‎مدبر اسیر طلبا رہنما ذاکر مجیدبلوچ_چئیرمین سہراب بلوچ

image_pdfimage_print


‎بلوچستان کی سیاسی ثقافت بالخصوص بلوچ سے منسلک سیاسی روایات میں علم وادب کوایک اعلیٰ اور منفرد مقام حاصل ہے جہاں ابتداء سے باوقار اور پرُ خلوص سیاسی کلچر نے بلوچ سماج میں علمی اور ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اخلاق اور باہمی احترام کے رواج اور روایت کی اعلی مثال قائم کی۔لیکن پاکستانی قبضے کے بعد تاریخی تناظر سے واقف کچھ بلوچ سیاسی اکابرین اور اہل دانش سے وابستہ حضرات مسئلہ بلوچستان کو سمجھنے اور سمجھانے کے بجائے متنازعہ اور پیچیدہ بنانے میں جت گئے۔




‎بلکہ صاف الفاظ میں درباری بن کر ریاستِ پاکستان کا ہمنواء اور ہم آواز بنتے چلے آئے اور آرہے ہیں،ان مفاد پرستوں کی کارستانیوں اور چالبازیوں کے برعکس بی ایس او نے ہمیشہ بلوچ سیاست میں ہونے والی منافقت،منافرت،چاپلوسی اور کرپٹ سیاسی مداریوں کی بیخ کنی کی تاکہ سیاسی سماج کو پراگند ہ ہونے سے بچایا جاسکے،اسی کشمکش میں بی ایس او نے سیاسی ثقافت کو مذید پروان چڑھانے کے لیے اکیڈمک سیاسی کلچر کو متعارف کرایا تاکہ شخصی اجارہ داری اور بااثر قبائلی خول سے نکل کر بلوچ نیشنلزم کی بنیاد پر سیاسی بنیادوں کو استوار کیا جاسکے۔


‎آج کےبلوچستان میں سیاسی بیگانگی سے بالاتربلوچ فرزندنوں کی بے باک اور لازوال قربانیوں کے ثمر سے ایک باوقار سیاسی کلچر جنم لے چکا ہے یقیناً یہ تسلسل ماضی میں بہتے لہو اور حال کے قربانی کے جذبے سے سرشار سیاسی کارکن ذاکر مجید کا کاروان مقدس دھرتی ماں کی بقا اور آبرو کی رکھوالی میں برسرِ پیکار جہد مسلسل کے فلسفے کا علم َبلند کیے منزل کی جانب رواں ہے۔


‎بلوچستان کے حالیہ سیاسی جدوجہد برائے آزادی عوامی حمایت کے ساتھ دنیا بھر میں اپنی طاقت اور آواز کو پہنچانے میں کسی حد تک کامیاب تو رہا مگر قابض کی بربریت سے بلوچ سیاسی قائدین کے ماورائے عدالت قتل عام،ماورائے عدالت گرفتاری کے متعدد واقعات ہوئے، جن میں آزادی پسند پارٹی بی این ایم کے مرکزی قائدین واجہ غلام محمدساتھیوں سمیت شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے اور بی ایس او آزاد کے مرکزی قائدین جن میں تنظیم کے وائس چیئرمین ذاکر مجید بلوچ، چیئرمین زاہد بلوچ لاپتہ کئے گئے جو آج بھی طویل عرصے کے باوجود منظر عام پر نہیں لائے گئے۔


‎اکیسویں صدی کی قومی جدوجہد میں بلوچ قوم نے اُنیس سال کے دورانئے میں ادارتی بنیادوں پر سیاست اور جدوجہد کے مراحل میں کئی بیرونی اور اندورنی مشکلات کے باوجود اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے میں بہت ہی اہم تاریخ رقم کی ہے،جو آج مجھ جیسے ادنیٰ سیاسی کارکن کیلئے باعث فخر اور خوشی ہوگی کہ بلوچستان کے فرزندوں نے انقلابی لٹریچر اور اصولوں کو نہ صرف پڑھا بلکہ آج ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر جدوجہد کررہے ہیں۔،سیاسی گُھٹن اور حبس میں بلوچ نوجوانوں خاص کر ذاکر مجید نے نہ صرف بلوچستان میں عوامی موبلائزیشن کی بلکہ کراچی اور سندھ میں بلوچ طلبا کے ساتھ ساتھ سندھی سیاسی کارکنان اور فکری ساتھیوں کی سیاسی تربیت اورتنظیم کاری اور عوامی موبلائزیشن سمیت انقلابی لٹریچر جن میں تشدد اور عدم تشدد کے تھیوری اور فلسفے سے آشنا کیا،گاندھی جی،جی ایم سید،باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے اور نواب خیر بخش مری کے تشدد اور خالصتاً نیشنلزم کے نظریئے کو سیاسی مجالس کا حصہ بناتا رہا۔۔۔ذاکر مجید جو ایک طلباء رہنما ہے لیکن اپنی قابلیت اور تحریک کے ساتھ مضبوط وابستگی کی وجہ سے بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں قومی رہنما کے طور پر اپنی پہچان بنا چکا تھا۔بلوچستان کے سیاسی ماحول میں پرکشش اور منفرد مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے بھگت سنگھ سے متاثر ذاکر،بلوچ نوجوانوں میں خود بھگت سنگھ بن گیا۔لیڈر شپ کے متعلق امریکن کے شعبے طب سے منسلک ڈاکٹر سیٹھ برکلے Seth Berklyکچھ یوں لکھتا ہے


“Leadership is known by his,her about vision and responsibility not power”




‎ذاکر مجید، بلوچ سیاست اوربلخصوص طلبا سیاست میں اپنی وژن اور ذمہ داریوں کے باعث قابل قبول اور آئیڈیل بن گیا۔ذاکر جان مستقل مزاجی اور انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ بلوچ نوجوانوں کو غلامی میں آزاد رہنے کی زندگی کا سلیقہ سکھاتا رہا۔۔۔انگریزی میں محاورہ ہے کہ


“Some time life is about risking everything for a dream no one can see but you.”


‎بالکل اسی طرح ذاکر نے اپنی زندگی میں خطرات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آزاد وطن کے خواب میں سرگرم ِعمل رہا اور آج بھی ریاستی عقوبت خانوں میں حسین خوابوں کے ساتھ اسیری کی بدترین دن گزار رہا ہے۔


‎غلامی جیسے غلیظ زندگی کو ذاکر جان نے خود سندھ میں بی ایس او کے منعقدہ پروگرام میں بیان کرتے ہوئے اسے رکیل کی مانند قرار دیا اور دھرتی کو ماں قرار دیکر اسکے خلاف زنا کرنے والوں کے ساتھ جنگ کی تلقین کی۔


‎ذاکر جان کی سیاسی سوچ اور قائدانہ صلاحیتوں نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی رہنما جی حضوری اور درباری کارکن پیدا نہیں کرتے بلکہ کثرت سے رہنما پیدا کرتے ہیں،آج ذاکر مجید کو لاپتہ ہوئے گیارہ سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے مگر ان دس سالوں میں کئی اور ذاکر شہادت اور اغوانماء گرفتاری کے بعد جبراً لاپتہ کردیئے گئے مگر سوچِ ذاکر اور ادارتی بنیادوں پر تربیت نے کارکنان کے صفحوں میں حوصلہ اور قائدانہ ذمہ داریوں کو سنبھالنے کا حوصلہ دیا۔


‎مشہور محاورہ ہے کہ”عظیم رہنماء یہ نہیں کہتے کہ آپ اور ہم نے کیا کرنا ہے بلکہ وہ یہ دکھاتا ہے کہ اسے کیسے کیا جاتا ہے۔”


‎بلوچ وطن کی آزادی اور بلوچ طلبا تنظیم بی ایس او کے انضمام میں ذاکر مجید نے یہ سب کچھ کرکے دکھایا۔اب ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ اس عظیم سنگت کے خواب کو تکمیل تک پہنچائیں جس کے لیے بنیادی شرط یہ ہوگی کہ شخصیات اور ذاتی سنگتی سے بالا ہوکر ادارتی سیاست کو بہر صورت پروان چڑھائیں اور ذمہ داریوں کو بوجھ نہیں بلکہ فرض سمجھ کر جانب منزل پیش قدمی کریں اور مشترکہ عہد کریں تاکہ
‎بی ایس او اپنی جدوجہد کے بدولت نہ صرف بلوچ نوجوانوں کی آئیڈیل تنظیم کے طور پر سامنے آئی بلکہ دنیا کے دیگر مظلوم اقوام کے لئے بھی ایک رول ماڈل بن چکی ہے۔


‎یہ ہے سوچ عظیم رہنماء ذاکرمجید بلوچ کا جہاں وہ فقط سیاسی ثقافت کو پروان چڑھانے اور بلوچ سیاست کو مضبوط خطوط پہ استوار کرنے کا خواہاں تھا جس کے لیے انہوں نے بیش بہا محنت بھی کی۔ اور آج قومی جدوجہدجو ایک اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں ممکن ہے کہ آنے والے دنوں مزید میں سختیاں برداشت کرنے پڑیں لیکن وہ کارکنان جنہوں نے ذاکر جان کو پڑھا ہے، جنہوں نے ذاکر جان کو سنا ہے وہ کسی مرحلے پہ مایوسی کا شکارنہیں ہونگے بلکہ خندہ پیشانی سے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے منزل کی جانب رواں دواں رہیں گے۔