ڈیرہ غازی خان نئے حالات کے تناظر میں گل ہانی بلوچ

image_pdfimage_print

ڈیرہ غازیخان مقبوضہ مشرقی بلوچستان کا آخری سیم و حد ہے ۔یہ ریجن اپنی اس خاص محل وقوع کی وجہ سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔جس طرح اسکی محل وقوع خاص اہمیت کے حامل ہے اسطرح اس ریجن کے حالات وقت کے ساتھ ساتھ فوجی مقاصد کے تحت بدلتے رہتے ہیں۔ اسکے وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔
-یورینیم بہتات والا ریجن کوہ سلیمان۔
-سیمنٹ ،تیل و گیس فارمیشن والا ریجن کوہ سلیمان ۔
-میزائل پراجیکٹ۔
-نوآبادکاری۔
-فوجی کینٹس۔
-عوامی انقلاب کا خطرہ۔
پاکستان نے حال ہی میں یہ پراجیکٹ لانچ کئے ہیں اور کچھ تو پاکستان کو انگریز آقا کی طرف سے وراثے میں ملے ہیں۔جو لانچ کردہ پراجیکٹ ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں
۱)پُھگلہ اور بغلچر پراجیکٹ
پاکستان ایٹمی پاور کوہ سلیمان کے ریجن سے ہوا اور یہاں یورینیم کی بہتات کی وجہ سے اسکے وہاں پراجیکٹس بھی زیادہ ہیں اورہر پانچ سال میں تقریبا ایک نئی پراجیکٹ کی شروعات ہوتی ہے۔پھگلہ پراجیکٹ ایک نئی پراجیکٹ ہے ۔جہاں اس سال کام کی شروعات ہونے والا ہے حالانکہ پھگلہ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر زین ایٹامک پراجیکٹ پچھلے تیس سالوں سے کام کر رہی ہے۔کوہ سلیمان ریجن میں یورینیم کے low Grade والے پہاڑ تو بہت ہیں مگر ان پہاڑوں کے سلسلے بہت کم ہیں۔ اس ریجن میں یورینیم کے High Grade والے پہاڑ کم مگر انکے سلسلے گہرے اور لمبے فاصلے والے ہیں۔یاد رہے یہاں یورینیم زرد رنگ کا ہوتا ہے جسے جیو لوجیکل سروے آف پاکستان ایٹامک انرجی کمیشن کی کوڈ زبان میں Yellow Cake کہتے ہیں اور یہ سب سے طاقتور یورینیم ہے جس سے صرف ایٹمی میزائل بنائے جاتے ہیں۔بغلچر پراجیکٹ نوے کے آخری عشرے میں بند کردیا گیا تھا۔جسے اب پچھلے ماہ پاکستان آرمی اور پاکستان ایٹامک انرجی کے اہلکار سروے کر گئے ہیں اور حال ہی میں آرمی کی چھ اور چار رازشن کی گاڑیاں بغلچر کے نزدیکی علاقہ تھولغ ڈگر مٹ چانڈیہ میں پہنچ کر کیمپ لگایا دیا گیا ہے۔


کیڈٹ کالج
ڈیرہ غازیخان کے صحت افزا مقام فورٹ منرو ہے جسکی بلندی 6300 فٹ ہے۔پچھلے سال 14 اگست کو جب فرنٹیئر کور اپنی حدود کو تجاوز کرتے ہوئے فورٹ منرو میں لوگوں کو جھنڈیاں لگانے اور جشن منانے آئے توبلوچ لبریشن آرمی نے حملہ کرکے ان کے چودہ اہلکار ہلاک کر دیے۔اس حملے کے تین ماہ بعد فورٹ منرو میں کیڈٹ کالج کے نام سے سروے شروع ہوا۔اس واقعے کے فورا بعد سروے اور کیڈٹ کالج کا نام مگر حالات و واقعات سے یہ کینٹ سے کچھ کم نہیں ہو گا۔
آرمی سلیکشن سنٹر
یہ سلیکشن سنٹر پہلی دفعہ کوئٹہ روڈ عقب کچھی کینال ڈیرہ غازیخان میں قائم کیاگیا ہے۔ اس ریجن میں جتنے بھی آرمی کی بھرتیاں ہوتی تھی ان تمام کا سنٹر کوئٹہ کینٹ یا ملتان کینٹ ہوا کرتا تھا اسکی وجہ یہ تھی کہ یہ ریجن ایٹامک کی روزگار سکیم کی وجہ سے اتنا خوشحال ہے کہ یہاں آرمی سلیکشن سنٹر تک نہیں ہے اور اگر قائم کر بھی دیا جائے تو اتنی خوشحالی کے باوجود اس سنٹر کی طرف کون بدبخت منہ موڑے گا،یہ دعوے ،نعرے،خوش فہمیاں،بہکاوے،لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں۔حالانکہ اس پورے ریجن کے نوجوان آرمی،ایف سی اور دبئی سعودی میں زریعے معاش کمارہے ہیں ۔اسی سال چودہ اگست حملے کے بعد اس شہر میں سلیکشن سنٹر قائم کر دی گئی ہے۔
فوجی مقامات
ڈیرہ شہر سے سولہ کلومیٹر کے فاصلے (بمقابل ائر پورٹ اور آرمی کینٹ )پربمقابل پٹرولنگ ہائی وے پولیس ہیڈ تھانہ کے سامنے آرمی نے محکمہ جنگلات سے 48 کینال زمین نوے سالہ لیز پر لے لی ہیں ۔جہاں آرمی نے ایک چھوٹا سا مارکیٹ اور ایک اپنی عسکر پیٹرول پمپ بنایا ہے ۔اس مارکیٹ اور پمپ میں کام کرنے والے لوگ تمام کے تمام اندرون پنجاب سے ہیں ،شہر سے سولہ کلومیٹر دور مارکیٹ کے اس پاس کوئی آبادی نہیں ہے تو مارکیٹ کے مقاصد کیا ہوں گے۔۔۔۔؟اندرون پنجاب کے لوگوں کے اس پمپ اور مارکیٹ میں کم اجرت(بقول ورکرز) پر کام کرنے کے مقاصد۔۔۔۔؟اور اسی کے عقب میں ٹول پلازہ کے ساتھ ایک جنگل نما کیمپ جہاں ظاہرا کچھ نہیں ہے مگر اس کیلئے اس کے ساتھ ایک گریڈ اسٹیشن ہے۔اس جنگل نما کیمپ پہ آرمی کی کیمپ کوڈ نمبر لگا ہوا ہے۔اس جنگل نما کیمپ کو 2008 میں بنایا گیا تھا۔یہ دونوں مقامات دالان میزائل پراجیکٹ،آرمی کینٹ،ائر پورٹ،ایٹامک مین کیمپ اور سخی سرور کینٹ ہر اطراف میں پانچ پانچ کلومیڑ کے فاصلے پر ہیں۔
سرنگ پراجیکٹ
ڈیرہ غازیخان سرزمین میں سرنگیں اس وقت شروع کی گئی ہیں جب مشرف کے دور میں منموہن سنگھ نے مشرف کو دھمکی دیتے ہوئے یہ کہا کہ مجھے گدائی(گدائی کوئٹہ روڈ پر واقع اندرون سٹی ایک روڈ جنکشن کا نام ہے اور اسی گدائی کے قریب ایٹامک مین کیمپ ہے جو 1965 کو بنایا گیا ہے) کی دھمکیا ں مت دیا کرو۔اس دھمکی کے بعد ایٹامک نے فوجی مقاصد، اپنی نقل و حرکت،اور انڈر گراونڈ یورینیم کوہ سلیمان کے کچھ علاقوں سے نکا لنا شروع کردیا ہے جو شہر سے قریب ہیں ۔انڈر گراونڈ یورینیم نکالنے کا فائدہ یہ ہے کہ نہ ہم یورینیم نکال رہے ہیں نہ عوام مانگے گی(نہ رہے گا ڈھول نہ بجے گی بانسری)۔یہ سرنگ ایٹامک مین کیمپ سے نکلتے ہوئے آرمی سلیکشن سنٹر پہلا جنکشن ،دوسرا جنکشن دالان روڈ کے قریب خاردار باڑجو ظاہرا شکار گاہ ہے ،تیسرا سرنگ ٹول پلازہ کے عقب میں جنگل نما کیمپ ،چوتھا دالان کینٹ،پانچواں بغلچر ایٹمامک پراجیکٹ ہے۔اور اب پاکستان ایٹامک انرجی کمیشن زیادہ زور سرنگ پالیسی پہ دے رہی ہے چونکہ اسکے فوائد زیادہ ہیں۔
نوآباد کاری
اگر کسی قوم کو اسکی سرزمین میں زندہ ختم کرنا ہے تو اسکے تین طریقے ہیں
۱۔آقا کو عقل کل سمجھا جائے ۲۔قوم کونشے میں مبتلا کر دیا جائے ۳۔نوآباد کاری کر دی جائے
انگریزوں کے دور میں ڈیرہ جات پر مکمل کنٹرول انگریز آرمی کی تھی تو یہ علاقے قلات سے انتظامی بنیادو ں پر الگ کیے گئے۔قیام بلوچستان تک یہ علاقے یا تو لیزڈ ایریا میں آتے یا پھر ڈائریکٹ انگریز کے کنٹرول میں تھے۔اسی طرح ڈیرہ غازیخان ڈائریکٹ انگریز کے کنٹرول میں تھا اور قیام کے ساتھ ڈیرہ جات کو قانون بلوچستان میں شامل کیاجاناتھا مگر توڑو اور حکومت کرو کی پالیسی اس کے برعکس تھا۔ڈیرہ شہر میں پہلی نو آبادکاری انگریزوں نے1947 میں انڈین آرمی کے لوگوں کی کروائی تھی۔اس شہر میں انڈین آبادکاریوں کی ایک زبردست آبادی ہے جو شہر کے وسط اور شہر کی سب سے بڑی انگریزوں کی کنسٹرکٹڈ کالونیوں میں آباد ہیں۔اس شہر کے بلدیاتی اسمبلی میں میئر بلوچ اور ڈپٹی میئر مہاجرہوتا ہے۔ کوئٹہ کی طرح میئر بلوچ اور ڈپٹی میئر پٹھان ہوتا ہے ۔دوسری نوآباد کاری پاکستان نے اس وقت کی جب انڈیا کے مشرقی بہار میں 1970 میں ہندو مسلم مذہبی فسادات شروع ہوئے تو پاکستان نے ڈرامائی جذبے مسلمہ(یعنی مسلمان مسلمان کا بھائی ہے) اور بلوچ قوم کو اقلیت میں بدلنے کیلئے بہار سے بہاریوں کو لاکر لیاری،ملیر،جیکب آباد،شکار پور،کشمور،لسبیلہ،گوادر،نصیرآباد اور ڈیرہ غازیخان میں آبادکردیے۔ڈیرہ غازیخان شہر میں بہاریوں کی ایک زبردست آبادی ہے جو شہر کے دوسری بڑی کالونی بہاری کالونی میں آباد ہیں۔ اور اب پاکستان تابوت پہ آخری کیل ٹھونکنے کیلئے افغانیوں کو اس شہر میں آباد کر رہا ہے۔پچھلے سال افغانی اور مہاجر شہر میں لڑ پڑے تو چاروں طرف پنجاب پولیس،ایلیٹ فورس،رینجر اور آرمی خاموش تماشائی اس دنگل سے لطف اٹھا رہے تھے۔ تو قریب میں میرے ایک دوست نے جا کے آرمی کے سپاہی سے پوچھا کہ آپ لوگ ان کو کیوں نہیں چھڑاتے تو سپاہی کے یہ الفاظ تھے کہ پٹھان ویسے ان سے مار نہیں کھاتے مگر پٹھانوں کو آباد کرنا ہماری ایک پالیسی ہے۔ اس پالیسی سے کچھ یوں لگ رہاہے کہ پاکستان کراچی کی طرح ڈیرہ غازیخان کو پٹھان اور مہاجروں کو بلوچوں سے لڑوا کر بلوچوں کی نسل کشی کر کے انہیں ان کی اپنی سرزمین پر بے زمین کر دے گی۔اگر ڈیرہ غازیخان کے بلوچوں نے ان نازک حالات کو نہیں سمجھا تو وہ دن دور نہیں ہو گا کہ بلوچوں کے بچے اپنے وسائل سے محروم ہو کر اپنی دولت مند سرزمین پہ بیٹھے بیگانہ ہو کر غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے۔ اور اپنی سرزمین میں آپ یوں بے شناخت ہوں گے کہ آپکو اپنی سرزمین میں ایک انچ زمین نہ بیٹھنے کو ملے گی نہ دفنانے کو،جیتے جی ریڈانڈین کی طرح ختم ہوکر تاریخ کی گمشدہ قوموں کے چند اوراق پہ کالی سیاہی سے لکھے چار الفاظ ہوں گے اورآثار قدیمہ والے آپ کے سرزمین کے دلبند کو چیرتے ہوئے گمشدہ قوم کو ڈھونڈے گی۔اللہ نہ کرے ایسا ہو مگر قومیں وہ ہوتی ہیں جو اپنے آپ کو وقت سے پہلے ہوشیار کر کے زمانے کے نئے تقاضوں کے ساتھ اپنی وجود سلامت رکھیں اور دنیا میں خود کو تسلیم کروائیں۔
مذہبی شدت پسندی
حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچ قوم ایک سیکولر اور مذہب کے بارے میں ایک انتہائی معتدل خیالات رکھتی ہے۔اس نفسیات کے باوجود بھی انگریز جنرل ڈائر نے تفتان باڈر پہ بلوچ قوم میں مذہبی شدت پسندی ابھار کر انہیں کنٹرول کیا اور آج تک یہ علاقے افغانستان میں جہاد ،یا پھر ایران کے ساتھ جہاد کے نام پر پاکستان انہیں لڑوا رہا ہے ۔پاکستان شروع دن سے اس پاگل پن میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح بلوچ قوم کو مذہبی شدت پسندی کی طرف لایا جائے ۔اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ مذہبی لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر چیز اللہ دے گا ۔ریاست اللہ کے حکم کے سوا کچھ نہیں کر سکتی ۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ انہیں کچھ بھی نہ دیا جائے تو یہ لوگ خداسے مانگیں گے ،اگر کسی مذہبی کو معلوم بھی ہو جائے کہ یہ ریاست کا حق ہے تو وہ کبھی احتجاج نہیں کرے گا ۔کیونکہ اسکی سوچ یہ ہے یہ اسلامی ملک ہے۔ اس سے حق کیلئے لڑنا بھی عظیم گناہ ہے۔ اور قیامت کے دن اللہ ہمارا حق چھین کے دے گا مگر پاگلوں کو یہ معلوم نہیں کہ قیامت کے دن اس حق کو کیا کروگے،یہ حق کس شکل میں دیا جائے گا اور وہاں یہ حق لیکر کیا کرو گے۔وہاں تو صرف اعمال کام آئیں گے نہ کہ لو ٹا ہوا سرزمین اور معدنیات ۔تیسرا یہ آپس میں لڑیں گے میرا انہیں خیال بھی نہیں رہے گا نہ اپنے حقوق کا۔ اور یہ لوگ مسلسل نہ ختم ہونے والی استحصال کی بھینٹ چڑھ جائیں گے اور یہ استحصال پوری قوم کو بھکاری بنا کر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دے گی۔اسی پالیسی کے تحت پاکستان اس ریجن میں کئی دہائیوں سے کام کر رہا ہے۔ان علاقوں میں مذہبی شدت پسندوں کے تین گروپ سرگرم ہیں ۔اول گروپ جہاد کے سب سے بڑے رہنما خطیب لال مسجد مولانا عبدالرشید مزاری، مولانا عبدالعزیز مزاری یہ بھائی ملٹری انٹیلیجنس کے ایجنٹ ہیں اور یہ دونوں بھائی روجھان مزاری میں ایک مدرسہ کئی سالوں سے زبردست تعداد کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔انکو ملٹری نے جہاد کی تربیت کاکام سونپ دیا ہے۔ او ر دوسرا گروپ عبدالستار تونسوی قیصرانی اور مولانا اعظم طارق کو شیعہ اور احمدی کافر قرار دینے کا کام سونپا گیا ہے ۔یہ دونوں عرصہ دراز سے کئی مدارس میں اس بات کی تبلیغ کر تے رہے مگر ستار قیصرانی مر گئے اور اعظم طارق کو مار دیا گیا ہے۔مگر اب تک انکے مدارس چل رہے ہیں۔انہیں کے گروپ نے 2008 کوڈیرہ غازیخان میں ایک مسجد پر خود کش حملہ کیا جس میں دو سو بلوچ شہید ہو گئے۔یہ گروپ تونسہ شریف میں عرصہ دراز سے احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو شہید کر رہا ہے۔ پچھلے سال انہیں کے گروپ کے نابالغ مجاہدوں نے رمضان مہینے میں احمدی مسجد پر روزہ افطاری کے دوران حملہ کیا اور اسکے بعد وہ لڑکے گرفتار ہوئے۔ اور انہیں جعلی پولیس مقابلے میں بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کا نام دے کر سخی سرور میں جعلی آپریشن کے دوران انکی ٹارچر شدہ لاشیں پھینک دی گئی۔اس جعلی آپریشن کے دوسرے دن پھر نابالغ مجاہدین نے تونسہ شریف میں مشہور میڈیکل سٹور اکرام میڈیکل سٹور پر حملہ کر کے اکرام نتکانی بلوچ کو شہید کیا ۔اکرام کی شہادت کے بعد مادروطن کے فرزندوں نے اپنے سرزمین سے نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔کچھ ملائیشیا ،جرمنی،انڈونیشیا کو چلے گئے تو کچھ ڈیرہ غازیخان اور کوئٹہ شہر میں جا کر آباد ہو گئے۔تیسرا گروپ تبلیغی مجاہدین کا ہے جو جہاد کی فیکٹری کو ایندھن فراہم کرنے کیلئے بنایا گیا۔یہ حضرات کئی سالوں سے سرگرم ہیں اورانہوں نے ڈیرہ بگٹی ،کوہلو،بارکھان ،رکنی ،ڈیرہ غازیخان ،راجن پور،تونسہ شریف میں تو اپنے بڑے بڑے مدارس بنائے ہیں ۔پاکستان اس جماعت سے دو کا م لے رہی ہے ایک جہاد کی پراڈکشن ،سروے اورمردم شماری۔یہ جماعت قبائلی علاقوں میں تبلیغ کے ساتھ ساتھ کارگزاری کا عمل بھی کرتے ہیں،اس عمل کیلئے جہاں جہاں جس جس گھر میں جاتے ہیں وہاں کے علاقے کے راستوں کے نقشے اور علاقے کے تمام افراد کا ڈیٹا لاتے ہیں۔اور ان علاقوں میں اپنے چھوٹے مدارس بھی کھولتے جاتے ہیں۔اب لوگوں کی نفسیات اس حد تک بدل گئی ہے کہ کہ ڈیرہ غازیخان میں اگر کوئی ثقافتی پگڑی پہنے تو اسے جاہل سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی تبلیغی پگڑی باندھے تو وہ فرشتے سے کم نہیں سمجھا جاتا۔ اگر بلوچ سیاسی پارٹیوں اور عسکری اداروں نے اس حوالے سے کوئی منظم حکمت عملی تشکیل نہیں دی تو یہ اس خطے کے بلوچوں کے لئے بڑے نقصان کا سبب بنیں گے۔ یاد رہے حال ہی میں حافظ سعید نے یہ بیان دیا ہے کہ بلوچستان میں مجاہدین کی وجہ سے پاکستان کا جھنڈا لہر رہا ہے، یہ اس بات کا واضح اظہار ہے کہ مذہبی شدت پسند بلوچستان میں فوج کے پے رول پر ہیں ۔ آئی ایس آئی اور ملٹری آئی کے لوگ مذہبی روپ دھار کرقوم کے درمیان رہ کر تحریک کے بارے میں کنفیوژن پھیلا رہے ہیں اور شدت پسند پیدا کر کے بلوچ تحریک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور کریں گے۔
محکمہ ویٹرنری
قوموں کو غلام بنانے کیلئے ریاستوں کے تمام ادارے اپنی اس فرض کو نبھانے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ کہ کہیں اس فرض کو ادا کرتے ہوئے کوئی کمی کوتاہی نہ رہ جائے ۔جس سے غلام قوم شعوری حوالے سے شعوری عوامی انقلاب نہ برپا کر دیں۔
اس غلامی کو برقرار رکھنے والے فرض کو نبھانے کیلئے پاکستان کے محکمہ ویٹرنری بھی ڈیرہ غازیخان میں سرگرم عمل ہے ۔حالانکہ پاکستان میں محکمہ ویٹرنری کا کوئی رول نہیں ہوتا اور نہ ہی ڈیرہ غازیخان میں، مگر نفسیاتی جنگ میں سرگرم عمل ہے۔ڈیرہ غازیخان میں پاکستان کے تمام جنکشن شاہراہوں اور اندروں شہر اور دیہاتوں میں ہر جگہ محکمہ ویٹرنری نے اپنے تمام سائن بورڈز آویزاں کر کے ان پر یہ نقش کیا ہوا ہے۔
بھیڑ بکری پال بلوچا
ہوجا خوشحال بلوچا
ویسے اس نفسیاتی جنگ میں محکمہ ویٹرنری صرف سرگرم عمل نہیں بلکہ تبلیغی جماعت بھی اس صف میں صف اول پر ہے۔یہ حضرات ہر علاقے میں تقریر کرتے ہو ئے یہ کہتے ہیں کہ بکریاں پالو بکریاں نبی کریم ﷺ نے پالے ہیں ۔بکریاں پالنا سنت ہے ۔دیکھو نبی کریم ﷺ کے گھر کچھ نہیں تھا مگر بکریاں پالتے تھے اور خوشحال تھے اور تم لوگ بھی اس سنت کو اپنی زندگی میں اپناو اور خوشحال زندگی بسر کرو۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ بلوچ صرف بھیڑ بکری پالے تاکہ انہیں زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے اور نہ ہی تعلیم کی ڈیمانڈ کریں اس سے یہ دائم غلا م رہیں اور رہیں گے اوراپنے آقا کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے دوڑ میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے لڑا یا جائے۔ تاکہ اپنے مسائل میں پھنسے رہیں اور آقا کے آقا ہونے کی خبر تک انہیں نہ ہو اور یہ آقا کو اپنا خیرخواہ سمجھیں۔
جہالت دنیاکی سب سے بڑی نعمت ہے
اسکا فائدہ یہ ہے کہ نہ آپ جانتے ہو اور نہ ہی آپ جنجال میں ہو جو کچھ تمھارے خلاف ہو رہا ہے اور جو تم کر رہے ہو۔اس سے تم بے خبر مگر عارضی خوشحالی میں اپنا جی بہلانا، آقا کو عقل کل سمجھتے ہوئے اپنی قوم کو جاہل تصور کرتے ہوئے غلامی کی سیڑھی چڑھنا، اپنے آقا کو مقدس سمجھنااور اپنی ماں ،مادر، مادروطن کو غیر کے ہاتھوں دینا چاہے وہ زمین کا جس طرح چاہے استحصال کرے۔اس سے آگے کی نہ سوچیں اور نہ ہی سوچ سکیں ۔اس نفسیاتی جنگ میں بلوچ کو ایک
ڈبے میں بند کر کے چھوڑ دینا تاکہ اس وائرس کو ڈبے میں آکسیجن ملے یا نہ ملے ،مرے یا نہ مرے ہم زمہ دار نہیں کیونکہ وہ اپنی موت آپ مرا ہے مرنے والے کو کون روک سکتا ہے۔مرے تو اور بھی فائدہ ہے ایک بلوچی محاورہ ہے”نہ بی گٹھ نہ بی بِلگری”ترجمہ” نہ رہے گلہ تو نہ رہے گی گلے کا ہار”۔
سی پیک پراجیکٹ
اس سی پیک پراجیکٹ کے نام پہ ترقی کے کھوکھلے نعرے نے ڈیرہ غازیخان ہی نہیں پورے بلوچستان کو منتشر کررکھا ہے ۔یہ چھان مار وسائل کی لوٹ کھسوٹ پر مبنی طاقت کے نشے میں مبتلا بد مست ہاتھی کی طرح پاکستانی فوج اور کمپنیزنے استحصال کے لئے بلوچ علاقوں کے سروئے شروع کیے۔ڈیرہ غازیخان کے چند علاقے جہاں سی پیک روٹس کے نام پہ روڈز پراجیکٹ شروع کیے گئے ہیں جس میں فورٹ منرو اسٹیل پل جو راکھی سے لیکر بواٹہ تک ہے،جو تقریبا پندرہ کلومیٹر ہے۔یہ اسٹیل پل بنانے کیلئے جاپانی کمپنی کو دی گئی ہے۔جس پہ اب کا م جاری ہے۔دوسرا فورٹ منرو ٹاپ سے پہاڑی بلندی سے ہوتے ہوئے” بیسر بن ” سے رونگھن کو ملاتی ہے۔تیسرا رونگھن سے ہوتے ہوئے ” یک بئی ”جو کہ 7430feet بلندی سے ہوتے ہوئے رکنی بلوچستان سے آ ملتا ہے۔چوتھا رونگھن سے ہوتے ہوئے ”مبارکی ” جو کہ 6450 feet بلندی سے ہوتے ہوئے کھرڑ بزدار کو ملاتے ہوئے چھپر رکنی سے آ کے ملتی ہے۔ان تمام علاقوں میں یہ illusion پھیلا گیا ہے کہ اگر ژوب روڈ پہ لبریشن کے حملے کا خطرہ ہوا تو یہی روٹس متبادل کے طور پر استعمال کیے جائیں گے اور ان روڈوں سے علاقے میں ترقی آئے گی۔حالانکہ جن ایریاز میں روڈوں کا جال پھیلایا گیا ہے وہاں تیل اور گیس کے پاکستانی کمپنی OGDCL اور Bijing company china نے مشرف کے دور میں ڈرلنگ کی ہے ۔جیسا کہ مبارکی کے علاقے سمیلی میں تین جگہوں پہ تیل اور گیس دریافت ہوا ۔اور یک بئی کے علاقے بیسر اور نیلغ تھوخ میں دو جگہوں پہ ڈرلنگ کی گئی ہے وہاں بہت بڑی مقدار میں تیل اور گیس دریافت ہوا ۔اور فورٹ منرو میں ایک جگہ پہ تیل اور گیس دریافت ہوا۔ان روڈز کا جال پھیلانے کا مقصد سی پیک نہیں بلکہ تیل اور گیس کا استحصال ہے۔پچھلے دنوں پاکستان آرمی نے یہ کہا کہ وہ بلوچستان میں تیل و گیس جاندران(کوہلو) سے اور سیمنٹ (وڈھ اور خضدار) سے نکالنے پر غور کر رہی ہے۔
رینجرز
ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں رینجرز اور آرمی مشترکہ حکمت عملی کے تحت کا م کر رہے ہیں۔حالانکہ رینجرز کو اسی سال ڈویژن میں ورکنگ آرڈر دیے گئے۔رینجرز اس سے پہلے ڈسٹرکٹ راجن پور میں تعینات تھی جو صرف بلوچ سرمچاروں کے خلاف چھوٹے و بڑے پیمانے پر نبرد آزما تھی۔ لیکن اب راجن پور کے خاص پہاڑی علاقوں(ان پہاڑی علاقوں میں قبائلی فورس بارڈر ملٹری پولیس بھی کام کرتی ہے) اور دیہاتی علاقوں میں لوگوں کو پکڑنا اور کچھ کو پولیس مقابلے میں شہید کرنا اور کچھ سے پیسے بٹور کر چھوڑ دینا ۔آرڈر کے ملتے ہی پہلا آپریشن راجن پور میں غلام رسول مزاری کے خلاف آرمی اور رینجرز کی مشترکہ حکمت عملی پر مبنی آپریشن تھا۔راجن پور کے تمام مظالم ، آپریشنیں اور پیسے کے یہ دھندے ذاکر بزدار نامی ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکار کی سربراہی میں ہوا اور آج تک ہو رہے ہیں۔ذاکر بزدار وہی بندا ہے جو راجن پور میں
بلوچ مسنگ پرسنزز کی لانگ مارچ روکنے کے لئے بار بار ماما قدیر کو بلوچیت کے نام پہ دھمکاتا تھا۔ہر وقت ماما سے یہی کہتا “ماما میں بلوچ ہونے کے ناطے آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ لانگ مارچ ختم کردو ورنہ آپکا آگے حال برا ہوگا”۔دوسرا آپریشن انڈس ہائی وے سے ملحقہ علاقے شادان لنڈ،یارو،سیمنٹ فیکٹری،پیر عادل،کالا اور زندہ پیر میں کیا۔جہاں کافی تعداد میں لوگوں کو اغوا کر گئے ہیں اور حیرانگی کی بات یہ ہے ان اغوا شدگان کی فیملیز کو آرمی ملتان ہیڈکواٹرر سے مسلسل رابطے میں ہے۔جو اس انداز میں ان کے فیملیز کو میسبج کرتے ہیں”سلام آپکا لڑکا صحیح حالت میں ہمارے پاس ہے جسکی انویسٹیگیشن چل رہی ہے۔انویسٹیگیشن مکمل ہونے کے بعد چھوڑدیا جائے گا۔پاک آرمی زندہ باد”۔تیسرا آپریشن آرمی اور رینجرز فورٹ منرو اور ماڑی کے درمیانی علاقوں میں کر رہے تھے ۔تو وہاں بلوچ لبریشن آرمی نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں لبریشن کے دو ساتھی شہید ہوئے اور آرمی ،رینجرز کے پانچ سپاہی صوبیدار سمیت ہلاک ہوئے۔اس حملے کو ریاست نے نیارنگ دیا تاکہ لوگوں سے نیشنلسٹوں کے حملے کا راز چھپا سکے ہے ۔اگلے روزپانچ بگٹی بلوچوں کی لاشیں چوٹی زیریں میں پھینک کر کہا کہ یہ طالبان کے دہشت گرد تھے جنہیں مقابلے میں مار دیا گیا ہے۔جو ایٹامک مین پلانٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔حالانکہ یہ تمام کاروائی سرمچاروں کے حملے کے جواب میں اور حملے کے ثرات کو زائل کرنے کے لئے کی گئی۔ان تمام آپریشنز کے دوران جو بے گناہ لو گ اُٹھائے گئے ہیں ۔ان کے بارے معاشرہ میں کوئی ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ آیاوہ نیشنلسٹ تھے یا مذہبی شدت پسند۔جن ایریاز میں آپریشن کئے گئے ہیں ان ایریاز میں کو ئی نہ نیشنلزم کے بارے میں جانتا ہے اور نہ تو مذہبی شدت پسندوں کے ساتھ ان کا واسطہ ہے۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ تما م اغوا شدگان نوجوان لڑکے ہیں جنکی عمریں سولہ سے اکیس سال تک ہیں۔ اور دوسرا یہ تما م علاقے کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ہیں۔یہی خیال کیا جارہا ہے کہ بلوچ شورش جو پہاڑوں سے شہر کی طرف آرہی ہے شاید اسی کے سامنے ان نوجوانوں کو ایندھن بنائیں گے۔یا پھر دامن کو کنٹرول کرنے کے بعد پہاڑی علاقوں کی جانب قدم اٹھائیں گے۔ ڈیرہ کے پہاڑی بیلٹ کوہ سلیمان میں کام کرنے والی قبائلی فورس کو ختم کر رہے ہیں۔ کیونکہ بلوچستان میں قبائلی فورس کا پاکستان تجربہ کر چکا ہے ۔اسکی جگہ رینجرز لے گی اور کافی حد تک رینجرز کو تعینات کرنے کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔