ریاستی دہشتگردی اور بلوچ طالب علم

image_pdfimage_print
قائد اعظم یونیورسٹی میں اپنے مطالبات کی حق میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بلوچ طلبا

: منان بلوچ
ریاست پاکستان کی غنڈہ گردی دہشتگردی اور انتہا پسندی کی تاریخ 70 سالوں پر محیط ہے اگر اس ریاست کی دہشتگردی انتہا پسندی اور ہٹ دھرمی کو سمجھنا ہے تو اس ریاست کی مختصر تاریخ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے ریاست پاکستان نے اپنے قیام سے لیکر آج تک دہشتگردی کی وہ  مثالیں قائم کی ہے جنکی نظیر پوری دنیا میں شاید ملتی ہو. غنڈہ گردی اگر انفرادی سطح پر ہو تو ریاست اس دہشتگردی کو اپنے اداروں کے ذریعے آسانی سے کچل سکتی ہے لیکن جب ریاست اور ریاستی ادارے خود ہی دہشگردی اور انتہا پسندی کا مرتکب ہوں تو وہ مظلوم قوموں کی زندگی کو جہنم بنادیتی ہے. پاکستان نے بلوچستان میں اپنے آرمی ایف سی کے ذ ریعے جو دہشتگردی اور غنڈہ گردی پھیلا رکھی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں یہ غنڈہ گردی حالیہ سالوں میں اپنے عروج پر ہے. فوجی آپریشنز عورتوں بچوں کی جبری گمشدگی طالب علموں کا اغوا مسخ لاشیں استادوں کی ٹارگٹ کلنگ عورتوں پر تیزاب پاشی بلوچ طالب علموں پر علم کے دروازے بند کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کو فوجی چوکیوں میں تبدیل کرنا ریاست کی گندی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے جس میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے یہ ریاست کی غنڈہ گردی کی اعلی مثالیں ہیں. ریاست پاکستان اپنی دہشتگردی اور غنڈہ گردی کے ذریعے جب بلوچ قوم کو تعلیم سے دور رکھنے میں ناکام رہی تو بلوچوں کو تعلیم سے دور رکھنے اور علم کے دروازے بند کرنے کی پالیسی کو بلوچستان سے باہر دیار غیر میں پڑھنے والے بلوچ طالب علموں پر بھی نافذ العمل کردیا اور ان بلوچ طالب علموں کو بھی ریاستی انتہا پسندی کا نشانہ بنایا تاکہ بلوچ قوم علم کی روشنی سے محروم ہو کر اپنی تحریک سے دستبردار ہو. آپ بخوبی واقف ہیں کہ میں کس کی بات کررہا ہو میں اسلام آباد یونیورسٹی کے ان معصوم طالب علموں کی بات کررہا ہو جو کچھ دن پہلے ریاستی دہشتگردی کے بھینٹ چڑھے ہیں.پاکستان کا تعلیمی نظام ویسے دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو پیدا کرنے کا باعث ہے جسکی واضح مثال پاکستانی سینیٹ کے چیرمین کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے سینیٹ چیرمین رضا ربانی کے مطابق پاکستان کا تعلیمی نظام انتہا پسندی کو پیدا کرنے کا موجب ہے. ان تعلیمی اداروں کے اصول و ضوابط سے پتہ چلتا ہے کہ جامعات طلبہ کے لیے سیکھنے کی جگہ نہیں بلکہ طلبہ کو سزا دینے کی جگہ ہیں تعلیمی اداروں میں پولیس اور دیگر فورسز کو بلانے کا مقصد یہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ طالب علموں کو جامعات بھی اذیت گاہوں سے بدتر لگے. اسلام آباد انتظامیہ نے پولیس کے ساتھ ملکر معصوم طالب علموں پر ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کیا تاکہ وہ طالب علم اپنے حقوق سے دستبردار ہو کر خاموش ہوجائیں. اگر ریاست اپنی مشینری کا استعمال ریاستی دہشتگردی کے خلاف کرتی تو دنیا میں پاکستان کو ذلت اور شرمساری کا سامنا نہ کرنا پڑتا. جب کسی ایسے معاشرے کا ذ کر ہوتا ہے جہاں فیصلے بحث و مباحثے کے بغیر پہلے سے محفوظ ہوتے ہیں وہ معاشرہ ہمیشہ زوال پزیری کی جانب محو سفر ہوتا ہے ، پاکستانی معاشرہ ایک واضح مثال ہے جہاں ایک مخصوص طبقہ سیاہ و سفید کا مالک ہے اور تمام ادارے انہی فرشتوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں افسوس کی بات کہ صحافت جیسا عظیم شعبہ بھی انہی لوگوں کے ہاتھ ہے. ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ہونے والے واقعات میں میڈیا نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ریاست کی خدمت کا فریضہ بخوبی انجام دیا ہیاں تک کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے طالب علموں جو موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں انکو کوریج تک دینے کی زحمت نہیں کی. پاکستان میں یہ روایت عام ہے کہ جو لوگ سچ کا ساتھ دیتے ہیں اور باطل کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں تو انکی مسخ لاشیں ویرانوں سے ملتی ہیں یا انہیں زندانوں میں اذیت دی جاتی ہے ملک بدر کیا جاتا ہے لیکن اسکے برعکس دہشتگرد بغیر کسی ڈر کے دندناتے پھرتے ہیں بلکہ جامعات میں مذہب اور انتہا پسندی پر عظیم الشان لیکچر دیتے نظر آتے ہیں اگر ریاستی روئیے پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ شروع دن سے پاکستان بلوچستان اور بلوچوں کے ساتھ منافقانہ رویہ روا کئے ہوئے ہیں آج اگر فیصل آباد ‘ اسلام آباد لاہور ملتان اور پنجاب کا کوئی اور شہری اپنے حق کے لئے آواز بلند کرے تو اسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ بلوچستان یا خیبر پختونخوا کا طالب علم اگر اپنے سادہ مطالبات کے لئے سڑکوں پر آجائے تو انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ ان طالب علموں کو دہشت گرد جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے اور ان طلبہ کے خلاف ریاستی مشینری بہت جلد حرکت میں آجاتی ہے.  اگر اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا جرم ہے تو ہم مظلوم طلبہ مجرم کہلانا پسند کریں گے۔

آخر میں ریاست کے لئے مفت مشورہ
ہمارے گھروں کو بھی جیل بنادیں کیونکہ آپکی جیلیں بہت کم پڑ جانی ہے.