قوموں کے عروج وزوال میں لیڈر شپ کا کردار  حمید بلوچ

image_pdfimage_print

کسی بھی قوم یا سماج کی ترقی میں اسکے تعلیمی، سماجی، سیاسی و معاشی نظام کے علاوہ گڈ گورنس کا خاصا عمل دخل ہوتا ہے لیکن اس حقیقت سے کوئی باشعور فرد انکار نہیں کرسکتا کہ ان تمام خوبیوں کو حاصل کرنے میں لیڈر شپ ایک اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ مخلص ، باشعور اور معاملہ فہم لیڈر ہی قوم کے لئے ترقی کے راستے کا تعین کرکے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے قوم کو آمادہ کرتا ہے اور اپنی بہترین ٹیم ورک کے ذریعے عوام کے ساتھ ملکر جدوجہد کرتا ہے اگر لیڈر شپ بے شعورو بے ضمیر ہوگا تو وہ قوم کے عروج کو زوال میں بدل ڈالے گا۔ دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ قابل لیڈروں نے اپنی ذہانت و قابلیت سے زوال پزیر قوموں کو کمال تک پہنچایا ایسے لیڈر تاریخ کے صفحوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ایسے لیڈر بھی ہمیں ملیں گے جنھوں نے چند ٹکوں کی خاطر اپنی ضمیر کا سودا کرکے قوم کے عروج کو زوال میں تبدیل کیا اور تاریخ میں ناکام اور قوم دشمن لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔
دنیا کے کامیاب لیڈروں میں ایک نام کوامے نکرومہ تھا ۔جب نکرومہ پیدا ہوا تو گھانا کے عوام غلامی کے استحصال زدہ دور میں زوال پزیری کی جانب گامزن تھی ۔ جب کسی قوم پر بیرونی طاقت قابض ہوجائے تو اس قوم کی نفسیات اور کردار پر منفی اثرات پڑتے ہیں وہ اپنے قومی شناخت کی جگہ قابض کی شناخت کو اپناتے ہیں یہی حال گھانا کا تھا ۔نکرومہ نے سامراجی قبضے اور قوم کے زوال کو محسوس کرکے سیاسی جدوجہد کا آغاز 1947ء میں کیا لیکن پارٹی کی ناکام پالیسیوں سے دلبرداشتہ ہو کر ایک نئی انقلابی عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی اور اسی پلیٹ فارم سے انقلابی جدوجہد کا آغاز کیا عوام اور قیادت کے درمیان رابطے کو برقرار رکھ کر عوام کو سامراج کے خلاف جدوجہد پر آمادہ کیا۔ عوامی حقوق کے لئے تحریکیں چلائی، عوامی جدوجہد سے 6 مارچ 1957 کو سامراج سے آزادی حاصل کی آزادی حاصل کرنے کے بعد عوام کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئی ، اعلی قیادت کی علم و بصیرت نے گھانا کے عوام کو آزادی دیکر ان کے زوال کو عروج میں بدلنے کا آغاز کیا اس سیاسی تبدیلی میں لیڈر شپ نے ایک اہم کردار ادا کیا جس کی مثال تاریخ کے صفحوں میں بہت کم ملیں گی۔ اسی سرزمین پر ہمیں ایک اور کردار نظر آتا ہے جس کا نام جنرل جوزف انکرہ ہے جو ایک عوام دشمن لیڈر کے طور پر سامنے آیا اور گھانا میں استحصالی ریاستوں کے اشارے پر عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر جبر کے ذریعے حکومت کرکے عوام کو ترقی سے دور کرکے اپنے فرسودہ نظام کا نفاذ کرتا ہے اور یہی فرسودہ نظام قوم کو زوال کی طرف لے جاتی ہے۔


21 ویں صدی میں دنیا میں ابھرتی ہوئی معاشی طاقت سے پہچانے جانے والے چینی قوم ’افیونی‘ کے نام سے مشہور تھی جسے طاقت وقت برطانیہ اور جاپان نے اپنی نوآبادیاتی بنا کر اپنے استحصال کا شکار کیا ان پر ظلم وجبر کے ذریعے حکومت کی سامراجی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے چین کو زوال کی طرف لے جانا چاہتے تھے لیکن ان طاقتوں کی بدقسمتی کہ وہاں ایک ایسے عوامی لیڈر کا جنم ہوا جس نے سامراجی منصوبوں کو خاک میں ملا کر عوام کو جینے کا گر سکھایا یہ لیڈر ماو زے تنگ تھا جس نے کمیونسٹ پارٹی کو انقلابی اصولوں پر گامزن کرکے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پروگرام دیا، عوام کو منظم کیا ماو کا شمار ان عظیم لیڈروں میں ہوتا ہے جو بہادر و علم کی دولت سے مالا مال ہونے کے علاوہ فیصلہ کرنے کی طاقت و صلاحیت سے بھرپور تھا۔ماو کی لیڈر شپ میں چین نے جاپان اور اس کے حواریوں کو شکست دیکر ایک آزاد ریاست قائم کیا اور اسی لیڈر شپ کی معاملہ فہمی بہادری مثبت عمل چین کو دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بنا کر سامنے لے آئی۔
لیڈر شپ کی ایک اور اعلی مثال فیڈرل کاسترو اور اسکے ساتھی ہیں، جنھوں نے امریکی سامراج کے کٹھ پتلی بتیستا آمریت کو للکار کر قومی ترقی کی راہ ہموار کی اس کے علاوہ ہوچی منھ، گاندھی ،نیلسن منڈیلا یہ دنیا کے وہ عظیم لیڈر تھے جنھوں نے قومی ترقی کے لئے ہمت و بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرکے دنیا کی تاریخ میں اپنا اعلیٰ مقام بنا گئے۔ اسٹالن کی معاملہ فہمی نے سوشلسٹوں کو نمایاں کامیابی پر گامزن کیا یہ لیڈر شپ کی خصوصیات تھی کہ جس نے قوموں کو سامراج کے ظلم وستم سے آزادی دی۔ ونسٹن چرچل جو برطانیہ کے سربراہ تھے ،بچپن میں ان کا شمار آئن اسٹائن کی طرح ناکارہ طالب علموں میں ہوتا تھا لیکن ان کی بلند حوصلے اور علم سے محبت نے اسے ایک عظیم لیڈر بنایا۔ اسی طرح ابرام لنکن ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک فرد تھا لیکن وہ امریکہ کا صدر بنا اوردنیا میں ایک عظیم لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ۔
مندرجہ بالا لیڈرز کا طرز عمل، معاملہ فہمی، برداشت ، مثبت سوچ ،علم سے محبت ان کی یہ خصوصیات قابل ذکر تھے ۔ قوم اور ملک کو بھی ان کی پالیسیوں نے ترقی دیکر اعلی اور بلند مقام پر پہنچایا۔عظیم لیڈروں نے ہر مقام پر معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرکے الجھے ہوئے مسائل کو حل کیا وہ اپنی تنظیم پارٹی اور جن کی وہ سربراہی کررہے تھے انکو اپنے کنٹرول سے کبھی نکلنے نہیں دیا اس لئے وہ خود بھی کامیاب ہوئے اور قوم کو بھی کامیاب کیا۔


آج بلوچ قوم کو بھی پاکستانی قبضے کے بعد سے اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے، اگر بلوچ قومی تحریک خدانخواستہ ناکام ہوئی تو اس کا مطلب صاف ہے کہ بلوچ قوم کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ دنیا میں بحیثیت ایک قوم کے غلامی کے خلاف مستقل مزاجی سے جدوجہد نہ کرنا قوموں کو زوال کی جانب لے جاتی ہے اور زوال سے مراد قوم کا ختم ہوجانا فنا ہوجانا اور کوئی بھی باشعور و تہذیب یافتہ قوم فنا کے نام سے نفرت کرتی ہے۔
آج بلوچ کے زوال اور عروج کا ذمہدار لیڈر شپ ہے بلوچ لیڈر شپ کیسا ہو یہ سوال ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس نازک دور میں لیڈر شپ کی غلطی بلوچ تحریک کو شدید نقصانات سے دوچار کرسکتی ہے۔ بلوچ لیڈر شپ عمدہ اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو کیونکہ بروقت فیصلہ کرنا دیر سے کئے گئے کئی اچھے فیصلوں سے بہتر ہے اگر خان آف قلات میر احمد یار خان پاکستان سے الحاق کے مسلئے پر بروقت جنگ کا فیصلہ کرلیتے تو آج بلوچ سرزمین کی صورتحال مختلف ہوتی لیکن وہ آخری لحمات میں بھی کوئی فیصلہ نہ لے سکے اور بلوچ قوم کو غلامی کے دلدل میں دھکیل دیا۔ بلوچ لیڈر شپ ایسا ہو جو مشکل اور نامناسب حالات میں فیصلہ کرنے کی سکت رکھتا ہو.۔بلوچ لیڈر شپ علم کی دولت سے مالا مال ہو کیونکہ بلوچ کا سامنا استحصالی ریاستوں سے ہے اور استحصالی ریاستیں کسی قوم کو ختم کرنے کے لئے صرف تشدد کا سہارا نہیں لیتی بلکہ وہ مختلف پالیسیوں کو استعمال کرتے ہوئے قومی تحریکوں کو ختم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک باعلم لیڈر اس مفاد پرستانہ دور میں اپنے سیاسی شعور کی بدولت اپنے قومی مفادات کا تحفظ باآسانی کرسکتا ہے۔


بلوچ لیڈر شپ اپنے پارٹی کے مضبوطی و سیاسی طاقت پر توجہ دیں کیونکہ پارٹی کی مضبوطی تحریک کی مضبوطی ہے۔پارٹی میں ممبران کی زیادہ سے زیادہ سیاسی تربیت کریں ،ممبران کو سیاسی مراحل سے گزاریں اور ان کو سیاسی ذمہ داریاں دیں تاکہ سخت وقت میں ممبران پارٹی کے قیادت کرنے کے اہل ہوں اور تمام ممبران کو ایک نظر سے دیکھیں کسی بھی صورت میں کارکنوں کے درمیان فرق نہ کریں اگر لیڈر کارکنوں کے درمیان تفریق کریں گے تو یہ رویہ پارٹی میں عدم اعتماد کے رجحان کے فروغ کا سبب بنے گا۔
بلوچ لیڈر شپ کو معاملہ فہم ہونا چاہیے، کیوں کہ معاملہ فہمی کے بغیر لیڈر شپ اگر کوئی فیصلہ لیتی ہے تو اس فیصلے کے بجائے یہ کہ مثبت اثر کے، منفی اثرات قوم کے لئے نقصان کا باعث بنیں گے۔اس سخت حالت میں اگر لیڈر شپ بروقت فیصلے کرے اور قوم کی رہنمائی کے لئے متحرک ہوجائے، تو تمام چیلنجز سے بلوچ قوم کو نکال سکتی ہے، کیوں کہ بلوچ مجموعی طور پر آزادی پسندوں کے فیصلے کا احترام کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہے۔