا آغاز کیا عوام اور قیادت کے درمیان رابطے کو برقرار رکھ کر عوام کو سامراج کے خلاف جدوجہد پر آمادہ کیا۔ عوامی حقوق کے لئے تحریکیں چلائی، عوامی جدوجہد سے 6 مارچ 1957 کو سامراج سے آزادی حاصل کی آزادی حاصل کرنے کے بعد عوام کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئی ، اعلی قیادت کی علم و بصیرت نے گھانا کے عوام کو آزادی دیکر ان کے زوال کو عروج میں بدلنے کا آغاز کیا اس سیاسی تبدیلی میں لیڈر شپ نے ایک اہم کردار ادا کیا جس کی مثال تاریخ کے صفحوں میں بہت کم ملیں گی۔ اسی سرزمین پر ہمیں ایک اور کردار نظر آتا ہے جس کا نام جنرل جوزف انکرہ ہے جو ایک عوام دشمن لیڈر کے طور پر سامنے آیا اور گھانا میں استحصالی ریاستوں کے اشارے پر عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر جبر کے ذریعے حکومت کرکے عوام کو ترقی سے دور کرکے اپنے فرسودہ نظام کا نفاذ کرتا ہے اور یہی فرسودہ نظام قوم کو زوال کی طرف لے جاتی ہے۔


21 ویں صدی میں دنیا میں ابھرتی ہوئی معاشی طاقت سے پہچانے جانے والے چینی قوم ’افیونی‘ کے نام سے مشہور تھی جسے طاقت وقت برطانیہ اور جاپان نے اپنی نوآبادیاتی بنا کر اپنے استحصال کا شکار کیا ان پر ظلم وجبر کے ذریعے حکومت کی سامراجی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے چین کو زوال کی طرف لے جانا چاہتے تھے لیکن ان طاقتوں کی بدقسمتی کہ وہاں ایک ایسے عوامی لیڈر کا جنم ہوا جس نے سامراجی منصوبوں کو خاک میں ملا کر عوام کو جینے کا گر سکھایا یہ لیڈر ماو زے تنگ تھا جس نے کمیونسٹ پارٹی کو انقلابی اصولوں پر گامزن کرکے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پروگرام دیا، عوام کو منظم کیا ماو کا شمار ان عظیم لیڈروں میں ہوتا ہے جو بہادر و علم کی دولت سے مالا مال ہونے کے علاوہ فیصلہ کرنے کی طاقت و صلاحیت سے بھرپور تھا۔ماو کی لیڈر شپ میں چین نے جاپان اور اس کے حواریوں کو شکست دیکر ایک آزاد ریاست قائم کیا اور اسی لیڈر شپ کی معاملہ فہمی بہادری مثبت عمل چین کو دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بنا کر سامنے لے آئی۔
لیڈر شپ کی ایک اور اعلی مثال فیڈرل کاسترو اور اسکے ساتھی ہیں، جنھوں نے امریکی سامراج کے کٹھ پتلی بتیستا آمریت کو للکار کر قومی ترقی کی راہ ہموار کی اس کے علاوہ ہوچی منھ، گاندھی ،نیلسن منڈیلا یہ دنیا کے وہ عظیم لیڈر تھے جنھوں نے قومی ترقی کے لئے ہمت و بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرکے دنیا کی تاریخ میں اپنا اعلیٰ مقام بنا گئے۔ اسٹالن کی معاملہ فہمی نے سوشلسٹوں کو نمایاں کامیابی پر گامزن کیا یہ لیڈر شپ کی خصوصیات تھی کہ جس نے قوموں کو سامراج کے ظلم وستم سے آزادی دی۔ ونسٹن چرچل جو برطانیہ کے سربراہ تھے ،بچپن میں ان کا شمار آئن اسٹائن کی طرح ناکارہ طالب علموں میں ہوتا تھا لیکن ان کی بلند حوصلے اور علم سے محبت نے اسے ایک عظیم لیڈر بنایا۔ اسی طرح ابرام لنکن ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک فرد تھا لیکن وہ امریکہ کا صدر بنا اوردنیا میں ایک عظیم لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ۔
مندرجہ بالا لیڈرز کا طرز عمل، معاملہ فہمی، برداشت ، مثبت سوچ ،علم سے محبت ان کی یہ خصوصیات قابل ذکر تھے ۔ قوم اور ملک کو بھی ان کی پالیسیوں نے ترقی دیکر اعلی اور بلند مقام پر پہنچایا۔عظیم لیڈروں نے ہر مقام پر معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرکے الجھے ہوئے مسائل کو حل کیا وہ اپنی تنظیم پارٹی اور جن کی وہ سربراہی کررہے تھے انکو اپنے کنٹرول سے کبھی نکلنے نہیں دیا اس لئے وہ خود بھی کامیاب ہوئے اور قوم کو بھی کامیاب کیا۔


آج بلوچ قوم کو بھی پاکستانی قبضے کے بعد سے اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے، اگر بلوچ قومی تحریک خدانخواستہ ناکام ہوئی تو اس کا مطلب صاف ہے کہ بلوچ قوم کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ دنیا میں بحیثیت ایک قوم کے غلامی کے خلاف مستقل مزاجی سے جدوجہد نہ کرنا قوموں کو زوال کی جانب لے جاتی ہے اور زوال سے مراد قوم کا ختم ہوجانا فنا ہوجانا اور کوئی بھی باشعور و تہذیب یافتہ قوم فنا کے نام سے نفرت کرتی ہے۔
آج بلوچ کے زوال اور عروج کا ذمہدار لیڈر شپ ہے بلوچ لیڈر شپ کیسا ہو یہ سوال ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس نازک دور میں لیڈر شپ کی غلطی بلوچ تحریک کو شدید نقصانات سے دوچار کرسکتی ہے۔ بلوچ لیڈر شپ عمدہ اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو کیونکہ بروقت فیصلہ کرنا دیر سے کئے گئے کئی اچھے فیصلوں سے بہتر ہے اگر خان آف قلات میر احمد یار خان پاکستان سے الحاق کے مسلئے پر بروقت جنگ کا فیصلہ کرلیتے تو آج بلوچ سرزمین کی صورتحال مختلف ہوتی لیکن وہ آخری لحمات میں بھی کوئی فیصلہ نہ لے سکے اور بلوچ قوم کو غلامی کے دلدل میں دھکیل دیا۔ بلوچ لیڈر شپ ایسا ہو جو مشکل اور نامناسب حالات میں فیصلہ کرنے کی سکت رکھتا ہو.۔بلوچ لیڈر شپ علم کی دولت سے مالا مال ہو کیونکہ بلوچ کا سامنا استحصالی ریاستوں سے ہے اور استحصالی ریاستیں کسی قوم کو ختم کرنے کے لئے صرف تشدد کا سہارا نہیں لیتی بلکہ وہ مختلف پالیسیوں کو استعمال کرتے ہوئے قومی تحریکوں کو ختم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک باعلم لیڈر اس مفاد پرستانہ دور میں اپنے سیاسی شعور کی بدولت اپنے قومی مفادات کا تحفظ باآسانی کرسکتا ہے۔


بلوچ لیڈر شپ اپنے پارٹی کے مضبوطی و سیاسی طاقت پر توجہ دیں کیونکہ پارٹی کی مضبوطی تحریک کی مضبوطی ہے۔پارٹی میں ممبران کی زیادہ سے زیادہ سیاسی تربیت کریں ،ممبران کو سیاسی مراحل سے گزاریں اور ان کو سیاسی ذمہ داریاں دیں تاکہ سخت وقت میں ممبران پارٹی کے قیادت کرنے کے اہل ہوں اور تمام ممبران کو ایک نظر سے دیکھیں کسی بھی صورت میں کارکنوں کے درمیان فرق نہ کریں اگر لیڈر کارکنوں کے درمیان تفریق کریں گے تو یہ رویہ پارٹی میں عدم اعتماد کے رجحان کے فروغ کا سبب بنے گا۔
بلوچ لیڈر شپ کو معاملہ فہم ہونا چاہیے، کیوں کہ معاملہ فہمی کے بغیر لیڈر شپ اگر کوئی فیصلہ لیتی ہے تو اس فیصلے کے بجائے یہ کہ مثبت اثر کے، منفی اثرات قوم کے لئے نقصان کا باعث بنیں گے۔اس سخت حالت میں اگر لیڈر شپ بروقت فیصلے کرے اور قوم کی رہنمائی کے لئے متحرک ہوجائے، تو تمام چیلنجز سے بلوچ قوم کو نکال سکتی ہے، کیوں کہ بلوچ مجموعی طور پر آزادی پسندوں کے فیصلے کا احترام کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہے۔




انسانی نشوونماء کی اہمیت اور عمل پر اس کے اثرات ڈاکٹر جلال بلوچ

ہر شعبہ زندگی میں اکثر کام ایسے ہوتے ہیں جن میں انفرادیت کا عنصرشامل ہوتا ہے۔اس کے پس پردہ بہت سارے عوامل ایسے ہوتے ہیں جو انفرادیت کے اس عنصرکی انسانی دماغ میں پرورش کرتے ہیں وہ چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہواس میں اس کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ کچھ ایسا کرجائے جو اس کی پہچان بن جائے۔ انسانی کام جوانفرادی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی اس میں انفرادی کردار اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس حوالے سے بہت ساری مثالیں موجود ہیں جنہوں اپنے اعمال سے دنیا کو نئے رنگوں سے نوازا۔ اگر ہم دنیا میں اصولوں(Theories)کی بات کریں انہیں پیش کرنے میں انفرادی کردار کا ہی عمل دخل ہوتا ہے لیکن آگے چل کر یہی اصول ذہنوں پر اجتماعی اثرات مرتب کرنے کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں اور لوگ انفرادی اور اکثر اجتماعی زندگی کو صحیح سمت دینے کے لیے انہیں اپناتے ہیں ۔جیسے مذہب سے وابستہ اصول جنہیں انبیاء کرام ؑ نے پیش کیے اور انہیں سماج نے اپنایا، مختلف ادوار میں مفکرین کی وضح کردہ اصول جیسے معیشت کی دنیامیں کارل مارکس کا نظریہ اشتراکیت جس نے دنیا میں ایک انقلاب برپاء کیا جس کی وجہ مظلوم اور ظالم کے درمیاں خلیج اتنی بڑھ گئی کہ اس سے ریاستوں کانئی سمت میں جنم ممکن ہوا، روسو ، لاگ اورہابس نے انسان کو یہ سوچ دی کہ سماج نے ریاستوں کی شکل اور اپنے اختیارات ریاستوں کو کیسے سونپ دی(نظریہ عمرانی)، ارسطو نے نئی سیاسی سوچ دی جس نے آنے والے دنوں میںیونان کو متحدکرنے کی جانب گامزن کی، نفسیات کی دنیامیں سگمنڈ فرائڈ نے ایسی راہیں متعین کیں جس نے انسانی دنیا میں انسان کے کردار اور اس کی نشو ونماء اور اسے پرکھنے کا زاویہ دیا۔ ان کے علاوہ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو مختلف موضوعات میں ہمیں ایسے کردار نظر آ ئینگے جنہوں آنے والوں کے لیے راہوں کا تعین کیاجن پہ عمل پھیرا ہو کے انسان نے دنیاوی زندگی کا نقشہ بدل دیا۔
ہما را موضوع سماجی رویوں اورانسانی نشونماء سے متعلق ہوگا جس میں انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں، وجوہات اور سماج پہ اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائیگی ۔
کسی مسلئے کی تخصیص اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی محرکات سامنے نہیں آتے ۔ انسانی کردار اور رویوں کو دیکھنے ، پرکھنے ، سمجھنے اور ان کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ جب ہم کوئی کام یا کچھ نیا کرنے جارہے ہوں تو سب سے پہلے اپنی صلاحیتوں کو دیکھیں کہ جو میں کرنے جارہا ہوں آیا اس کام کو کرنے کی صلاحیت مجھ ہے یا نہیں، اگر نہیں تو وجوہات کیا ہیں یا کسی کو جب کوئی ذمہ داری سونپ رہے ہوتے ہیں تو اس میں بھی انہی باتوں کا خیال رکھناہوگاکہ جسے ذمہ داری سونپی جارہی ہے آیا وہ اس معیار پہ پورا اترتا بھی ہے کہ نہیں؟ اس پہ منطقی بنیادوں پہ سوچھے ، سمجھیں اور جب کسی نتیجے پہ پہنچوں تب جا کے کوئی فیصلہ کرنا۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں آپ جب کام کی نگرانی کرتے ہیں تو وہ ان توقعات کی رو سے ہوتی ہیں جو آپ نے وابستہ کی تھی اور اگرصلاحیتوں کو پر کھے اور سمجھے بغیر کسی کو ذمہ داری دی جائے جو اکثر دیکھنے میں آتا ہے تو ہم مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرپاتے جس کی آس لگاتے ہیں ۔ہم اکثر جذبات کی رو میں بہتے ہیں لیکن زندگی فقط جذبات کا نام نہیں بلکہ عملی زندگی تو منطق کی بات کرتی ہے جو جذبات کی نفی ہے۔
انسانی جبلتوں کے اس عمل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انسانی نشوونماء ، تربیت اور اس کے ماحول کو دیکھیں۔ جو مختلف مراحل سے گزر تی ہے جس کے اثرات انسانی صلاحیتوں پر پڑتے ہیں۔
اصولوں کی رو سے انسانی نشوونماء پانچ بنیادی مراحل سے گزرتی ہے۔
۱۔شکنِ مادر سے لیکر ۲سال تک کا دورانیہ:۔
(الف)شکن مادر:۔ ماہ کی کوکھ انسان کی پہلی درسگاء ہوتی ہے ۔ ۹ ماہ کا یہ دورانیہ جہاں بچہ نشوونماء پارہا ہوتا ہے اس میں ۱۶ ہفتوں کے بعد کا دورانیہ انتہائی اہمیت کا حامل کا حامل ہوتا ہے جہاں خوراک ، ماحول اور رویوں کے اثرات برائے راست شکنِ مادر میں موجود طفل پر پڑتے ہیں ۔ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اس دوران ماں کو جیسا ماحول میسر ہوگا اس کے اثرات عملی زندگی میں بڑی حد تک آنے والے انسان کے کردار کا حصہ ہوتے ہیں ۔
(ب) شیرخواری کادورانیہ:۔ “اور مائیں دو سال تک اپنے بچوں کو دودھ پھیلاتی رہیں”(القران) آج کے سائنسی دور میں ماہرین کا کہنا بھی یہی ہے کہ ماہ کی دودھ بچے کی اچھی صحت کی نشوونماء کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔اس سے بچے کی جسمانی ساخت مضبوط ہوتی اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے جس سے وہ بیماریوں سے لڑنے کے قابل ہوجاتا ہے اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں بچے کی ذہنی ساخت کا دارومدار جس میں اس کی IQ پاور،اور مدافعتی نظام کی صلاحیت، کام میں تھکاوٹ یا چستی وغیرہ سب کا دارومدار اسی دورانیہ کی پرورش اور نشوونماء پہ انحصار کرتی ہے۔
۲۔دو سے پانچ سال تک کا عرصہ:۔

Gaining a few more years of healthy life would be great for individuals, but expensive for Medicare, researchers say.

اس دورانیہ میں بچہ چونکہ بات کرنے اور انہیں سمجھنے کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔گھر میں دیگر افرادکے ساتھ بھی وہ گھل مل جاتا ہے اور خصوصاً والدین سے جیسا ماحول بچے کو میسر ہوگا آنے والے دنوں میں اس کے دوررس تنائج اس کی شخصیت پر پڑتے ہیں ۔ کیونکہ بچہ گھر میں ہونے والی حرکات اور رویوں کو نوٹ کررہا ہوتا ہے اور ساتھ میں انہیں ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے جواس کی عادت بن جاتی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں تمام باتوں کو مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ ایک ہی گھر میں ایک ہی ماحول میں پرورش پانے والے بچوں کی طبعیت اور خصلت ایک دوسرے سے جدا ہوسکتے ہیں اس کی وجہ شکنِ مادر اور شیر خواری کا دورانیہ بھی ہوتا ہے اور گھر میں اس وقت کا ماحول بھی کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے جو اس کی عادات اور رویوں پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔
۳۔ سکول جانے کا دورانیہ یا ماحول میں دوستی کی عمر:۔
بچہ جب پانچ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو پہلی مرتبہ اسے گھر سے باہر قدم رکھنے کا موقع میسر آتا ہے ۔جہاں اس کے نئے دوست بنتے ہیں سکول ایج(School Age)یا دوست بنانے کی عمر کا انسانی رویوں اور اس کی شخصیت کو بنانے میں بڑااہم کردار اداکرتاہے۔ اس عمر میں بچہ چونکہ۶سے ۸ گھنٹے گھر سے باہر رہتا ہے لہٰذاوہ باہر ہونے والی حرکات کا بخوبی مشاہدہ کرتا ہے جنہیں بڑی حد تک نقل کرنے یا ان کے بارے میں سوچنے اور سوال کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ہمارے ہاں اکثر بچوں کا جو غیر متوقع سوال کرتے ہیں اس ڈر سے والدین اور گھر کے دیگر افراد جواب نہیں دیتے یا انہیں مطمئن نہیں کرتے کہ کہیں یہ ساری عادتیں وہ اپنا نہ لیں ۔ لیکن انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ انسان فطرتاً تجسس پسند ہے اور جب تک اسے اپنے سوال کا جواب نہیں ملتا وہ خاموش بیٹھنے والا نہیں انسان کی یہی تجسس پسندی اور رویہ اسے یہ سوال دوسروں سے یا اپنے ہمنواؤں سے کرنے پہ اکساتاہے۔ اور بعض اوقات جب اسے کہیں سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملتا تو وہ خود اپنی بساط یا کبھی کبھار اس سے بھی بڑھ کر اس کی کھوج لگاتا ہے ۔اب وہاں سے جواب چاہے جیسا بھی اسے ملے اکثر اوقات وہ اسے قبول کرتا ہے جو اس کی شخصیت پہ اثر ڈالنے کا پیش خیمہ ثابت ہوتاہے۔
۴۔ بلوغیت کی عمر:۔
انسانی کردار اور اس کو سمت دینے میں انسانی نشوونماء کا یہ دورانیہ یعنی بلوغیت کی عمر سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔اس عمر میں انسان شعوری اور منطقی بنیادوں پہ سوچنے کے مرحلے سے گزررہا ہوتا ہے یعنی وہ ابھی شعور اور منطق کی اس بنیاد پر نہیں پہنچ پایا جہاں صحیح اور غلط میں اصولی تمیز کر سکے۔ لہٰذا اس عمر میں جہاں انسان کی ذات میں چھپی ہوئی خواہشات جاگتے ہیں جو صحیح اورغلط دونوں جانب لے جانے کا سبب بنتے ہیں اس میں اس ماحول کا کردار سب سے نمایا ں ہوتا ہے جو اسے میسر ہو۔ اگر ماحول مثبت انداز میں سفر کررہا ہے تو انسان مثبت سوچ کا حامل ہوگا اور اگر ماحول میں کوئی دراڑ ہے تو اس کے اثرات آنے والے دنوں میں اس کی شخصیت میں نمایاں ہونگے۔ ایسا بھی نہیں کہ اس ماحول کہ بعد کوئی انسان تبدیل ہی نہ ہو۔بعض شخصیات جنہوں نے انسانی تاریخ میں نمایا ں کردار ادا کیے ہیں ان کو یا ان کی ذات کو تبدیل کرنے کے لیے کسی بھی عمر میں کوئی چھوٹا سا واقعہ اور سوچ بچھار ان کی شخصیت میں تبدیلی کا سبب بنا ہے۔اس حوالے سے ماہرین کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ اکثر یت ماحول کاشکار ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔
۵۔ عملی زندگی:۔
انسان کی شخصیت کا آخری پہلو اس کی عملی زندگی میں قدم رکھنے سے شروع ہوتی ہے جہاں اسے سماج اور اپنے محدود ماحول میں نت نئی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے ۔ بیان کی گئی چار پہلو ؤں کوانسان کی عملی زندگی اور اس کی شخصیت کو نکھار نے ،سنوارنے یا بگاڑنے میں بڑا اہم کردار ادا ہے ۔ انسان جوں ہی اس مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو زندگی اچانک تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔اس مرحلے میں انفرادیت کا شکار لوگ اپنی ذات اور چھوٹے سے ماحول جو اس کے اپنے گھر یا چند خاص دوست احباب تک محدودہوتاہے اس بھنور میں اس کی زندگی کا پہیہ گردش کرتا ہے ۔جس میں اسے ہر وقت اپنی ذات یا کسی حد تک اس چھوٹے سے ماحول کی فکر لاحق ہوتی ہے اور اپنی ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی تگ و دو میں زندگی گزارنے کو اپنا مقصد حیات بناتا ہے۔
جب کہ ہر سماج میں ایسے افراد بھی نمایاں تعداد میں ہوتے ہیں جو اجتماعیت کی جانب روبہ سفر ہوتے ہیں ۔ ان کی سوچ کا محورسماج اور سماج میں بسنے والے ، ان کی زندگی کا مقصد ان کی ضروریات پوری کرنا ، ان کو اجتماعی سوچ کوجانب گامزن کرنا، پورے معاشرے کو تبدیلی اور ترقی کی راہ دکھا نا اور اس راہ میں ان کی رہنمائی کرنا، اس راہ میں اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر ہراول کا کردار خود نبھانا۔ الغرض اجتماعی سوچ کی جتنی بھی خصوصیات ہیں ایسے افراد میں بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں ۔یہی وہ افراد ہوتے ہیں جو آگے چل کر سماج کے حقیقی رہنماء بن جاتے ہیں۔
انسانی نشوونماء اور تربیت کے جتنے بھی پہلو بیاں کی گئی ان کا انسان کی شخصیت ،اس کے رویوں اور اس کے کردار پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان تمام پہلووں کا ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک مرحلے کو نظر انداز کرنا اس سے روگردانی کرنا قطاً درست فعل نہیں۔کیونکہ کسی بھی قوم کے مستقبل کے ستاروں کا دارومدار ان کی تربیت اور نشوونما ء ہوتی ہے۔
سماجی تبدیلی یا ارتقاء سست روی سے منزل کی جانب بڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ ہونے والی تبدیلی کے محرکات سامنے آنا شروع ہوتے ہیں ۔ تبدیلی کی رفتارکا تعلق سماج میں رونماء ہونے والے واقعات اور سماج کا ان کی جانب توجہ اور رویہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ سماج اگر ان تبدیلیوں کو ذہنی طور پہ قبول کرتاہے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں میں مثبت اندزا میں منتقل ہونا شروع ہوتے ہیں ۔ اورجہاں ان واقعات اور تبدیلیوں سے روگردانی کی جاتی ہے تو اس کے منفی اثرات کا مرتب ہونا فطری عمل بن جاتا ہے۔
سیاسی تبدیلی جس کے لیے صبر آزماء محنت اور جدوجہد کی ضرورت پڑتی ہے رہنماوں کے بیانات یا ان کی بات چیت جواکثر مشاہدے میں آتا ہے کہ ہر حال میں جہد مسلسل کوسلسلہ برقرار رہنا چاہیے۔ دراصل انہیں اس بات کی جانکاری ہوتی ہے کہ جب تک آنے والی نسلوں کو کام کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا اس عمل کو اس وقت تک جاری رکھنا چاہیے۔ جب عمل اور کام کی جانکاری آنے والی نسلوں کو منتقل ہوتی ہے تو جد و جہد کا سلسلہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک عمل کے میدان میں شامل افراد اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پاتے۔ اور دوسرے مرحلے میں جو تعمیر و ترقی کا مرحلہ ہوتا ہے اس میں ان اقوام نے مثبت پیش رفت کی ہیں جنہوں نے پہلے مرحلے میں(جہاں افراد کی ذہنی نشو ونماء اور ان کی توجہ عمل کی جانب مبذول کرانا ہوتا ہے ) اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
سماجی علوم کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان جب بڑے پیمانے پہ کوئی اجتماعی یا سماجی عمل شروع کرتا ہے تو اس کے اثرات ۲۰ سے ۲۵ سال کے دورانیہ میں اپنا اثر دکھانا شروع کرتی ہے بشرطیکہ عمل کا تسلسل منظم انداز میں برقرار رہے ۔ اگر اس دورانیہ سے کم مدت میں عمل کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے تو دوبارہ نئے سرے سے کام شروع کرنا پڑے گا ۔عمل منظم یاغیر منظم جس انداز میں برقرار رہتی ہے تو سماج پر اس کے اثرات اسی انداز میں پڑتے ہیں کیونکہ سماج کے ہر آنگن میں عمل سے وابستہ افراد کے کردار اس گھر کا موضوع بحث بنتے ہیں ۔اگر مثبت پیش رفت ہوں تو اس سے جنہوں نے آگے چل کر انہی کرداروں کو نبھانا ہوتا ہے بڑی جانفشانی اور محنت سے اپنے حصے کی ذمہ داریاں اور فرائض سرانجام دیتے رہیں گے اور اگر عمل میں ابہام ہو تو اس سے لوگ راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے اگر ہم انسان کی سیاسی تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ اور مشاہدہ کریں تو مختلف ادوار اور مختلف معاشروں میں رونماء ہونے والے واقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہماری نظروں سے گزرتا ہے۔ ان کی جدوجہد کا تسلسل اور اس دوران ان کے سماجی رویے ، ان کی کامیابی یا ناکامی کی وجوہات،غرض تمام پہلو سامنے آتے ہیں جو ان کے سماج کو متاثر کرنے کا سبب بنے تھے۔
جیسے ہندوستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ۷۱۲ء جب عربوں نے ہندستان پر حملہ کیا تو اس وقت راجہ داہر اور بھیم سنگھ کی جانب سے مزاحمت تو کی گئی پر وہ ایک مختصر مزاحمت تھی۔ جو آنے والے ہر دور میں اپنایا گیا۔ لیکن ہزار سال سے زائد عرصے تک وہ غیر منظم انداز میں کام کرتے رہیں جس کی وجہ سے تسلسل کو برقرار نہ رکھ سکیں۔ جس کا فائدہ کھبی تغلق، کبھی غوری ، کبھی غزنوی ، کھبی لودی، کبھی مغلوں تو کھبی انگریزوں نے اٹھایا۔ جس کی وجہ سے ۱۳ سو سال سے بھی بڑا عرصہ گزرا انہیں اپنی کھوئی ہوئی آزادی واپس لینے میں۔
جد و جہد طویل ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عمل میں کتنی پختگی ہے ۔ منظم انداز میں ہونے والی جد و جہد سے اول تو کہیں مایوسی کے آثار دیکھتے نہیں اگر ہوں بھی تو ان کا ازالہ ممکن ہوتا ہے ۔
بلوچ جد و جہدِ آزادی کی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو اس میں بھی گزشتہ ادورار میں ناکامی کی وجوہات جو سامنے آتی ہیں وہ یہی ہیں کہ ہمارے رہنماء اپنے اپنے زمانے میں ہونے والے عمل کو طول دینے میں ناکام رہیں جس سے قوم کھبی تاجِ برطانیہ کی غلامی میں رہا اور آج پاکستان کی غلامی میں زندگی بسر کررہی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے کے دوران اس کا تنقیدی جائزہ انتہائی ضروری ہے جو آنے والے دنوں کے لیے بہتر منصوبہ بندی، اپنے اور مخالفیں کے سماج اور مقاصد کا بہتر تجزیہ اورعمل کے دوران ہونے والی غلطیوں کا جائزہ وغیرہ میں اچھی پیش رفت ثابت ہوتی ہے ۔ اس حقیقت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا کہ کسی بھی سماج میں کمزوریاں موجود ہوتی ہیں وہ چاہے آزاد سماج ہو یا غلام ۔ بلوچ تحریکِ آزادی میں بھی کمزوریاں دیکھنے میںآتی ہیں ۔ بلوچ جہدِ آزادی میں جو سب سے بڑی کمزوری اس وقت مشاہدے میں آتی ہے وہ ہے اداروں کا اس انداز میں منظم نہ ہونا جو وقت و حالات کا تقاضا ہوتا ہے ۔ اداروں کی بات اس لیے اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ Human Resource کی مکمل ذمہ داری جماعتوں میں موجود ان اداروں کے ذمہ ہوتی ہیں ۔اگر ادارے مضبوط ہوں تو قوم کی ذہنی تربیت اور نشونماء بہتر طریقے سے ہوسکتا ہے جن کے اثرات سے قوم کا مستقبل وابستہ ہے ۔اگر حال میں ہونے والے عمل کے اثرات مستقبل کے معماروں پہ مثبت انداز میں پڑیں گے تو کامیابی مقدر ہوگی۔ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا بلوچ جہد کاروں کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے کیونکہ اقوام کسی ایک پلیٹ فارم پہ جو کہ خود ایک صبر آزما ء مرحلہ ہوتاہے اس وقت تک جمع نہیں ہونگے جب تک فیصلے فرد سے اداروں کو منتقل نہیں ہوتے ۔ان خامیوں کے باوجو د جو سب سے بڑی کامیابی جوملی ہے وہ ہے۱۷ سالہ جہدِ مسلسل ۔ان کمزرویوں کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ بلوچ تحریک آزادی پچھلے تمام ادوار کی تحریکوں سے زیادہ منظم انداز میں کام کررہی ہے ۔ اس حوالے سے ہر جماعت کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اپنے اداروں کی منظم انداز میں صف بندی کریں جس سے سماج کے ہر آنگن تک پہنچنا اور انہیں عمل کا حصہ بنانا ایک مرحلے پہ حقیقت کا روپ دھار لے گا۔
نو آبادیاتی نظام میں جہاں انقلابی جماعتوں کے کارکنوں کوتکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جیسے آج بلوچ جہد آزادی کے جمہوری سیاسی پارٹیوں کا قبضہ گیر ریاست کی جانب سے کالعدم قرار دیناایسے میں سماجی رویوں کو جانچنے کا عمل یقیناً مشکل ہوگالیکن ناممکن نہیں اور جب تک سماجی رویوں کو پرکھا نہیں جائے گا سماجی تبدیلیوں کے حوالے سے آنے والے دنوں کے لیے لائحہ عمل بنانا ممکن نہیں ہوگا۔ کامیابی سے منزل کی جانب گامزن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی کارکن سماج کا سائنسی بنیادوں پہ مشاہدہ کریں اس کے لیے پہلی شرط سماج کے اندر رہتے ہوئے سماج میں گھل میں جانا:جس سے ہمیں سماج کے رویوں اور ان میں تبدیلیوں ، اور اپنی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کا ازالہ کرنے میں دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا۔ پارٹیاں اگر اس عمل کو بخوبی سر انجام دینے کے مرحلے میں کامیاب ہونگے تو آنے والی نسلوں میں عمل کے حوالے سے مثبت سوچ پروان چڑھنا مقدر بنے گی۔
بلوچ جہدِ آزادی آج جس نہج پہ پہنچ چکی ہے جہاں شاید ہی کوئی آنگن ہوں جہاں تحریک کی بابت گفت و شنید نہ ہوں ۔اب آنے والی نسلوں پہ عمل کے اثرات کا دارومدار آج کے سماجی رویوں پہ منحصر ہے۔اگر رویے جہد عمل کے حق میں ہیں تواس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور اگر انسانی سوچ کا پہلو قوتِ مخالف کی جانب ہیں اور ان کے تدارک کے لیے عملی طور پہ اقدامات بھی نہ ہوں تومسائل اور مشکلات کے بھنور میں پھنسنا یقینی ہے۔
آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے جو عمل کے تمام مراحل کا بخوبی علم رکھنے کے ساتھ انہیں منطقی بنیادوں پہ عملی شکل دینے کے لیے ہر صبر آزماء امتحان سے گزرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔




ڈیرہ غازی خان نئے حالات کے تناظر میں گل ہانی بلوچ

ڈیرہ غازیخان مقبوضہ مشرقی بلوچستان کا آخری سیم و حد ہے ۔یہ ریجن اپنی اس خاص محل وقوع کی وجہ سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔جس طرح اسکی محل وقوع خاص اہمیت کے حامل ہے اسطرح اس ریجن کے حالات وقت کے ساتھ ساتھ فوجی مقاصد کے تحت بدلتے رہتے ہیں۔ اسکے وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔
-یورینیم بہتات والا ریجن کوہ سلیمان۔
-سیمنٹ ،تیل و گیس فارمیشن والا ریجن کوہ سلیمان ۔
-میزائل پراجیکٹ۔
-نوآبادکاری۔
-فوجی کینٹس۔
-عوامی انقلاب کا خطرہ۔
پاکستان نے حال ہی میں یہ پراجیکٹ لانچ کئے ہیں اور کچھ تو پاکستان کو انگریز آقا کی طرف سے وراثے میں ملے ہیں۔جو لانچ کردہ پراجیکٹ ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں
۱)پُھگلہ اور بغلچر پراجیکٹ
پاکستان ایٹمی پاور کوہ سلیمان کے ریجن سے ہوا اور یہاں یورینیم کی بہتات کی وجہ سے اسکے وہاں پراجیکٹس بھی زیادہ ہیں اورہر پانچ سال میں تقریبا ایک نئی پراجیکٹ کی شروعات ہوتی ہے۔پھگلہ پراجیکٹ ایک نئی پراجیکٹ ہے ۔جہاں اس سال کام کی شروعات ہونے والا ہے حالانکہ پھگلہ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر زین ایٹامک پراجیکٹ پچھلے تیس سالوں سے کام کر رہی ہے۔کوہ سلیمان ریجن میں یورینیم کے low Grade والے پہاڑ تو بہت ہیں مگر ان پہاڑوں کے سلسلے بہت کم ہیں۔ اس ریجن میں یورینیم کے High Grade والے پہاڑ کم مگر انکے سلسلے گہرے اور لمبے فاصلے والے ہیں۔یاد رہے یہاں یورینیم زرد رنگ کا ہوتا ہے جسے جیو لوجیکل سروے آف پاکستان ایٹامک انرجی کمیشن کی کوڈ زبان میں Yellow Cake کہتے ہیں اور یہ سب سے طاقتور یورینیم ہے جس سے صرف ایٹمی میزائل بنائے جاتے ہیں۔بغلچر پراجیکٹ نوے کے آخری عشرے میں بند کردیا گیا تھا۔جسے اب پچھلے ماہ پاکستان آرمی اور پاکستان ایٹامک انرجی کے اہلکار سروے کر گئے ہیں اور حال ہی میں آرمی کی چھ اور چار رازشن کی گاڑیاں بغلچر کے نزدیکی علاقہ تھولغ ڈگر مٹ چانڈیہ میں پہنچ کر کیمپ لگایا دیا گیا ہے۔


کیڈٹ کالج
ڈیرہ غازیخان کے صحت افزا مقام فورٹ منرو ہے جسکی بلندی 6300 فٹ ہے۔پچھلے سال 14 اگست کو جب فرنٹیئر کور اپنی حدود کو تجاوز کرتے ہوئے فورٹ منرو میں لوگوں کو جھنڈیاں لگانے اور جشن منانے آئے توبلوچ لبریشن آرمی نے حملہ کرکے ان کے چودہ اہلکار ہلاک کر دیے۔اس حملے کے تین ماہ بعد فورٹ منرو میں کیڈٹ کالج کے نام سے سروے شروع ہوا۔اس واقعے کے فورا بعد سروے اور کیڈٹ کالج کا نام مگر حالات و واقعات سے یہ کینٹ سے کچھ کم نہیں ہو گا۔
آرمی سلیکشن سنٹر
یہ سلیکشن سنٹر پہلی دفعہ کوئٹہ روڈ عقب کچھی کینال ڈیرہ غازیخان میں قائم کیاگیا ہے۔ اس ریجن میں جتنے بھی آرمی کی بھرتیاں ہوتی تھی ان تمام کا سنٹر کوئٹہ کینٹ یا ملتان کینٹ ہوا کرتا تھا اسکی وجہ یہ تھی کہ یہ ریجن ایٹامک کی روزگار سکیم کی وجہ سے اتنا خوشحال ہے کہ یہاں آرمی سلیکشن سنٹر تک نہیں ہے اور اگر قائم کر بھی دیا جائے تو اتنی خوشحالی کے باوجود اس سنٹر کی طرف کون بدبخت منہ موڑے گا،یہ دعوے ،نعرے،خوش فہمیاں،بہکاوے،لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں۔حالانکہ اس پورے ریجن کے نوجوان آرمی،ایف سی اور دبئی سعودی میں زریعے معاش کمارہے ہیں ۔اسی سال چودہ اگست حملے کے بعد اس شہر میں سلیکشن سنٹر قائم کر دی گئی ہے۔
فوجی مقامات
ڈیرہ شہر سے سولہ کلومیٹر کے فاصلے (بمقابل ائر پورٹ اور آرمی کینٹ )پربمقابل پٹرولنگ ہائی وے پولیس ہیڈ تھانہ کے سامنے آرمی نے محکمہ جنگلات سے 48 کینال زمین نوے سالہ لیز پر لے لی ہیں ۔جہاں آرمی نے ایک چھوٹا سا مارکیٹ اور ایک اپنی عسکر پیٹرول پمپ بنایا ہے ۔اس مارکیٹ اور پمپ میں کام کرنے والے لوگ تمام کے تمام اندرون پنجاب سے ہیں ،شہر سے سولہ کلومیٹر دور مارکیٹ کے اس پاس کوئی آبادی نہیں ہے تو مارکیٹ کے مقاصد کیا ہوں گے۔۔۔۔؟اندرون پنجاب کے لوگوں کے اس پمپ اور مارکیٹ میں کم اجرت(بقول ورکرز) پر کام کرنے کے مقاصد۔۔۔۔؟اور اسی کے عقب میں ٹول پلازہ کے ساتھ ایک جنگل نما کیمپ جہاں ظاہرا کچھ نہیں ہے مگر اس کیلئے اس کے ساتھ ایک گریڈ اسٹیشن ہے۔اس جنگل نما کیمپ پہ آرمی کی کیمپ کوڈ نمبر لگا ہوا ہے۔اس جنگل نما کیمپ کو 2008 میں بنایا گیا تھا۔یہ دونوں مقامات دالان میزائل پراجیکٹ،آرمی کینٹ،ائر پورٹ،ایٹامک مین کیمپ اور سخی سرور کینٹ ہر اطراف میں پانچ پانچ کلومیڑ کے فاصلے پر ہیں۔
سرنگ پراجیکٹ
ڈیرہ غازیخان سرزمین میں سرنگیں اس وقت شروع کی گئی ہیں جب مشرف کے دور میں منموہن سنگھ نے مشرف کو دھمکی دیتے ہوئے یہ کہا کہ مجھے گدائی(گدائی کوئٹہ روڈ پر واقع اندرون سٹی ایک روڈ جنکشن کا نام ہے اور اسی گدائی کے قریب ایٹامک مین کیمپ ہے جو 1965 کو بنایا گیا ہے) کی دھمکیا ں مت دیا کرو۔اس دھمکی کے بعد ایٹامک نے فوجی مقاصد، اپنی نقل و حرکت،اور انڈر گراونڈ یورینیم کوہ سلیمان کے کچھ علاقوں سے نکا لنا شروع کردیا ہے جو شہر سے قریب ہیں ۔انڈر گراونڈ یورینیم نکالنے کا فائدہ یہ ہے کہ نہ ہم یورینیم نکال رہے ہیں نہ عوام مانگے گی(نہ رہے گا ڈھول نہ بجے گی بانسری)۔یہ سرنگ ایٹامک مین کیمپ سے نکلتے ہوئے آرمی سلیکشن سنٹر پہلا جنکشن ،دوسرا جنکشن دالان روڈ کے قریب خاردار باڑجو ظاہرا شکار گاہ ہے ،تیسرا سرنگ ٹول پلازہ کے عقب میں جنگل نما کیمپ ،چوتھا دالان کینٹ،پانچواں بغلچر ایٹمامک پراجیکٹ ہے۔اور اب پاکستان ایٹامک انرجی کمیشن زیادہ زور سرنگ پالیسی پہ دے رہی ہے چونکہ اسکے فوائد زیادہ ہیں۔
نوآباد کاری
اگر کسی قوم کو اسکی سرزمین میں زندہ ختم کرنا ہے تو اسکے تین طریقے ہیں
۱۔آقا کو عقل کل سمجھا جائے ۲۔قوم کونشے میں مبتلا کر دیا جائے ۳۔نوآباد کاری کر دی جائے
انگریزوں کے دور میں ڈیرہ جات پر مکمل کنٹرول انگریز آرمی کی تھی تو یہ علاقے قلات سے انتظامی بنیادو ں پر الگ کیے گئے۔قیام بلوچستان تک یہ علاقے یا تو لیزڈ ایریا میں آتے یا پھر ڈائریکٹ انگریز کے کنٹرول میں تھے۔اسی طرح ڈیرہ غازیخان ڈائریکٹ انگریز کے کنٹرول میں تھا اور قیام کے ساتھ ڈیرہ جات کو قانون بلوچستان میں شامل کیاجاناتھا مگر توڑو اور حکومت کرو کی پالیسی اس کے برعکس تھا۔ڈیرہ شہر میں پہلی نو آبادکاری انگریزوں نے1947 میں انڈین آرمی کے لوگوں کی کروائی تھی۔اس شہر میں انڈین آبادکاریوں کی ایک زبردست آبادی ہے جو شہر کے وسط اور شہر کی سب سے بڑی انگریزوں کی کنسٹرکٹڈ کالونیوں میں آباد ہیں۔اس شہر کے بلدیاتی اسمبلی میں میئر بلوچ اور ڈپٹی میئر مہاجرہوتا ہے۔ کوئٹہ کی طرح میئر بلوچ اور ڈپٹی میئر پٹھان ہوتا ہے ۔دوسری نوآباد کاری پاکستان نے اس وقت کی جب انڈیا کے مشرقی بہار میں 1970 میں ہندو مسلم مذہبی فسادات شروع ہوئے تو پاکستان نے ڈرامائی جذبے مسلمہ(یعنی مسلمان مسلمان کا بھائی ہے) اور بلوچ قوم کو اقلیت میں بدلنے کیلئے بہار سے بہاریوں کو لاکر لیاری،ملیر،جیکب آباد،شکار پور،کشمور،لسبیلہ،گوادر،نصیرآباد اور ڈیرہ غازیخان میں آبادکردیے۔ڈیرہ غازیخان شہر میں بہاریوں کی ایک زبردست آبادی ہے جو شہر کے دوسری بڑی کالونی بہاری کالونی میں آباد ہیں۔ اور اب پاکستان تابوت پہ آخری کیل ٹھونکنے کیلئے افغانیوں کو اس شہر میں آباد کر رہا ہے۔پچھلے سال افغانی اور مہاجر شہر میں لڑ پڑے تو چاروں طرف پنجاب پولیس،ایلیٹ فورس،رینجر اور آرمی خاموش تماشائی اس دنگل سے لطف اٹھا رہے تھے۔ تو قریب میں میرے ایک دوست نے جا کے آرمی کے سپاہی سے پوچھا کہ آپ لوگ ان کو کیوں نہیں چھڑاتے تو سپاہی کے یہ الفاظ تھے کہ پٹھان ویسے ان سے مار نہیں کھاتے مگر پٹھانوں کو آباد کرنا ہماری ایک پالیسی ہے۔ اس پالیسی سے کچھ یوں لگ رہاہے کہ پاکستان کراچی کی طرح ڈیرہ غازیخان کو پٹھان اور مہاجروں کو بلوچوں سے لڑوا کر بلوچوں کی نسل کشی کر کے انہیں ان کی اپنی سرزمین پر بے زمین کر دے گی۔اگر ڈیرہ غازیخان کے بلوچوں نے ان نازک حالات کو نہیں سمجھا تو وہ دن دور نہیں ہو گا کہ بلوچوں کے بچے اپنے وسائل سے محروم ہو کر اپنی دولت مند سرزمین پہ بیٹھے بیگانہ ہو کر غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے۔ اور اپنی سرزمین میں آپ یوں بے شناخت ہوں گے کہ آپکو اپنی سرزمین میں ایک انچ زمین نہ بیٹھنے کو ملے گی نہ دفنانے کو،جیتے جی ریڈانڈین کی طرح ختم ہوکر تاریخ کی گمشدہ قوموں کے چند اوراق پہ کالی سیاہی سے لکھے چار الفاظ ہوں گے اورآثار قدیمہ والے آپ کے سرزمین کے دلبند کو چیرتے ہوئے گمشدہ قوم کو ڈھونڈے گی۔اللہ نہ کرے ایسا ہو مگر قومیں وہ ہوتی ہیں جو اپنے آپ کو وقت سے پہلے ہوشیار کر کے زمانے کے نئے تقاضوں کے ساتھ اپنی وجود سلامت رکھیں اور دنیا میں خود کو تسلیم کروائیں۔
مذہبی شدت پسندی
حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچ قوم ایک سیکولر اور مذہب کے بارے میں ایک انتہائی معتدل خیالات رکھتی ہے۔اس نفسیات کے باوجود بھی انگریز جنرل ڈائر نے تفتان باڈر پہ بلوچ قوم میں مذہبی شدت پسندی ابھار کر انہیں کنٹرول کیا اور آج تک یہ علاقے افغانستان میں جہاد ،یا پھر ایران کے ساتھ جہاد کے نام پر پاکستان انہیں لڑوا رہا ہے ۔پاکستان شروع دن سے اس پاگل پن میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح بلوچ قوم کو مذہبی شدت پسندی کی طرف لایا جائے ۔اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ مذہبی لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر چیز اللہ دے گا ۔ریاست اللہ کے حکم کے سوا کچھ نہیں کر سکتی ۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ انہیں کچھ بھی نہ دیا جائے تو یہ لوگ خداسے مانگیں گے ،اگر کسی مذہبی کو معلوم بھی ہو جائے کہ یہ ریاست کا حق ہے تو وہ کبھی احتجاج نہیں کرے گا ۔کیونکہ اسکی سوچ یہ ہے یہ اسلامی ملک ہے۔ اس سے حق کیلئے لڑنا بھی عظیم گناہ ہے۔ اور قیامت کے دن اللہ ہمارا حق چھین کے دے گا مگر پاگلوں کو یہ معلوم نہیں کہ قیامت کے دن اس حق کو کیا کروگے،یہ حق کس شکل میں دیا جائے گا اور وہاں یہ حق لیکر کیا کرو گے۔وہاں تو صرف اعمال کام آئیں گے نہ کہ لو ٹا ہوا سرزمین اور معدنیات ۔تیسرا یہ آپس میں لڑیں گے میرا انہیں خیال بھی نہیں رہے گا نہ اپنے حقوق کا۔ اور یہ لوگ مسلسل نہ ختم ہونے والی استحصال کی بھینٹ چڑھ جائیں گے اور یہ استحصال پوری قوم کو بھکاری بنا کر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دے گی۔اسی پالیسی کے تحت پاکستان اس ریجن میں کئی دہائیوں سے کام کر رہا ہے۔ان علاقوں میں مذہبی شدت پسندوں کے تین گروپ سرگرم ہیں ۔اول گروپ جہاد کے سب سے بڑے رہنما خطیب لال مسجد مولانا عبدالرشید مزاری، مولانا عبدالعزیز مزاری یہ بھائی ملٹری انٹیلیجنس کے ایجنٹ ہیں اور یہ دونوں بھائی روجھان مزاری میں ایک مدرسہ کئی سالوں سے زبردست تعداد کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔انکو ملٹری نے جہاد کی تربیت کاکام سونپ دیا ہے۔ او ر دوسرا گروپ عبدالستار تونسوی قیصرانی اور مولانا اعظم طارق کو شیعہ اور احمدی کافر قرار دینے کا کام سونپا گیا ہے ۔یہ دونوں عرصہ دراز سے کئی مدارس میں اس بات کی تبلیغ کر تے رہے مگر ستار قیصرانی مر گئے اور اعظم طارق کو مار دیا گیا ہے۔مگر اب تک انکے مدارس چل رہے ہیں۔انہیں کے گروپ نے 2008 کوڈیرہ غازیخان میں ایک مسجد پر خود کش حملہ کیا جس میں دو سو بلوچ شہید ہو گئے۔یہ گروپ تونسہ شریف میں عرصہ دراز سے احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو شہید کر رہا ہے۔ پچھلے سال انہیں کے گروپ کے نابالغ مجاہدوں نے رمضان مہینے میں احمدی مسجد پر روزہ افطاری کے دوران حملہ کیا اور اسکے بعد وہ لڑکے گرفتار ہوئے۔ اور انہیں جعلی پولیس مقابلے میں بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کا نام دے کر سخی سرور میں جعلی آپریشن کے دوران انکی ٹارچر شدہ لاشیں پھینک دی گئی۔اس جعلی آپریشن کے دوسرے دن پھر نابالغ مجاہدین نے تونسہ شریف میں مشہور میڈیکل سٹور اکرام میڈیکل سٹور پر حملہ کر کے اکرام نتکانی بلوچ کو شہید کیا ۔اکرام کی شہادت کے بعد مادروطن کے فرزندوں نے اپنے سرزمین سے نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔کچھ ملائیشیا ،جرمنی،انڈونیشیا کو چلے گئے تو کچھ ڈیرہ غازیخان اور کوئٹہ شہر میں جا کر آباد ہو گئے۔تیسرا گروپ تبلیغی مجاہدین کا ہے جو جہاد کی فیکٹری کو ایندھن فراہم کرنے کیلئے بنایا گیا۔یہ حضرات کئی سالوں سے سرگرم ہیں اورانہوں نے ڈیرہ بگٹی ،کوہلو،بارکھان ،رکنی ،ڈیرہ غازیخان ،راجن پور،تونسہ شریف میں تو اپنے بڑے بڑے مدارس بنائے ہیں ۔پاکستان اس جماعت سے دو کا م لے رہی ہے ایک جہاد کی پراڈکشن ،سروے اورمردم شماری۔یہ جماعت قبائلی علاقوں میں تبلیغ کے ساتھ ساتھ کارگزاری کا عمل بھی کرتے ہیں،اس عمل کیلئے جہاں جہاں جس جس گھر میں جاتے ہیں وہاں کے علاقے کے راستوں کے نقشے اور علاقے کے تمام افراد کا ڈیٹا لاتے ہیں۔اور ان علاقوں میں اپنے چھوٹے مدارس بھی کھولتے جاتے ہیں۔اب لوگوں کی نفسیات اس حد تک بدل گئی ہے کہ کہ ڈیرہ غازیخان میں اگر کوئی ثقافتی پگڑی پہنے تو اسے جاہل سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی تبلیغی پگڑی باندھے تو وہ فرشتے سے کم نہیں سمجھا جاتا۔ اگر بلوچ سیاسی پارٹیوں اور عسکری اداروں نے اس حوالے سے کوئی منظم حکمت عملی تشکیل نہیں دی تو یہ اس خطے کے بلوچوں کے لئے بڑے نقصان کا سبب بنیں گے۔ یاد رہے حال ہی میں حافظ سعید نے یہ بیان دیا ہے کہ بلوچستان میں مجاہدین کی وجہ سے پاکستان کا جھنڈا لہر رہا ہے، یہ اس بات کا واضح اظہار ہے کہ مذہبی شدت پسند بلوچستان میں فوج کے پے رول پر ہیں ۔ آئی ایس آئی اور ملٹری آئی کے لوگ مذہبی روپ دھار کرقوم کے درمیان رہ کر تحریک کے بارے میں کنفیوژن پھیلا رہے ہیں اور شدت پسند پیدا کر کے بلوچ تحریک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور کریں گے۔
محکمہ ویٹرنری
قوموں کو غلام بنانے کیلئے ریاستوں کے تمام ادارے اپنی اس فرض کو نبھانے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ کہ کہیں اس فرض کو ادا کرتے ہوئے کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے ۔جس سے غلام قوم شعوری حوالے سے شعوری عوامی انقلاب نہ برپا کر دیں۔
اس غلامی کو برقرار رکھنے والے فرض کو نبھانے کیلئے پاکستان کے محکمہ ویٹرنری بھی ڈیرہ غازیخان میں سرگرم عمل ہے ۔حالانکہ پاکستان میں محکمہ ویٹرنری کا کوئی رول نہیں ہوتا اور نہ ہی ڈیرہ غازیخان میں، مگر نفسیاتی جنگ میں سرگرم عمل ہے۔ڈیرہ غازیخان میں پاکستان کے تمام جنکشن شاہراہوں اور اندروں شہر اور دیہاتوں میں ہر جگہ محکمہ ویٹرنری نے اپنے تمام سائن بورڈز آویزاں کر کے ان پر یہ نقش کیا ہوا ہے۔
بھیڑ بکری پال بلوچا
ہوجا خوشحال بلوچا
ویسے اس نفسیاتی جنگ میں محکمہ ویٹرنری صرف سرگرم عمل نہیں بلکہ تبلیغی جماعت بھی اس صف میں صف اول پر ہے۔یہ حضرات ہر علاقے میں تقریر کرتے ہو ئے یہ کہتے ہیں کہ بکریاں پالو بکریاں نبی کریم ﷺ نے پالے ہیں ۔بکریاں پالنا سنت ہے ۔دیکھو نبی کریم ﷺ کے گھر کچھ نہیں تھا مگر بکریاں پالتے تھے اور خوشحال تھے اور تم لوگ بھی اس سنت کو اپنی زندگی میں اپناو اور خوشحال زندگی بسر کرو۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ بلوچ صرف بھیڑ بکری پالے تاکہ انہیں زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے اور نہ ہی تعلیم کی ڈیمانڈ کریں اس سے یہ دائم غلا م رہیں اور رہیں گے اوراپنے آقا کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے دوڑ میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے لڑا یا جائے۔ تاکہ اپنے مسائل میں پھنسے رہیں اور آقا کے آقا ہونے کی خبر تک انہیں نہ ہو اور یہ آقا کو اپنا خیرخواہ سمجھیں۔
جہالت دنیاکی سب سے بڑی نعمت ہے
اسکا فائدہ یہ ہے کہ نہ آپ جانتے ہو اور نہ ہی آپ جنجال میں ہو جو کچھ تمھارے خلاف ہو رہا ہے اور جو تم کر رہے ہو۔اس سے تم بے خبر مگر عارضی خوشحالی میں اپنا جی بہلانا، آقا کو عقل کل سمجھتے ہوئے اپنی قوم کو جاہل تصور کرتے ہوئے غلامی کی سیڑھی چڑھنا، اپنے آقا کو مقدس سمجھنااور اپنی ماں ،مادر، مادروطن کو غیر کے ہاتھوں دینا چاہے وہ زمین کا جس طرح چاہے استحصال کرے۔اس سے آگے کی نہ سوچیں اور نہ ہی سوچ سکیں ۔اس نفسیاتی جنگ میں بلوچ کو ایک
ڈبے میں بند کر کے چھوڑ دینا تاکہ اس وائرس کو ڈبے میں آکسیجن ملے یا نہ ملے ،مرے یا نہ مرے ہم زمہ دار نہیں کیونکہ وہ اپنی موت آپ مرا ہے مرنے والے کو کون روک سکتا ہے۔مرے تو اور بھی فائدہ ہے ایک بلوچی محاورہ ہے”نہ بی گٹھ نہ بی بِلگری”ترجمہ” نہ رہے گلہ تو نہ رہے گی گلے کا ہار”۔
سی پیک پراجیکٹ
اس سی پیک پراجیکٹ کے نام پہ ترقی کے کھوکھلے نعرے نے ڈیرہ غازیخان ہی نہیں پورے بلوچستان کو منتشر کررکھا ہے ۔یہ چھان مار وسائل کی لوٹ کھسوٹ پر مبنی طاقت کے نشے میں مبتلا بد مست ہاتھی کی طرح پاکستانی فوج اور کمپنیزنے استحصال کے لئے بلوچ علاقوں کے سروئے شروع کیے۔ڈیرہ غازیخان کے چند علاقے جہاں سی پیک روٹس کے نام پہ روڈز پراجیکٹ شروع کیے گئے ہیں جس میں فورٹ منرو اسٹیل پل جو راکھی سے لیکر بواٹہ تک ہے،جو تقریبا پندرہ کلومیٹر ہے۔یہ اسٹیل پل بنانے کیلئے جاپانی کمپنی کو دی گئی ہے۔جس پہ اب کا م جاری ہے۔دوسرا فورٹ منرو ٹاپ سے پہاڑی بلندی سے ہوتے ہوئے” بیسر بن ” سے رونگھن کو ملاتی ہے۔تیسرا رونگھن سے ہوتے ہوئے ” یک بئی ”جو کہ 7430feet بلندی سے ہوتے ہوئے رکنی بلوچستان سے آ ملتا ہے۔چوتھا رونگھن سے ہوتے ہوئے ”مبارکی ” جو کہ 6450 feet بلندی سے ہوتے ہوئے کھرڑ بزدار کو ملاتے ہوئے چھپر رکنی سے آ کے ملتی ہے۔ان تمام علاقوں میں یہ illusion پھیلا گیا ہے کہ اگر ژوب روڈ پہ لبریشن کے حملے کا خطرہ ہوا تو یہی روٹس متبادل کے طور پر استعمال کیے جائیں گے اور ان روڈوں سے علاقے میں ترقی آئے گی۔حالانکہ جن ایریاز میں روڈوں کا جال پھیلایا گیا ہے وہاں تیل اور گیس کے پاکستانی کمپنی OGDCL اور Bijing company china نے مشرف کے دور میں ڈرلنگ کی ہے ۔جیسا کہ مبارکی کے علاقے سمیلی میں تین جگہوں پہ تیل اور گیس دریافت ہوا ۔اور یک بئی کے علاقے بیسر اور نیلغ تھوخ میں دو جگہوں پہ ڈرلنگ کی گئی ہے وہاں بہت بڑی مقدار میں تیل اور گیس دریافت ہوا ۔اور فورٹ منرو میں ایک جگہ پہ تیل اور گیس دریافت ہوا۔ان روڈز کا جال پھیلانے کا مقصد سی پیک نہیں بلکہ تیل اور گیس کا استحصال ہے۔پچھلے دنوں پاکستان آرمی نے یہ کہا کہ وہ بلوچستان میں تیل و گیس جاندران(کوہلو) سے اور سیمنٹ (وڈھ اور خضدار) سے نکالنے پر غور کر رہی ہے۔
رینجرز
ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں رینجرز اور آرمی مشترکہ حکمت عملی کے تحت کا م کر رہے ہیں۔حالانکہ رینجرز کو اسی سال ڈویژن میں ورکنگ آرڈر دیے گئے۔رینجرز اس سے پہلے ڈسٹرکٹ راجن پور میں تعینات تھی جو صرف بلوچ سرمچاروں کے خلاف چھوٹے و بڑے پیمانے پر نبرد آزما تھی۔ لیکن اب راجن پور کے خاص پہاڑی علاقوں(ان پہاڑی علاقوں میں قبائلی فورس بارڈر ملٹری پولیس بھی کام کرتی ہے) اور دیہاتی علاقوں میں لوگوں کو پکڑنا اور کچھ کو پولیس مقابلے میں شہید کرنا اور کچھ سے پیسے بٹور کر چھوڑ دینا ۔آرڈر کے ملتے ہی پہلا آپریشن راجن پور میں غلام رسول مزاری کے خلاف آرمی اور رینجرز کی مشترکہ حکمت عملی پر مبنی آپریشن تھا۔راجن پور کے تمام مظالم ، آپریشنیں اور پیسے کے یہ دھندے ذاکر بزدار نامی ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکار کی سربراہی میں ہوا اور آج تک ہو رہے ہیں۔ذاکر بزدار وہی بندا ہے جو راجن پور میں
بلوچ مسنگ پرسنزز کی لانگ مارچ روکنے کے لئے بار بار ماما قدیر کو بلوچیت کے نام پہ دھمکاتا تھا۔ہر وقت ماما سے یہی کہتا “ماما میں بلوچ ہونے کے ناطے آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ لانگ مارچ ختم کردو ورنہ آپکا آگے حال برا ہوگا”۔دوسرا آپریشن انڈس ہائی وے سے ملحقہ علاقے شادان لنڈ،یارو،سیمنٹ فیکٹری،پیر عادل،کالا اور زندہ پیر میں کیا۔جہاں کافی تعداد میں لوگوں کو اغوا کر گئے ہیں اور حیرانگی کی بات یہ ہے ان اغوا شدگان کی فیملیز کو آرمی ملتان ہیڈکواٹرر سے مسلسل رابطے میں ہے۔جو اس انداز میں ان کے فیملیز کو میسبج کرتے ہیں”سلام آپکا لڑکا صحیح حالت میں ہمارے پاس ہے جسکی انویسٹیگیشن چل رہی ہے۔انویسٹیگیشن مکمل ہونے کے بعد چھوڑدیا جائے گا۔پاک آرمی زندہ باد”۔تیسرا آپریشن آرمی اور رینجرز فورٹ منرو اور ماڑی کے درمیانی علاقوں میں کر رہے تھے ۔تو وہاں بلوچ لبریشن آرمی نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں لبریشن کے دو ساتھی شہید ہوئے اور آرمی ،رینجرز کے پانچ سپاہی صوبیدار سمیت ہلاک ہوئے۔اس حملے کو ریاست نے نیارنگ دیا تاکہ لوگوں سے نیشنلسٹوں کے حملے کا راز چھپا سکے ہے ۔اگلے روزپانچ بگٹی بلوچوں کی لاشیں چوٹی زیریں میں پھینک کر کہا کہ یہ طالبان کے دہشت گرد تھے جنہیں مقابلے میں مار دیا گیا ہے۔جو ایٹامک مین پلانٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔حالانکہ یہ تمام کاروائی سرمچاروں کے حملے کے جواب میں اور حملے کے ثرات کو زائل کرنے کے لئے کی گئی۔ان تمام آپریشنز کے دوران جو بے گناہ لو گ اُٹھائے گئے ہیں ۔ان کے بارے معاشرہ میں کوئی ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ آیاوہ نیشنلسٹ تھے یا مذہبی شدت پسند۔جن ایریاز میں آپریشن کئے گئے ہیں ان ایریاز میں کو ئی نہ نیشنلزم کے بارے میں جانتا ہے اور نہ تو مذہبی شدت پسندوں کے ساتھ ان کا واسطہ ہے۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ تما م اغوا شدگان نوجوان لڑکے ہیں جنکی عمریں سولہ سے اکیس سال تک ہیں۔ اور دوسرا یہ تما م علاقے کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ہیں۔یہی خیال کیا جارہا ہے کہ بلوچ شورش جو پہاڑوں سے شہر کی طرف آرہی ہے شاید اسی کے سامنے ان نوجوانوں کو ایندھن بنائیں گے۔یا پھر دامن کو کنٹرول کرنے کے بعد پہاڑی علاقوں کی جانب قدم اٹھائیں گے۔ ڈیرہ کے پہاڑی بیلٹ کوہ سلیمان میں کام کرنے والی قبائلی فورس کو ختم کر رہے ہیں۔ کیونکہ بلوچستان میں قبائلی فورس کا پاکستان تجربہ کر چکا ہے ۔اسکی جگہ رینجرز لے گی اور کافی حد تک رینجرز کو تعینات کرنے کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔




انقلاب فرانس تحریر:دادجان بلوچ

کہتے ہیں کہ بھوک افلاس بے حسی اگر انقلاب کو جنم نہ دے تو مجرم کو جنم دیتی ہے۔
انقلابی حقائق کو ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ ان کے پیچھے خام انسانی فطرت اور بھوک کے مارے خالی پیٹ ہوتے ہیں۔ یہی کچھ ہمیں فرانس میں نظر آتاہے۔ 1794سے 1789کے پانچ فیصلہ کن برسوں میں بھوک کے مارے عوام حرکت میں آگئے ۔ُ ُُُاُس وقت لوئس سیزدھم کا جانشیں اس کا پوتا لوئس چاردھم1715ء میں تخت نشین ہوا اور اس نے 69برس تک حکومت کی اور عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے، اور خود خوب عیاشی کی۔ لوئس چاردہم کی موت1774کو ہوئی او ر اس کے بعد اس کا پوتا لوئس پازدہم تخت نشین ہوئے ، لوئس پازدھم کی بیوی میری ’جو کہ آسٹریا کے شہنشاہ کی بیٹی تھی ‘کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بادشاہوں کے خدائی میں یقیں رکھتی تھی اور اُسے عام لوگوں سے سخت نفرت تھی ۔لوئس پازدہم اور اس کی بیوی نے بادشاہی کے تصور کو لوگوں کیلئے قابل نفرت بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔
لوئس ایک بہت غاصب جابر اور ظالم حکمران تھا۔بادشاہوں اور آمروں کا ایک سہارا فوجی قوت ہواکرتاہے فرانس میں بھی یہی کچھ ہوا سات سال کی یورپ کے ساتھ طویل جنگی کیفیت نے فرانس کی معیشت پر کاری ضرب لگائی،معیشت دیوالیہ ہونے کو تھی،پادری ٹیکسوں سے مستثنی تھے ، لیکن لوئس کو قرضوں کی ادائیگی اور دربار کی فضول خرچیوں کیلئے رقم درکار تھی عوام بے چارہ کدھر جاتے ، محنت مشقت کرنے والے عوام کی حالت تو مسلسل ابتر ہورہی تھی ، کم بخت ٹیکسٹ دہندہ عوام کی تعداد اڑھائی کروڑ تھی جب کہ ان پر 2% آبادی بادشاہ اور پادری حکمرانی کررہی تھی، انہی 98% عوام کی ٹیکس سے فرانس چل رہاتھا۔
ایک اندازے کے مطابق فرانس) 3 Billions (livre جو اس وقت کی کرنسی تھی کی مقروض ہوگئی اس وجہ سے لوئس نے مزید ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا۔ لوئس پازدھم کے دور حکومت میں فرانس کے عوام کی حالت نا گفتہ بہ تھی یہی وجہ تھی کہ بھوکے عوام نے ہنگامے شروع کردئے۔1777کو حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ فرانس میں گیارہ لاکھ بھکاری ہیں ، اس سے عوامی غربت کی ابتری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
ْ قر ضہ اتنے بڑھتے جارہے تھے کہ اب بادشاہ کے پاس خرچہ کرنے کیلئے رقم کی کمی تھی جب کہ وہ پہلے ہی کئی طریقے سے عوام سے ٹیکس وصول کررہے تھے ۔پہلی زراعت سےtithe نام سے ٹیکس لی جاتی تھی اور یہ چرچ کو دیا جاتا تھا اور taileنام کی ٹیکس بادشاہ کو ملتا تھا جب کہ ایک اور ٹیکس تھا جسے indirect ٹیکس کہتے تھے یہ۔ بادشاہ اور پادریوں چرچ کے لوگوں کی کھانے پینے اور خواراک کیلئے استعمال ہوتی تھی جب کہ ان کے زمینوں پر کسانوں سے بلا معاوضہ کام لیاجاتاتھا فرانس کے اسمبلی کوstate General کہا جاتا تھا لیکن یہ برائے نام اسمبلی تھی یہاں طبقہ کے حساب سے نمائندے برائے نام بیٹھے تھے جب کہ مطلق العنان حکمران لوئس ہی تھے ، حکمران طبقہ جنہیں ہم نوبل کہتے ہین نہ نوبل ٹیکس ادا کرتے تھے اور نہ پادری فرانس کی ٹیکس دھندہ لوگ عوام تھی جتنی ٹیکس لی جاتی تھی یہی ادا کرتے تھے اور جتنی پیسہ آرہا تھا وہ ان ہی غریبوں سے آرہاتھا ۔
یہاں کچھ دانشور فلاسفر تھے جہیں شاید کوئی نہ جانتا ہو ۔ان میں سے ایکJohn lockتھا ، Lock خود UKسے تھے ۔ اس نے عوام کو نیا نظریہ دے دیا، تما لوگوں کو زندہ رہنے اور آزاد رہنے کا حق ہے اور تمام لوگوں کو جائیداد رکھنے کا حق ہے تمام لوگ اپنا کاروبار کرسکتے ہیں۔ یہ جان لاک کا نظریہ تھا۔ ایک اور دانش ور لکھاری تھے جن کا نامjean_jacquesتھا اور یہ خود سوئزرلینڈ سے تھے ا نہون نے عوام کی حالت زار پر اور بادشاہت کے خلاف ایک کتاب لکھی جس کا نام تھاSocial contrectاور یہ کتاب کافی مقبول ہوئی انہوں نے کہا کہ لوگوں کو آزادی چاہے قانون تمام لوگوں کیلئے ہونی چاہے، انصاف ہر کسی کی دسترس میں ہو۔
ایک اور فلاسفر Baren de Montesquieu تھے، انہی فلاسفروں نے عوام میں بیداری اور رائے عامہ کو ہموار کرنے میں بہترین کردار ادا کیا، اپنے آرٹیکلز اخبارات اور لٹریچر کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کرتے رہے۔ جب کہ فرانس کے لوگ انقلاب امریکہ سے بھی متاثر ہونے لگے۔فرانسی فلاسفروں کے ان خیالات اور تصورات نے انقلاب پر قوی اثر کیا۔
فرانس سے جنرمارک امریکہ کی انقلاب میں حصہ لے چکے تھے اور انہوں نے فرانس آکر عوامی موبلائزیشن شروع کی، انہوں نے کہا کہ جب امریکی لوگ انقلاب لاسکتے ہیں تو ہم بھی انقلاب کیلے جدوجہد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بادشاہت کو اکھاڑ پھینک سکتے ہیں جو کہ ہماری خون پسینہ سے عیاشی کرتی ہے جب کہ ہماری حالت روز بدتر ہوتی جارہی ہے اور اوپر سے مزید ٹیکس لگانے کی مطالبہ ہورہی ہے۔
جب کہ بادشاہ نے may 1789 4 برائے نام جنرل اسمبلی کی میٹنگ بلائی ۔ اس اجلاس کا مقصد مزید ٹیکس لگاناتھا جب کہ اس مقصد کیلئے بادشاہ لوئس نے Jacques neckerکو اپنا مشیر مقرر کردیا اور اس کے ساتھ پادری طبقہ سےmirabeauتھے۔ Jacques neckerنے بادشاہ کے حکم کے برخلاف تما طبقہ بشمول نوبل اوپادریوں پر ٹیکس لگانے کی مطالبہ کردی جب کہ عوام تو پہلے ہی یہ مطالبہ کررہے تھے۔ جب لوئس نے دیکھا کہ معاملہ الٹ ہورہاہے تو انہوں نے نیکر کو بلاکر عہدہ سے فارغ کردیا کیوں کہ بادشاہ اورپادری نہیں چاہتے تھے کہ ان پر ٹیکس لگائی جائے۔ کونسل میں جو کچھ عوامی نمائندوں نے کیا وہ لوئس کیلئے ناقابل برداشت تھا۔ اس نے سب کو اجلاس سے باہر نکال دیا وہ سب فورا ٹینس کورٹ میں جمع ہوئے اور سب نے عہد کیا کہ ہم ایک آئین بنائینگے اس واقع کو( اوتھ آف دی ٹینس) کہا جاتاہے انہوں نے 17June1789کو tennis court کی جگہ اپنی نیشنل اسمبلی بنائی اور انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی ہم کرینگے کیونکہ ہم خود ٹیکس دیتے ہیں فرانس ہمارے ٹیکس سے چلتاہے اس لئے ہمیں حق ہے اور فیصلہ ہم خود کریں گے۔ انہوں نے یہیں سے حلف لے لیا اس لئے اسے لوگtennis court oath کہتے ہیں۔ جب یہ مرحلہ آیا تو بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو باغی ارکان کو منتشر کرنے کا حکم دیا لیکن سپاہیوں نے طاقت کے استعمال سے انکار کردیا ، بادشاہ لوئس خوف زدہ ہوکر محل میں چلا گیا، اور پھر اس نے اپنے معمول کی حماقتوں میں ایک اور اضافہ کرتے ہوئے غیر ملکی فوجیوں کو اپنے عوام پر گولی چلانے کیلئے منگوالیا، عوام میں صبر کی حدختم ہوگئی ۔ عوام نے 14جولائی 1789کو پیرس میں ہنگامہ کھڑا کردیا اور عوامی ہجوم نے 14جولائی 1789کو بیسٹائل جیل پر حملہ کردیا بیسٹائل کے قید خانہ پرقبضہ کرکے تمام قیدیوں کو رہا کردیا (14جولائی کو فرانس میں قومی دن کی مناسبت سے منایا جاتاہے یہ بیسٹائل جیل پر حملہ کا دن ہے)
یہ پورے فرانس میں لوئس کے خلاف انقلاب کی نشانی تھی اسی خوف سے لوئس نے بربریت شروع کردی۔
عوامی نمائندوں کے گھروں کو آگ لگانا ، عوام کو جیلوں میں ڈالنا ،قتل کرنا شروع کردیا۔ فرانس ایک جنگی قتل گاہ کی شکل اختیار کرگیا۔ جب کہ عوام میں جزبہ مزید مستحکم ہوتی جارہی تھی۔ یہیں سے فرانس میں ایک، قدیم شہنشاہیت،جاگیردای ا ور مراعات کی نظام کا خاتمہ اسی انقلاب سے ہی ممکن ہوا اور یہ انقلاب کی جانب پیش قدمی کی شروعات تھی۔
اس کے بعد عورتوں نے ایک مارچ شروع کرکے لوئس کے محل کا گھیراو کیا، ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ یہ صورتحال دیکھ کر لوئس بھاگ جاتاہے لیکن پھر احتجاجی عورتوں کی سخت موقف کی وجہ سے مجبوراََ اسے واپس آنا پڑ تاہے اور آتے ہی لوئس کو گرفتار کرکے قیدی بنائی جاتی ہے۔
یہاں نیشنل اسمبلی ایک قرار دار پاس کرتی ہے، لوئس خاندان اور پادریوں کی زمینون کو قرضہ جھکاوء کیلئے بھیج دی جائیگی اور عام لوگوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اسمبلی چرچ کو سیکیولر بنانے کا فیصلہ بھی کرتی ہے۔ موقع ملتے ہیlous خاندان کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کرتی ہے اور پھرvarrennesفرانس کے مقام پر دوبار پکڑا جاتاہے اور دوبارہ قید ی بنایا جاتاہے جب کہ یہ خوف یورپ کے دیگر ریاستوں میں پھیل جاتی ہے کہ کہیں ان کے ہاں عوامی انقلاب برپا نہ ہو ۔انقلاب کے شعلے ان تک نہ پہنچیں اس خوف سےKing of Austria king of pressia اور لوئس کے بھائی جو بھاگ کر آسٹریا گئے تھے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ لوئس کی مدد کی جائیگی اور انقلاب کو کچلا جائے گا یہ Pilnizکے مقام پر ایک declerationپر دستخط کرتے ہیں۔ اس میں یہ تمام باتیں موجود ہوتی ہیں کہ لوئس کی مدد اور انقلاب کو کچلنا لوئس کو آزاد کرکے دوبارہ بادشاہ بنانا۔
اور اس بات کا پتہ چلتے ہی نیشنل اسمبلی ایک قرار دار پاس کرتی ہے کہ آسٹریا کے ساتھ جنگ کی جائیگی اور اس کے لئے وہ اٹھارہ سال سے پچیس سال تک کی عمر کے لوگوں کی بھرتی کرتے ہیں اسے the war of first coalation کہا جاتاہے جب کہ جنگ مزید تیز ہوجاتی ہے اور لوئس کو اقتدار تو نہیں ملتی البتہ ان کی اقتدار اور بادشاہت کے خاتمے کا عواما علان کرتی ہیں۔ اور یہیں سے لوئس کی بادشاہت کے دن ختم ہوجاتے ہیں اور فرانس کی رپبلک ہونے کی اعلان کی جاتی ہے۔
21sep 1792کو نیشنل اسمبلی کی میٹنگ ہوجاتی ہے جسےNational convention کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔ اسی کنونشن میں یہ فیصلہ لیا جاتا ہے کہ فرانس ریپبلک ہوگا، بادشاہت کا خاتمہ کیا گیا۔ تمام فیصلوں کو قانونی شکل دی گئی۔نیشنل اسمبلی کے ممبران کا تعلق عوام سے تھا، لیکن ان میں دو گروپ ابھرے ایک (Jacobins)دوسری(giraundi)گروپ تھیں ان دونوں گروپوں کا تعلق عوام سے تھا ۔
جیکوبین کا لیڈرRobespierre تھے یہ قانوں دان تھے یہ ریڈیکل خیالات کے مالک قدرے سخت موقف رکھنے والے تھے اس نے انقلاب میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا لہذا اس کی قائدانہ صلاحیت یا پھر نیت پر کوئی شک نہیں کر سکتا تھا۔ اس گروپ کا مطالبہ تھا کہ غداری
کرنے والوں کو سرعام گولی ماری جائی یا پھر پھانسی دی جائی اور جب کہ جیرونڈک گروپ قدرے نرم اور مذاکرات پر یقین رکھنے والے تھے۔ جیکوبین گروپ پرانے گند کو صاف کرنے کیلئے dictitor shipکا مطالبہ کررہی تھی۔ وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے ، کنونشن جو کہ جیکو بین کی پارٹی تھی گروپ کو جیکوبین کہا جاتاہے ان کے ایکرکن Dr josephنے غداری کی سزا اور مجرموں کی سزا کیلئے ایک قرارداد پیش کی کہ ان کوGuillotineکیا جائے۔ یہ ایک مشین تھی جوکہ سر کو جدا اور تن کو الگ کرتھا تھا جسےGuillotineکہتے تھے یہ اس ڈاکٹرکا نام تھا Dr joseph Guillotine جو کہ Guillotine کی نام سے مشہور ہوئی جب کہ 21jan 1793کو لوئس کو فیملی کے ساتھ Guillotine کردیا گیا۔ اب شاہ لوئس چلاگیا ۔ جب زیادہ تعداد کی اس طرح وحشیانہ پھانسی سے عوام میں خوف کی لہر دوڑنا شروع ہوگیااورRobespierreایک عامر ظالم ڈکٹیٹر بن گئے ۔ انہوں نے اپنے مخالفین کی بھیGuillotine شروع کردی ۔ جب عوام نے احتجاج شروع کیا تو احتجاجیوں کی ڈر سے اگر چہ Robespierre نے the committies of public safety بنائی تاہم اس کے اختیارات بھی آمرانہ تھے۔ یہ پانچ ممبران تھے جو کہGuillotine کا فیصلہ کرتے تھے وہ غدار ہوتے یا مخالفین ،یا پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے ہوتے، اس کمیٹی کا طریقہ کار بس یہی تھیGuillotine کرکے سر الگ کرنا۔ ایک سال تک اس کمیٹی نے ہزاروں لوگوں کوGuillotine کیا۔ اس سال کو تاریخ میں the reign of terrorکہا جاتاہے ۔ پھر ہوا یوں کہ جس شخص نے سزا کا یہ نظام بنایا تھا اسی اژدھا نے رُخ موڑ دیا 27جولائی1794کوRobespierre کو خودGuillotineنے نگل لی۔ Robespierre خودthe reign of terror کی آخری شکارہوئے ۔
اگست 1795کو ایک نیا آئین بنائی جاتی ہے اور اس میں سے آمرانہ قوانین کو ہٹایا جاتاہے اور ایک نئیDirectory سسٹم کی اعلان کی جاتی ہے جس کے چلانے والے پانچ لوگ ہوتے ہیں۔ ایکexacutiveبرانچ بھی بنائی جاتی ہے لیکن یہ لوگ اتنے ناتجربہ کار ہوتے ہیں کہ انہیں سرکار کرنے یا قانون سازی کی فن نہیں آتی اس وجہ سے فرانس مزید بحرانوں کی طرف جانا شروع کردیتاہے
ان کی طرز حکمرانی جیکوبین سے بدتر ہوجاتی ہے کیونکہ ان کے جو ڈائریکٹرز ہوتے ہیں،وہ من پسند اور لوئس کی طرز اپنے خاندان والوں کیلئے دروازے کھول دیتے ہیں جب کہ عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتی ان کی زندگی بدتر ہوجاتی ہے ۔لوئس کی حکومت کی طرح یہاں خوراک کی کمی اور معاشی بحران مزید سر اٹھاتاہے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے Napoleon ان کے خلاف اعلان جنگ کرتاہے ۔نپولین ایک فوجی جنرل تھے ا ور انقلاب فرانس میں بڑھ کر حصہ لینے اور آسٹریا کے خلاف لڑنے اور بہادری کی وجہ سے وہ بہت مشہور تھے۔ نپولین ایک ایسا نجات دہندہ ہیرو تھے جس نے انسانیت کو بہت سے بندھنوں سے آزادی دلائی وہ ایک غیرمعمولی عظیم جنرل تھے۔ نپولین انقلاب کا بیٹھا تھا۔ Napoleon ڈائریکٹری نظام کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔ Napoleon پھر خود 1804 کو کنگ آف فرانس بن جاتی ہے لیکن اس کنگ کے پاس لوئس جیسی پاور نہیں ہوگی انقلاب کا یہ فائدہوا کہabsolutitismکا خاتمہ ہوجاتاہے۔عوام اپنا فیصلہ کرنے میںآزاد ہوجاتے ہیں ۔لوگ پراپرٹیز کے مالک بن جاتے ہیں، جب کہ fundamintal of right ،freedomاور equelityلوگوں کو مل جاتی ہے ۔بے تحاشہ قربانیوں کے بعد بالاخر عوام اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور اپنے
ملک کے حقیقی مالک حکمران بن جاتے ہیں۔




انسان بننے کی سزا  تحریر:حمید بلوچ

زندگی خدا کی طرف سے انسانیت کے لیے ایک مقدس انعام ہے جسے اپنی مرضی سے گزارنے کا حق اشرف المخلوخات کو حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنی زندگی گزارے لیکن انسانیت سے نفرت کرنے والے جابر و ظالم حکمرانوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے انسان کی زندگی جہنم سے بدتر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج اس گلوبل ولیج میں زندگی ایک جنگ بن گئی ہے اور اس جنگ کو جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ مظلوم انسان باہمت حوصلہ و عزم سے بھرپور ہو کیونکہ ایک مظلوم انسان کے لئے ہمت حوصلہ ہی اس کا کل سرمایہ ہوتا ہے ۔تاریخی تناظر میں ہم دیکھیں تو نتائج اس طرح قلمبند کئے گئے ہیں کہ جن قوموں نے آقاؤں کی غلامی کو قبول کیا اور جنگ کے ڈر سے اپنی زندگی اور آزادی داؤ پر لگی رہنے دی تو ایسی قوموں کو تاریخ نے اپنے صفحات سے مٹاکر مردہ قوم کا نام دیا اور جن قوموں نے آزادی اور اپنی زندگی حاصل کرنے کے لئے سامراجی طاقتوں کو چیلینج کیا آزادی کے لئے جنگ لڑکر انہیں شکست سے دوچار کیا تو تاریخ ایسے قوموں کے گن گاتی نظر آئی اور اپنے صفحات میں ایسی قوموں کو صف اول کا مقام دیا ۔غلامی سے آزادی، پسماندگی سے خوشحالی، حیوان سے انسان بننے کے اس ارتقائی عمل میں نوجوان طبقے کا کردار ان کا عزم و حوصلہ مثالی رہا جنھوں نے اپنی قربانیوں اور ہمت کے  ذریعے زندگی کی جنگ جیتنے میں وہ نمایاں کارنامے انجام دئیے جو رہتی دنیا تک مظلوم اقوام کے لئے باعث تقلید ہے ۔

نیلسن منڈیلا جس نے انسان بننے کے جرم میں ہزاروں مصیبتیں برداشت کیے اپنی نوجوانی کے بیشتر سال زندانوں گزارے ،انسان بننے کے سفر میں ہزاروں تکلیفیں بھی اسکے مضبوط عزم کا مقابلہ نہ کرسکے منڈیلا نے اپنے مضبوط ہمت سے ہر رکاوٹ کو عبور کرکے اپنے قوم کے لئے یہ جنگ جیتی ۔بھگت سنگھ جسکی بہادری ہمت اور حوصلہ سامراج کے راستے کی بڑی رکاوٹ تھی جس سے خوفزدہ ہو کر سامراج نے اسے پھانسی پر لٹکایا ۔چی گویرا جسکی ہمت و بہادری اور بلند ہمت نے سامراج کو چھین سے رہنے نہ دیا اپنے جوانی کے بیشتر سال انسانیت کے لئے جنگ لڑ کر گزاری ۔ ماؤ زے تنگ جس کے جوانی کے دن پہاڑوں بیابانوں میں دشمن سے برسرپیکار ہونے میں گزری ۔ جیولس فیوچک جسے آج دنیا فخر چیکوسلواکیہ کے نام سے جانتی ہے جسے پھانسی پر لٹکایا گیا۔ ان نوجوانوں نے کھٹن و مشکل راہوں کا انتخاب انسانیت کی بقاء کے خاطر کیا اور اس سفر میں کوئی بھی رکاوٹ ان کا راستہ نہ روک سکی انکی ہمت بہادری عزم و حوصلہ جسے تاریخ سلام پیش کرتی ہے آج ان نوجوانوں کی انسانیت سے محبت اور جان کی قربانی دنیا کے مظلوم عوام کے دلوں کو گرماتی اور انہیں جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے ۔ دنیا کا ہر روشن فکر طالبعلم اور نوجوان انہیں اپنا آئیڈیل مان کر انکی پیروی کرنے میں ہی اپنی زندگی کی بقاء تلاش کرتا ہے ۔ محکوم قوموں کے نوجوانوں نے جب بھی اپنی قومی غلامی کا ادراک کیا تو انہیں راستے سے ہٹانے کے لئے مختلف پالیسیوں کو استعمال کیا گیا کبھی انہیں زندانوں میں اذیتناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا کبھی انکی مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکا گیا لیکن انسان بننے کے جذبے سے سرشار نوجوانوں نے عزم و ہمت کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ اور زیادہ تندہی سے اپنے منزل کی جانب رواں رہے ۔ایسے باہمت بلند حوصلوں سے لبریز نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بلوچ قوم کے نوجوانوں کی ہے جنھوں نے اپنی قومی آجوئی کے لئے ہر طرح کی تکلیفوں کو قبول کرکے قومی تحریک کو سائنسی بنیادوں پر ترقی دی بلوچ نوجوانوں نے ماؤ ،چی گویرا،جیولس فیوچک اور بھگت سنگھ کی قربانیوں کی یاد کو تازہ کردیا ۔ پاکستان اپنے طاقت کے نشے میں مست ہوکر بلوچ قوم سے انسان ہونے کا حق چھیننا چاہتی ہے اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ریاست روشن خیال بلوچ نوجوانوں کو راستے سے ہٹانے کی کوششوں پر عمل پیرا ہے کیونکہ ریاست جانتی ہے کہ یہ علم سے محبت کرنے والے نوجوان اسکے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔نوجوان طالب علموں کو راستے سے ہٹانے کی پالیسیوں کو لیکر پاکستان نے سینکڑوں بلوچ طالب علموں جن میں بی ایس او آزاد کے چیرمین زاہد بلوچ اور ذاکر مجید بلوچ مرکزی انفارمیشن سیکرٹری شبیر بلوچ سمیت ہزاروں نوجوان طالب علموں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیئے۔ کامریڈ قیوم ، کمبر چاکر ،رسول جان ،اکرام بلوچ حاصل بلوچ سالار بلوچ جیسے ہزاروں نوجوانوں کو اغوا ہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناکر لاشوں کو ویرانوں میں پھینکا لیکن نوجوانوں کا یہ سفر کامیابی سے اپنے منزل کی جانب رواں دواں رہا ۔ 28اکتوبر کو بلوچ انسانی حقوق کے کارکن عطا نواز بلوچ کو 8 نوجوان طالب علموں سمیت کراچی سے گرفتار کرکے لاپتہ کردیئے ۔15نومبر 2017کو کراچی سے بی ایس او آزاد کے مرکزی سیکرٹری جنرل ثنااللہ بلوچ کو بی ایس او آزاد کے مرکزی کمیٹی کے ممبران نصیر بلوچ ، حسام بلوچ اور بی این ایم کے ممبر رفیق بلوچ کے ہمراہ جبری طور پر اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جو بلوچ طالب علموں پر پاکستانی مظالم کا تسلسل ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔جس طرح برطانوی سرکار بھگت ، راج گرو سے امریکہ چی گویرا سے خوفزدہ تھا اسی طرح ان انسان دوستوں کے نقش قدم پر چلنے والے انسان دوست اور ترقی پسند بلوچ طالب علموں سے پاکستانی ریاست خوفزدہ ہے۔ ان نوجوانوں نے اپنی زندگی اور قومی غلامی کے خلاف جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ، انہیں آزادی اور اپنے سرزمین سے محبت تھی ،یہ نوجوان اطاعت گزاری کی زندگی گزارنے کے بجائے جدوجہد پر یقین کرنے والے تھے۔ عزت جان،چراگ جان اور نودان امید حوصلہ عزم سے بھرپور نوجوان تھے جن کی ہمت کی جتنی داد دی جائے کم ہے ایسے بلند کردار انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو یہ جانتے تھے کہ آزادی کے لئے جدوجہد کرنا سخت کھٹن اور تکلیف دہ عمل ہے اور اس جرم کی سزا موت سے بھی بدتر ہے لیکن سلام ان نوجوانوں کی ہمت کو کہ انہوں نے یہ سب جانتے ہوئے بھی اس راستے کا انتخاب کیا ۔
آزادی دوا کا نسخہ نہیں کہ جس کے پینے سے آزادی ملتی ہیں اور نہ ہی آزادی حاصل کرنا پھولوں کی سیج ہے جس پر آسانی سے چلا جاسکتا ہے بلکہ آزادی کا عمل کھٹن اور مشکل ہے اسکے لئے مستقل مزاجی ہمت حوصلہ اور عزم کا ہونا ضروری ہے جس طرح ہمارے یہ عظیم دوست آزادی کے عمل کی پاداش میں پابند سلاسل کیئے گئے جہاں وہ دسمبر کی سرد راتوں میں بدترین تشدد کا سامنا کررہے ہیں ایسے ہمت اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور بی ایس او آزاد کے نوجوانوں میں یہ ہمت حوصلہ اور عزم موجود ہے کہ وہ نودان عزت اور چراگ کے ادھورے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچاسکے اور اس مقصد کے لئے بی ایس او کے نوجوان کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ شائد ریاست یہ سمجھ چکی ہے کہ ان نوجوانوں کے اغوا ہونے سے بی ایس او آزاد کے نوجوان اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں گے لیکن ریاست کو اس بات کا علم نہیں کہ بی ایس او آزاد ایک روشنی کا نام ہے جس کا مدہم ہونا انہونی بات ہے۔بقول عزت جان کہ ہمیں اپنے دوست کامریڈز عزیز ہے لیکن آزادی اس سے بھی زیادہ عزیز شئے ہے۔




منصور چُپ رہتا تو شاید بچ جاتا۔  رژن بلوچ

پُر سکون زندگی کس کی خواہش نہیں ہوتی یا کون آرام دہ زیست سے منکر ہونا چاہتا ہے لیکن اس کراہ ارض میں پرمُسرت زندگیوں کو ٹھکرانے والے تاریخ کے اوراق میں روشن باب کی مانند ہوتے ہیں جو اجتماعیت کو انفرادیت پر فوقیت دیتے ہیں، وہ آئندہ نسلوں کی زندگیوں میں بہار لانا چاہتے ہیں اِسی لئے وہ اپنی زندگی تاریک راہوں میں گزار کر سحر کو ڈھونڈنے نکل جاتے ہیں۔ ویسی ہی ایک شعوری فیصلہ عزت بلوچ نے کی، بلوچ قومی شناخت کو گھیرے میں لیے نوآبادیاتی عزائم کو فکر و نظریے سے شکست دینے کیلئے عزت نے کم عمری میں ہی مشکل راہوں پہ چلنے کو ترجیح دی۔
عزت بلوچ نے اپنی آنکھیں مادر گلزمین کے خوبصورت بارگاہ مشکے میں کھولے۔ماضی و حال کے تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ نظریاتی درسگاہ بی ایس او کے جہد مسلسل کے بدولت بلوچ سماج میں نوجوان کم عمری ہی میں سیاسی حوالے سے باشعور ہو جاتے ہیں سنگت عزت بھی سیاسی داؤ پیچ بہت ہی کم عمری میں سمجھ گئے اور16 سال کی عمر میں باقاعدہ طلباء سیاست کا حصہ بنے لیڈرشپ خصوصیات   نے عزت کو بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی ، انفارمیشن سیکریٹری اور سیکرٹری جنرل چُنا۔

عزت بلوچ سماج کے اس نسل سے ہے جس نے پرتشدد ماحول میں آنکھیں کھولی،مادر نے جنگی لوریاں
سنائی، آنکھوں دیکھا حال اغیار کے ظلم و ستم تھے۔ بلوچستان سے تعلق ہونے کے ناطے وہ جانتے تھے کہ یہاں اپنے قومی شناخت کے متعلق جستجو کرنا قریب موت کے مترادف ہے۔اس کے آنکھوں دیکھا حال عملی سیاست میں سرگرم نوجوانوں کو پاکستان موت کے گھاٹ اُتار رہا تھا یا پھر پابند سلاسل کیے جارہے تھے اِن تمام آگاہی کے باوجود کہ دن بہ دن راستے کٹھور ہوتے جائیں گے، عزت نے ایک قدم پیچھے نہ ہٹایا اور وقت کی سختیوں کے دو بہ دو ہو کر آگے چلتے رہے۔ عزت جہد مسلسل پر یقین رکھنے والا سیاسی کارکن ہے وہ بلوچ قومی سیاست میں اصلاحات کے شدید حامی ہے ،وہ بی ایس او کی جدوجہد کو ایک نئی سمت کی جانب لے جارہے تھے، عزت بھی اس امر سے متفق تھے کہ اگر بلوچ سیاست میں کوئی نکھار پیدا کرسکتا ہے تو وہ بی ایس او کا ہی نوجوان ہے۔شبِ گراں تب سروں پہ ٹوٹی
جب15 نومبر کی رات اطلاع ملی کے عزت بلوچ کو تین عزیز دوست چراگ، نودان اور کمبر کے ہمراہ
پاکستان کے فوج نے کتابیں پڑھنے اور لکھنے کے جرم میں گرفتار کرکے منظرعام سے غائب کردیئے۔

بی ایس او کی نظریاتی پختگی کا حاصل یہ ہے کہ فدا، حمید، کمبر چاکر، کامریڈ قیوم، شفی، رضاجہانگیرجیسے باصلاحیت رہنماء زندگی جیسے خوبصورت شئے کو قربان کرتے ہیں زاکر ، زاہد ، لکمیر ، عزت ، نودان، چراگ جیسے مظبوط حوصلے کے مالک فکری نوجوان پاکستان جیسے جنونی ریاست کے قید و بند میں بھی مظبوط چٹانوں کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں یہ تمام عوامل ثابت کرتے ہیں کہ بی ایس او نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے میں ایک منظم نظریاتی ادارہ ہے ۔شائد قارئین کیلئے یہ بی ایس او سے سے میرے جذباتی وابستگی ہے لیکن میں انتائی نرم مزاجی میں دلیل کے ساتھ کہتاہوں کہ بی ایس او ہی وہ واحد ادارہ ہے جو بلوچ سماج میں فرسودہ قبائلی نظام، مذہبی جنونیت، نسل ، رنگ اور علاقائی تعاصب کے خلاف باقاعدہ ڈٹ کے کھڑا ہے جبکہ بلوچ سماج میں تعلیمی ماحول کے فروغ اور کتاب کلچر اُجاگر کرنے کا کریڈٹ بھی بی ایس او کے کارکنان کے ہی سر ہے۔ بی ایس او کے مظبوط فکر کارکنان بحیثیت قوم بلوچوں کو منظم کرنے اور بلوچ سماج سے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کیلئے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر جدوجہدمیں پیش پیش ہیں اور اس جدوجہد کے پاداش میں بی ایس او کے سینکڑوں کارکنان آج یا تو پاکستانی عقوبت خانوں میں ازیتیں جھیل رہے ہیں یا پاکستان کے مارواور پھینکوپالیسی کے نظر ہوچکے ہیں۔
پاکستان نے اپنے پر تشدد پالیسیوں کا دائرہ حدود وسیع کردیا ہے اور اس کے جنونی پالیسیوں کا خاص نشانہ بلوچ معاشرے کے کریم ہے۔ لیکن تاریخ کے تلخ تجربات سے نابلد پاکستان اس امر سے واقف نہیں کہ یہ جدوجہد بلوچوں کا شعوری فیصلہ ہے اس جدوجہد کا دارومدار افراد سے نہیں نظریے سے ہے، یہ نظریہ مزید عزت، لکمیر، نودان اورچراگ پیدا کر کے زیادہ پختہ شکل اختیار کرے گا اور تب تک جہد کرتا رہے گا جب تک نوآبادیاتی نظام کے وجود کو بلوچ سماج سے مکمل طور نیست و نابود نہ کردیں۔



تیرہ نومبر اٹھارہ سو اُنتالیس، سقوطِ قلات

بیبرگ بلوچ:

اٹھارہویں صدی کا دور یورپ میں بیداری کا دور رہا ہے یورپ نے کوئی 400 سال انتہائی تاریک اور مایوسی کے دور کا سامنا کیا تھا۔ اٹھارہویں صدی میں یورپ کی طویل تاریکی کے دور کو زوال آنا شروع ہوگیا ۔اسی صدی میں روسو جیسے عظیم شخصیات نے جنم لیا۔ روسو، جسے یورپی ادب کا جان کہا جاتا ہے نے ایک عمرانی معاہدہ پیش کیا۔ لہذا اس کے بعد انقلاب فرانس آیا اس انقلاب کے بعد یورپ کے لوگ کبھی نہیں سوئے بلکہ ہر شعبے میں نئی نئی اختراعات سے وہ ترقی کی منزلیں طے کرنے لگے۔ پھر 1776 کو امریکہ کی بنیاد رکھی گئی اور 1778 کے بعد یورپ میں انڈسٹریل انقلاب آگئی، اس صنعتی انقلاب نے گویا پورے خطے کی تقدیر ہی بدل دی ۔صنعتی ممالک کو نئی منڈیوں کی ضرورت پڑ گئی تو افریقہ اور براعظم ایشیا انہی ممالک کے زیر اثر آگئے۔ اس وقت ایشیا میں چائنا اور ہندوستان سب سے بڑی منڈیاں تھی کیونکہ یہاں پر انسانوں کا جم غفیر موجود تھا۔ لہٰذا برطانیہ نے سب سے پہلے ہندوستان پر اپنا قبضہ جمایا اور اس کے بعد اپنی فارورڈ پالیسی کو مزید آگے بڑھانے کیلئے افغانستان کی جانب سوچ رہا تھا۔ وہ افغانستان اور ایران میں جنگ لڑ کر اپنی مفادات کو محفوظ رکھ سکتا تھا۔

بلوچستان کا خطہ ہو یا افغانستان کا یہ دونوں جنگی نقطہ نگاہ سے بہت اہمیت کے حامل ہیں یہاں پر ایک چھوٹی سی فوج ایک بڑی فوج کا بآسانی مقابلہ کرسکتا ہے لہذا بلوچستان اور افغانستان پر ان کا قبضہ صرف اور صرف عسکری تھا۔ ان خطوں میں اپنے کٹھ پتلیوں کو وسیع اختیار فراہم کرکے برطانوی قبضہ گیر انہیں اپنے مفادات کی تحفظ کے لئے لڑانا چاہتے تھے۔

لہذا برطانیہ کی پالیسی جس طرح افغانستان کی جانب بڑھ رہی تھی اس نے باقاعدہ ایک جنگ کی شکل اختیار کی تو اس دوران انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ افغانستان کے بعد قلات کی باری ہے۔ یہاں پر بلوچستان کے باشندوں کا ایک ہی مرکز قلات تھا اس مرکز کے خلاف اپنوں کی غداری کی وجہ سے پہلے سے ہی شدید سازشیں ہو رہی تھی اس سازشوں میں کچھ ملکی اور کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے اس وقت میر محراب خان خان آف قلات تھے وہ ایک جنگجو اور انتہائی شکی مزاج تھے غضبناک شخصیت کے مالک تھے۔ برحال انگریزوں نے اپنے قبضے کو طول دینے کے لیے اور قلات پر قبضہ کرنے کے لیے 1838 کو اس جانب رخ کیا۔ اسی دوران انہوں نے خان آف قلات میر محراب خان پر 5 الزامات لگائیں۔

پہلا الزام یہ تھا کہ خان آف قلات نے مری قبائل کو حکمنامے جاری کیے ہیں کہ انڈس آرمی جونہی بولان کے درے سے گزرے تو اس پر حملہ کر کے اسے نقصان پہنچایا جائے۔

دوسرا الزام یہ لگایا کہ میر محراب خان کے بھائی میر اعظم خان اس کا نام تھا اس نے کچھی کے بنیوں سے زبردستی پیسے وصول کیے ہیں اور وہ سارا غلہ لوٹا ہے جو انگریزوں کے لئے جمع کیا گیا تھا.

تیسرا الزام تھا کہ خان آف قلات میر محراب خان کچھی کے بنیوں کو باقاعدہ اپنے ہی لیٹر پیڈ پر یہ احکامات جاری کیے ہیں کہ انڈس آرمی یعنی انگریزوں کی فوج کو کوئی شخص ایک دانہ گندم کا بھی فروخت نہ کرے.

چوتھا الزام کہ میر محراب برنس کے کیمپ کو لوٹا ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود انگریزوں کو جس بات پر سب زیادہ غصہ تھا یا جس پر سیخ پاہ ہو رہے تھے وہ یہ تھا کہ میر محراب خان انگریزوں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ کراچی کی بندرگاہ کو واپس کیا جائے جس پر تالپوروں کا قبضہ ہے وہ بنیادی طور پر قلات کے زیر اثر علاقہ ہے جس پر 1795کو فتح علی تالپور نے فوج کشی کرکے قبضہ کیا تھا آج وہ انگریزوں کے زیر اثر ہے لہذا اس بندرگاہ کو واپس کیا جائے۔

ان کے بعد انگریزوں نے باقاعدہ فیصلہ کیا تھا کہ قندھار کے بعد قلات اسٹیٹ کی باری ہے لہذا 1838 میں قندھار پر حملہ کیا گیا اور بنیادی طور پر انگریزوں کو کامیابی ملی اگلے سال نومبر 1839 کو انگریزی فوج نے قلات کا رخ کیا.جب انگریزی فوج افغانستان سے قلات کی جانب رخت سفر باندھ لیا تو اس خطے میں ساراوان اور جھالاوان کے تقریباً تمام قبائلی سرداروں نے انگریزوں کا ساتھ دیتے ہوئے سبی میں باقاعدہ انڈس آرمی کا استقبال کیا۔ان کی فوج کی تعداد 2500 تھی اور سرداروں نے 7000 پر مشتمل ایک بڑی فوج ان کو فراہم کی۔ میر محراب نے یہ حالت دیکھ کر تب اس نے ساراوان، جھالاوان اور باقی تمام قبائلی سرداروں کو مدد کیلئے خطوط لکھے حتی کہ اپنی بیٹی بی بی بانڑی کو سردار رشید خان زرکزئی چیف آف جھالاوان کے پاس میڑھ بھیجا کہ انگریزی فوج حملہ کرنے کیلئے قلات کی جانب بڑھ رہی ہے لہذا میرے مدد کیلئے آؤ تو اس نے صاف جواب دیا کہ میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا ہاں البتہ میں انگریزوں کا بھی ساتھ نہیں دوں گا۔

کچھ ایسے سرفروش اور جان نثار تھے جن کو وطن سے محبت اور انگریزوں سے شدید نفرت تھا وہ اپنے وطن کی دفاع کیلئے قلات پہنچے۔ قلات اسٹیٹ کا یہ عالم تھا کہ صرف مرکز کی حفاظت کے لیے سات سو جان نثار موجود تھے جو مختلف قبائل کے لوگ تھے۔ صبح سے لے کر شام تک قلات کے قلعے پر بمبارمنٹ ہو تی رہی، آخر میں میر محراب خان کو ہتھیار ڈال دینے کا کہا گیالیکن وہ نہیں مانے جب گولیاں ختم ہو گئیں تو یہ سرفروش سب کے سب تلوار اٹھا کر انگریزوں سے آمنے سامنے ہوگئے دست بدست جنگ ہو رہی تھی اسی لڑائی میں 400 سے زائد لوگ مارے گئے اور 138 انگریز بھی مارے گئے اسی دوبدو لڑائی میں محراب خان لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور انگریزوں نے قلات پر اپنا قبضہ جما لیا۔

میر محراب بغاوتوں، سازشوں اور خانہ جنگیوں کے درمیان رہتے ہوئے بلوچستان پر 22 سال حکومت کی 13 نومبر 1839 کو انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے دلیروں کی موت مر کر لیکن تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ ہوگئے۔ انگریزوں نے قلات پر قابض ہونے کے بعد اپنی دلال میر شاہنواز خان کو کھٹ پتلی خان بنا کر تخت پر بٹھا لیا۔

میر محراب خان کی شہادت کے بعد اس کے بیٹے نصیر خان نے ڈیمانڈ کیا کہ میرے والد کے خلاف سازش کی گئی ہے لہذا ان الزامات کے حوالے سے تحقیقات کی جائے ۔جب تحقیقات کی گئی تو ملا محمد حسن، سید محمد شریف جیسے لوگ دلال اور غدار نکلے پھر ان کے کہنے پر آخوند محمد صدیق کو گرفتار کیا گیا ان گھروں سے خان آف قلات میر محراب خان کے ذاتی لیٹر پیڈ اور مال دولت بھی پائے گئے، جتنے بھی لیٹر خان کے نام پر انگریزوں کے خلاف لکھے گئے یہ سب کے سب ان غداروں نے لکھے تھے بطور سزا ان لوگوں کو جلا وطن کیا گیا۔

13 نومبر1839 سے لیکر 11 اگست 1947 تک بلوچستان انگریزوں کے زیر قبضہ رہا، 11 اگست کو اعلان آزادی ہوا اور قلات پر ریاست بلوچستان کا پرچم لہرایا گیا لیکن 14 اگست کو پاکستان کے نام پر ایک غیر فطری ریاست وجود میں آگیا اس نے انگریزوں کے طرز پر 27 مارچ 1948 کو بلوچستان پر چڑھائی کی گ اور ایک بار پھر بلوچستان کے باسی غلام بن گئے۔ محراب کے سپوت اس غلامی کے خلاف اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے اور آج تک قربانیوں کا تسلسل جاری ہے.




ریاستی دہشتگردی اور بلوچ طالب علم

قائد اعظم یونیورسٹی میں اپنے مطالبات کی حق میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بلوچ طلبا

: منان بلوچ
ریاست پاکستان کی غنڈہ گردی دہشتگردی اور انتہا پسندی کی تاریخ 70 سالوں پر محیط ہے اگر اس ریاست کی دہشتگردی انتہا پسندی اور ہٹ دھرمی کو سمجھنا ہے تو اس ریاست کی مختصر تاریخ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ریاست پاکستان نے اپنے قیام سے لیکر آج تک دہشتگردی کی وہ  مثالیں قائم کی ہے جنکی نظیر پوری دنیا میں شاید ملتی ہو. غنڈہ گردی اگر انفرادی سطح پر ہو تو ریاست اس دہشتگردی کو اپنے اداروں کے ذریعے آسانی سے کچل سکتی ہے لیکن جب ریاست اور ریاستی ادارے خود ہی دہشگردی اور انتہا پسندی کا مرتکب ہوں تو وہ مظلوم قوموں کی زندگی کو جہنم بنادیتی ہے. پاکستان نے بلوچستان میں اپنے آرمی ایف سی کے ذ ریعے جو دہشتگردی اور غنڈہ گردی پھیلا رکھی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں یہ غنڈہ گردی حالیہ سالوں میں اپنے عروج پر ہے. فوجی آپریشنز عورتوں بچوں کی جبری گمشدگی طالب علموں کا اغوا مسخ لاشیں استادوں کی ٹارگٹ کلنگ عورتوں پر تیزاب پاشی بلوچ طالب علموں پر علم کے دروازے بند کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کو فوجی چوکیوں میں تبدیل کرنا ریاست کی گندی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے جس میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے یہ ریاست کی غنڈہ گردی کی اعلی مثالیں ہیں. ریاست پاکستان اپنی دہشتگردی اور غنڈہ گردی کے ذریعے جب بلوچ قوم کو تعلیم سے دور رکھنے میں ناکام رہی تو بلوچوں کو تعلیم سے دور رکھنے اور علم کے دروازے بند کرنے کی پالیسی کو بلوچستان سے باہر دیار غیر میں پڑھنے والے بلوچ طالب علموں پر بھی نافذ العمل کردیا اور ان بلوچ طالب علموں کو بھی ریاستی انتہا پسندی کا نشانہ بنایا تاکہ بلوچ قوم علم کی روشنی سے محروم ہو کر اپنی تحریک سے دستبردار ہو. آپ بخوبی واقف ہیں کہ میں کس کی بات کررہا ہو میں اسلام آباد یونیورسٹی کے ان معصوم طالب علموں کی بات کررہا ہو جو کچھ دن پہلے ریاستی دہشتگردی کے بھینٹ چڑھے ہیں.پاکستان کا تعلیمی نظام ویسے دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو پیدا کرنے کا باعث ہے جسکی واضح مثال پاکستانی سینیٹ کے چیرمین کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے سینیٹ چیرمین رضا ربانی کے مطابق پاکستان کا تعلیمی نظام انتہا پسندی کو پیدا کرنے کا موجب ہے. ان تعلیمی اداروں کے اصول و ضوابط سے پتہ چلتا ہے کہ جامعات طلبہ کے لیے سیکھنے کی جگہ نہیں بلکہ طلبہ کو سزا دینے کی جگہ ہیں تعلیمی اداروں میں پولیس اور دیگر فورسز کو بلانے کا مقصد یہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ طالب علموں کو جامعات بھی اذیت گاہوں سے بدتر لگے. اسلام آباد انتظامیہ نے پولیس کے ساتھ ملکر معصوم طالب علموں پر ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کیا تاکہ وہ طالب علم اپنے حقوق سے دستبردار ہو کر خاموش ہوجائیں. اگر ریاست اپنی مشینری کا استعمال ریاستی دہشتگردی کے خلاف کرتی تو دنیا میں پاکستان کو ذلت اور شرمساری کا سامنا نہ کرنا پڑتا. جب کسی ایسے معاشرے کا ذ کر ہوتا ہے جہاں فیصلے بحث و مباحثے کے بغیر پہلے سے محفوظ ہوتے ہیں وہ معاشرہ ہمیشہ زوال پزیری کی جانب محو سفر ہوتا ہے ، پاکستانی معاشرہ ایک واضح مثال ہے جہاں ایک مخصوص طبقہ سیاہ و سفید کا مالک ہے اور تمام ادارے انہی فرشتوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں افسوس کی بات کہ صحافت جیسا عظیم شعبہ بھی انہی لوگوں کے ہاتھ ہے. ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ہونے والے واقعات میں میڈیا نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ریاست کی خدمت کا فریضہ بخوبی انجام دیا ہیاں تک کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے طالب علموں جو موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں انکو کوریج تک دینے کی زحمت نہیں کی. پاکستان میں یہ روایت عام ہے کہ جو لوگ سچ کا ساتھ دیتے ہیں اور باطل کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں تو انکی مسخ لاشیں ویرانوں سے ملتی ہیں یا انہیں زندانوں میں اذیت دی جاتی ہے ملک بدر کیا جاتا ہے لیکن اسکے برعکس دہشتگرد بغیر کسی ڈر کے دندناتے پھرتے ہیں بلکہ جامعات میں مذہب اور انتہا پسندی پر عظیم الشان لیکچر دیتے نظر آتے ہیں اگر ریاستی روئیے پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ شروع دن سے پاکستان بلوچستان اور بلوچوں کے ساتھ منافقانہ رویہ روا کئے ہوئے ہیں آج اگر فیصل آباد ‘ اسلام آباد لاہور ملتان اور پنجاب کا کوئی اور شہری اپنے حق کے لئے آواز بلند کرے تو اسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ بلوچستان یا خیبر پختونخوا کا طالب علم اگر اپنے سادہ مطالبات کے لئے سڑکوں پر آجائے تو انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ ان طالب علموں کو دہشت گرد جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے اور ان طلبہ کے خلاف ریاستی مشینری بہت جلد حرکت میں آجاتی ہے.  اگر اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا جرم ہے تو ہم مظلوم طلبہ مجرم کہلانا پسند کریں گے۔

آخر میں ریاست کے لئے مفت مشورہ
ہمارے گھروں کو بھی جیل بنادیں کیونکہ آپکی جیلیں بہت کم پڑ جانی ہے.