استادوں کا عالمی دن اور بلوچ استاد

image_pdfimage_print

 حمید بلوچ:
5اکتوبر کو دنیا بھر میں عظیم ہستیوں یعنی کہ استادوں کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد استادوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جو اپنے فرائض کو مخلصی اور ایمانداری سے سر انجام دیکر ملک و قوم کو ترقی کی جانب لے جاتے ہیں 5 اکتوبر 1994 کو پہلی بار اس دن کو اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی سطح پر منایا گیا ۔اس دن کو دنیا کے تمام مہذہب اقوام مناکر استادوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے سیمینارز، کانفرنسیں اور تقریبات کا انعقاد کرکے استادوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دنیا کا ہر مہذہب قوم ہر مذہب استادوں کو ایک اہم اور بلند مقام عطا کرتا ہے دین اسلام ہو عیسائی مذہب ہو یا بدھ مت جس طرح یہ مذاہب والدین اولاد رشتے داروں اور ہمسایوں کو حقوق دیتے ہیں اسی طرح یہ مذاہب استادوں کو بھی اعلی مقام عطا کرتے ہیں۔یہ دنیا جو پتھروں کے دور سے ترقی کرکے گلوبل ولیج تک پہنچ گئی ہیں اسکی ترقی میں استادوں کا ایک اہم کردار رہا ہے یہ استادوں کی محنت کا ثمر ہے جس نے دنیا کو افلاطون ارسطو اور سکندر اعظم جیسے نامور لوگوں سے آشنائی دلائی یہ استادوں کی قابلیت تھی جس نے ماؤ، منڈیلا جیسی ہستیوں نے جنم دیا۔استاد دراصل قوم کا معمار ہوتا ہے جو قوم کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے وہ قوم کے نوجوانوں کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندی پر لے جاتا ہے۔ استاد کسی ملک کی ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے تہذیب یافتہ ممالک میں استادوں کو اعلی مقام اس لئے حاصل ہے کہ وہ اپنے پیشے کو احسان سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور فرض سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ جج، وکیل، بیورو کریٹ، سیاست دان، ڈاکٹر ہر شعبے میں اعلی مقام حاصل کرنے والا فرد استادوں کی بدولت ہی یہ مقام حاصل کرتا ہے۔ استادوں کو دنیا میں وہ بلند پایہ مقام حاصل ہے جن کا اندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جن کا ذکر کرنا ضروری خیال کرتا ہوں. مشہور پاکستانی ادیب مرحوم اشفاق احمد کہتے ہیں کہ جب وہ روم یونیورسٹی میں لیکچرار تعینات تھے تو گاڑی چلاتے ہوئے میری گاڑی کا ایکسڈنٹ ہوگیا چالان کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مجھے عدالت میں لے جایا گیا دوران گفتگو جج کو پتہ چلا کہ میں ایک ٹیچر ہو ں اور وہ ایک استاد سے محو گفتگو ہے، تو انہوں نے میرے احترام میں کھڑے ہو کر عدالت میں موجود لوگوں سے انگریزی میں کہا کہ ’وہ ایک ٹیچر ہے‘ تو عدالت میں موجود تمام لوگ میرے احترام میں کھڑے ہوگئے یہ ہے دنیا کے ترقی یافتہ و تہذیب یافتہ ملکوں میں استادوں کی اہمیت۔ سکندر اعظم اپنے استاد ارسطو کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں، ارسطو زندہ رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوتے رہے گے مگر ہزاروں سکندر بھی مل کر ایک ارسطو کو پیدا نہیں کرسکتے میرا باپ وہ بزرگ ہے جو مجھے آسمان سے زمین پر لے آیا لیکن میرا استاد وہ عظیم ہستی ہے جو مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔دنیا میں جاپان ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہوتا ہے جس نے سائنس کے میدان میں ایک اعلی مقام پیدا کیا ہے جاپان کی دوسری جنگ عظیم میں تباہی کے بعد ترقی میں استادوں نے ایک اہم اور عظیم کردار ادا کیا ہے اس لئے اس ملک میں استادوں کو اتنا احترام دیا جاتا ہے جس کی مثال دنیا میں بہت کم نظر آتی ہے.ابن انشا ء کہتے ہیں کہ ٹوکیو یونیورسٹی میں مقامی استاد سے گفتگو کرنے کے بعد چل پڑا تو میں نے محسوس کیا کہ پیچھے سے گزرنے والا ہر طالب علم اچھل اچھل کر گزرہا تھا تو میں حیران رہ گیا کہ کیوں یہ طالب علم اپنے استادوں کے پیچھے ایسے اچھل کھود رہے ہیں شاید وہ اپنے استادوں کا مذاق اڑارہے ہیں تو میں نے ٹوکیو یونیورسٹی کے استادوں سے معلوم کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سورج کی روشنی سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑھ رہا ہے اور ہیاں سے گزرنے والا ہر طالب علم یہ نہیں چاہتا کہ اسکے پاوں اسکے استادوں کے سایوں پر پڑیں اس لئے یہ طلبہ اچھل اچھل کر چل رہے ہیں تو مجھے پتہ چلا کہ جاپانی قوم کی ترقی کا اصل راز کیا ہے۔ چاپان، امریکہ، فرانس، ملایشیا، سوئزلینڈ برطانیہ بھارت روس چین تمام ممالک کی ترقی میں استادوں کا ایک اہم کردار ہے اور انہی عظیم کردار کی وجہ سے ان ممالک میں استاد کو ایک اعلی و بلند پایہ مقام حاصل ہے۔ یہ ان ملکوں میں استادوں کی اہمیت ہے جو دنیا میں آزاد حیثیت رکھتے ہیں اور ان ممالک کے شعور یافتہ عوام اس بات سے واقفیت رکھتے ہیں کہ استاد ہی وہ عظیم ہستی اور پاور ہے جو دنیا بھر کے ممالک میں انکے ملک کا بہتر امیج پیش کرسکتا ہے جو اپنی محنت اور قابلیت سے ایسے سافٹ پاورز کو جنم دیتا ہے جو ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔لیکن جب ہم کسی ایسے ریاست میں قدم رکھتے ہیں جسے ظالم سامراجی ملکوں نے غلامی کی دلدل میں دھکیلا ہے وہاں صورتحال آزاد ملکوں سے مختلف ہے کیونکہ سامراجی ممالک استادوں کی اہمیت سے واقف ہیں، انہیں پتہ ہے کہ اگر کسی قوم کو بغیر کسی مزاحمت کے اپنا غلام بنانا ہے تو اس قوم کو تعلیم سے دور رکھو وہ قوم خود غلامی کو قبول کرلے گی، اس لئے تمام سامراجی ملکوں نے غلام قوموں کے استادوں کو خریدنے کی کوشش کی جو بک گئے وہ سامراج کی نظر میں ممتاز اور اعلی ٹہرے اور جنھوں نے بکنے سے انکار کردیا ان کا مقام اندھیری کال کھوٹھری میں ہوا یا انہیں قتل کرکے ویرانوں میں پھینک دیا گیا یا ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ہر اس ملک میں قابل اور قوم دوست استاد کو استحصال کرنے والی ریاستوں نے اپنے ظلم کا نشانہ بنایا اور ان کو قتل کرکے انکی لاشیں پھینکی گئیں تاکہ غلام قوم کو روشنی کی تصور سے ہی محروم کردیا جائے.ویتنام الجزائر چین انڈیا ہر جگہ ظالموں نے استادوں پر لاٹھیاں برسائیں، تیر چلائے تاکہ مظلوم اقوام شعور سے نا بلد ہوکر غلامی کو قبول کریں اور اپنی موت آپ مرے ۔ ویتنام کی تحریک آزادی میں نوجوان اسکول ٹیچر نگوین تھائی حوک جس نے مسلح قوم پرست پارٹی کی بنیاد رکھ کر سامراج کی خلاف جنگ کا اعلان کردیا اور اپنے علم کی روشنی سے ویتنامی جانبازوں کو منور کرتا رہا اسکے ساتھ کیا سلوک ہوا اسے گلا کاٹ کر ہلاک کردیا گیا. ہندوہستان کی تحریک آزادی کی بات کریں تو لالہ لجپت رائے جس نے نیشنل کالج کی بنیاد رکھی جہاں ہندوہستان کی تحریک آزادی سے منسلک فرد علم حاصل کرتے تھے انہیں سائمن کمیشن کے خلاف احتجاج کی پاداش میں لاٹھیاں مار کر قتل کیا گیا اور ایسے ہزاروں مثالیں ملیں گی کہ غلام قوموں کو آزادی اور ترقی سے دور رکھنے کے لئے ان کے استادوں کو غائب کردیا گیا یا شہید کردیا گیا. ایسی ہی صورتحال کا سامنا بلوچ سر زمین کے باسیوں کو بھی ہے جنہیں سامراجیوں کے دلال پاکستان نے 27 مارچ 1948 کو قبضہ کیا تھا وہ دن اور آج کا دن بلوچ قوم پاکستان کے استحصال کا شکار چلا آرہا ہے پاکستان نے قبضہ کرنے کے بعد بلوچ عوام کو مفلوج بنانے کی ہر ممکن کوشش کی بلوچ کے سماجی و معاشی نظام کو مسخ کیا بلوچ کو تعلیم سے دور رکھنے کے لئے اسکولز کالجز اور یونیورسٹیوں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کردیا گیا بلوچ طالب علموں اور استادوں کو غائب کرنے کے بعد ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینک دئیے گئے تاکہ بلوچ عوام ان مخلص ایماندار اور قوم دوست استادوں سے محروم ہو کر علم کی روشنی سے دور رہیں اور ہمیشہ پاکستانی غلامی کو اپنے لئے نجات سمجھیں، لیکن قوم دوست بلوچ استادوں واجہ صبا دشتیاری استاد علی جان، استاد ہیبت اللہ، استاد نور محمد مری، استاد زاہد آسکانی، استاد کمال کودائی، استاد سفیر جان، نوجوان ٹیچر سر رسول جان جن
کا تعلق بلوچ قومی تحریک سے تھا انہوں نے اپنے مخلصانہ جدوجہد سے بلوچ قوم کو شعوری طور پر بیدار کیا اور پاکستانی سامراج کے خلاف جدوجہد کرنے کا درس دیا جسکی پاداش میں دہشتگرد ریاست نے یا تو انہیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا یا تو انہیں اغوا کرنے کے بعد شہید کردیا. استاد صبا دشتیاری بلوچ قوم کے وہ معلم تھے جنھوں نے بلوچ طالب علموں کو شعوری علم کی روشنی سے منور کیا استاد صبا پاکستان اور بلوچ کے رشتے کو آقا اور غلام کا رشتہ تصور کرتے تھے وہ بلوچ قومی تحریک کا پیغام بلوچستان کے گلی کوچوں تک لے گئے لاپتہ افراد کا مسئلہ ہو فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج ہو استاد صبا ہر پروگرام میں پیش پیش ہوتے انکی خدمات کے اعتراف میں بلوچ آزادی پسند تنظیموں نے انہیں معلم آزادی اور قندیلِ بلوچ کا خطاب دیا لیکن اپنے پیشے اپنے قوم اور اپنے طالب علموں سے مخلص استاد صبا دشتیاری کو دن دیہاڑے پاکستانی دہشتگرد ریاست نے شہید کرواکر بلوچ طالب علموں کو ایک مخلص اور ایماندار استاد سے محروم کردیا.استاد زاہد آسکانی جنہیں بلوچ طلبہ تنظیم ان کی خدمات کے اعتراف میں سنچار کے لقب سے نوازتی ہے علم و شعور لانے کی پاداش میں شہید کردیئے گئے تاکہ بلوچ عوام شعور کی طاقت سے بہرہ ور نہ ہو پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچ استادوں کا قتل عام اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاکستان بلوچ قوم کی تحریک آزادی سے خوفزدہ ہے کیونکہ اس ظالم ریاست کو اس بات کا ادراک ہے کہ استادوں کی محنت اور ایمانداری نے بلوچ نوجوانوں کو جو شعور دیا ہے وہ شعور کی طاقت بلوچ سر زمین پر پاکستان کی موت ہوگی اور بلوچ قوم کی آزادی قریب ہے اس لئے بلوچ ریاست کو اپنے دلالوں کے ذریعے چلانے کے لئے بلوچ استادوں اور طالب علموں کو شہید کررہی ہے لیکن ظالم ریاست کو شاید یہ پتہ نہیں کہ بلوچ استادوں نے علم و زانت کی جو روشنی پھیلائی ہے وہ روشنی پاکستان اور اسکے دلالوں کے لئے بلوچ سر زمین کو تنگ کردے گی۔ آج دنیا اپنے معزز استادوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مختلف پروگرامز کا انعقاد کررہی ہے لیکن بلوچ طالب علم غلامی کی وجہ سے اس دن کو جوش و خروش سے نہیں مناسکتی کیونکہ ریاست نے بلوچ طالب علموں پر کریک ڈاون کا آغاز کرکے بلوچ قوم کو اس حق سے بھی محروم کردیا ہے.آج اس اہم دن کے موقع پر بلوچ طالب علم یہ عہد کریں کہ بلوچ استادوں نے اپنی محنت قربانی سے آزادی اور علم کی شمع روشن کی ہے ہم اس روشنی کو بجھنے نہ دیں یہ روشنی ہی ہماری زندگی ہے اگر یہ روشنی بجھی تو سمجھ لو بلوچ قوم ایک قوم کی حیثیت سے اس دنیا میں زندہ نہیں رہیں گی شاید بلوچ قوم کا نام داستانوں میں بھی نہ ملے. آج کے اس انقلابی دور میں بلوچ طالب علموں اور استادوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہدا کے نقش قدم پر چل کر علم کی شمع کو روشن کریں گے اور اپنے علم کی روشنی سے بلوچ سرزمین کو روشن کریں گے۔