تیرہ نومبر اٹھارہ سو اُنتالیس، سقوطِ قلات

image_pdfimage_print

بیبرگ بلوچ:

اٹھارہویں صدی کا دور یورپ میں بیداری کا دور رہا ہے یورپ نے کوئی 400 سال انتہائی تاریک اور مایوسی کے دور کا سامنا کیا تھا۔ اٹھارہویں صدی میں یورپ کی طویل تاریکی کے دور کو زوال آنا شروع ہوگیا ۔اسی صدی میں روسو جیسے عظیم شخصیات نے جنم لیا۔ روسو، جسے یورپی ادب کا جان کہا جاتا ہے نے ایک عمرانی معاہدہ پیش کیا۔ لہذا اس کے بعد انقلاب فرانس آیا اس انقلاب کے بعد یورپ کے لوگ کبھی نہیں سوئے بلکہ ہر شعبے میں نئی نئی اختراعات سے وہ ترقی کی منزلیں طے کرنے لگے۔ پھر 1776 کو امریکہ کی بنیاد رکھی گئی اور 1778 کے بعد یورپ میں انڈسٹریل انقلاب آگئی، اس صنعتی انقلاب نے گویا پورے خطے کی تقدیر ہی بدل دی ۔صنعتی ممالک کو نئی منڈیوں کی ضرورت پڑ گئی تو افریقہ اور براعظم ایشیا انہی ممالک کے زیر اثر آگئے۔ اس وقت ایشیا میں چائنا اور ہندوستان سب سے بڑی منڈیاں تھی کیونکہ یہاں پر انسانوں کا جم غفیر موجود تھا۔ لہٰذا برطانیہ نے سب سے پہلے ہندوستان پر اپنا قبضہ جمایا اور اس کے بعد اپنی فارورڈ پالیسی کو مزید آگے بڑھانے کیلئے افغانستان کی جانب سوچ رہا تھا۔ وہ افغانستان اور ایران میں جنگ لڑ کر اپنی مفادات کو محفوظ رکھ سکتا تھا۔

بلوچستان کا خطہ ہو یا افغانستان کا یہ دونوں جنگی نقطہ نگاہ سے بہت اہمیت کے حامل ہیں یہاں پر ایک چھوٹی سی فوج ایک بڑی فوج کا بآسانی مقابلہ کرسکتا ہے لہذا بلوچستان اور افغانستان پر ان کا قبضہ صرف اور صرف عسکری تھا۔ ان خطوں میں اپنے کٹھ پتلیوں کو وسیع اختیار فراہم کرکے برطانوی قبضہ گیر انہیں اپنے مفادات کی تحفظ کے لئے لڑانا چاہتے تھے۔

لہذا برطانیہ کی پالیسی جس طرح افغانستان کی جانب بڑھ رہی تھی اس نے باقاعدہ ایک جنگ کی شکل اختیار کی تو اس دوران انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ افغانستان کے بعد قلات کی باری ہے۔ یہاں پر بلوچستان کے باشندوں کا ایک ہی مرکز قلات تھا اس مرکز کے خلاف اپنوں کی غداری کی وجہ سے پہلے سے ہی شدید سازشیں ہو رہی تھی اس سازشوں میں کچھ ملکی اور کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے اس وقت میر محراب خان خان آف قلات تھے وہ ایک جنگجو اور انتہائی شکی مزاج تھے غضبناک شخصیت کے مالک تھے۔ برحال انگریزوں نے اپنے قبضے کو طول دینے کے لیے اور قلات پر قبضہ کرنے کے لیے 1838 کو اس جانب رخ کیا۔ اسی دوران انہوں نے خان آف قلات میر محراب خان پر 5 الزامات لگائیں۔

پہلا الزام یہ تھا کہ خان آف قلات نے مری قبائل کو حکمنامے جاری کیے ہیں کہ انڈس آرمی جونہی بولان کے درے سے گزرے تو اس پر حملہ کر کے اسے نقصان پہنچایا جائے۔

دوسرا الزام یہ لگایا کہ میر محراب خان کے بھائی میر اعظم خان اس کا نام تھا اس نے کچھی کے بنیوں سے زبردستی پیسے وصول کیے ہیں اور وہ سارا غلہ لوٹا ہے جو انگریزوں کے لئے جمع کیا گیا تھا.

تیسرا الزام تھا کہ خان آف قلات میر محراب خان کچھی کے بنیوں کو باقاعدہ اپنے ہی لیٹر پیڈ پر یہ احکامات جاری کیے ہیں کہ انڈس آرمی یعنی انگریزوں کی فوج کو کوئی شخص ایک دانہ گندم کا بھی فروخت نہ کرے.

چوتھا الزام کہ میر محراب برنس کے کیمپ کو لوٹا ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود انگریزوں کو جس بات پر سب زیادہ غصہ تھا یا جس پر سیخ پاہ ہو رہے تھے وہ یہ تھا کہ میر محراب خان انگریزوں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ کراچی کی بندرگاہ کو واپس کیا جائے جس پر تالپوروں کا قبضہ ہے وہ بنیادی طور پر قلات کے زیر اثر علاقہ ہے جس پر 1795کو فتح علی تالپور نے فوج کشی کرکے قبضہ کیا تھا آج وہ انگریزوں کے زیر اثر ہے لہذا اس بندرگاہ کو واپس کیا جائے۔

ان کے بعد انگریزوں نے باقاعدہ فیصلہ کیا تھا کہ قندھار کے بعد قلات اسٹیٹ کی باری ہے لہذا 1838 میں قندھار پر حملہ کیا گیا اور بنیادی طور پر انگریزوں کو کامیابی ملی اگلے سال نومبر 1839 کو انگریزی فوج نے قلات کا رخ کیا.جب انگریزی فوج افغانستان سے قلات کی جانب رخت سفر باندھ لیا تو اس خطے میں ساراوان اور جھالاوان کے تقریباً تمام قبائلی سرداروں نے انگریزوں کا ساتھ دیتے ہوئے سبی میں باقاعدہ انڈس آرمی کا استقبال کیا۔ان کی فوج کی تعداد 2500 تھی اور سرداروں نے 7000 پر مشتمل ایک بڑی فوج ان کو فراہم کی۔ میر محراب نے یہ حالت دیکھ کر تب اس نے ساراوان، جھالاوان اور باقی تمام قبائلی سرداروں کو مدد کیلئے خطوط لکھے حتی کہ اپنی بیٹی بی بی بانڑی کو سردار رشید خان زرکزئی چیف آف جھالاوان کے پاس میڑھ بھیجا کہ انگریزی فوج حملہ کرنے کیلئے قلات کی جانب بڑھ رہی ہے لہذا میرے مدد کیلئے آؤ تو اس نے صاف جواب دیا کہ میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا ہاں البتہ میں انگریزوں کا بھی ساتھ نہیں دوں گا۔

کچھ ایسے سرفروش اور جان نثار تھے جن کو وطن سے محبت اور انگریزوں سے شدید نفرت تھا وہ اپنے وطن کی دفاع کیلئے قلات پہنچے۔ قلات اسٹیٹ کا یہ عالم تھا کہ صرف مرکز کی حفاظت کے لیے سات سو جان نثار موجود تھے جو مختلف قبائل کے لوگ تھے۔ صبح سے لے کر شام تک قلات کے قلعے پر بمبارمنٹ ہو تی رہی، آخر میں میر محراب خان کو ہتھیار ڈال دینے کا کہا گیالیکن وہ نہیں مانے جب گولیاں ختم ہو گئیں تو یہ سرفروش سب کے سب تلوار اٹھا کر انگریزوں سے آمنے سامنے ہوگئے دست بدست جنگ ہو رہی تھی اسی لڑائی میں 400 سے زائد لوگ مارے گئے اور 138 انگریز بھی مارے گئے اسی دوبدو لڑائی میں محراب خان لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور انگریزوں نے قلات پر اپنا قبضہ جما لیا۔

میر محراب بغاوتوں، سازشوں اور خانہ جنگیوں کے درمیان رہتے ہوئے بلوچستان پر 22 سال حکومت کی 13 نومبر 1839 کو انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے دلیروں کی موت مر کر لیکن تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ ہوگئے۔ انگریزوں نے قلات پر قابض ہونے کے بعد اپنی دلال میر شاہنواز خان کو کھٹ پتلی خان بنا کر تخت پر بٹھا لیا۔

میر محراب خان کی شہادت کے بعد اس کے بیٹے نصیر خان نے ڈیمانڈ کیا کہ میرے والد کے خلاف سازش کی گئی ہے لہذا ان الزامات کے حوالے سے تحقیقات کی جائے ۔جب تحقیقات کی گئی تو ملا محمد حسن، سید محمد شریف جیسے لوگ دلال اور غدار نکلے پھر ان کے کہنے پر آخوند محمد صدیق کو گرفتار کیا گیا ان گھروں سے خان آف قلات میر محراب خان کے ذاتی لیٹر پیڈ اور مال دولت بھی پائے گئے، جتنے بھی لیٹر خان کے نام پر انگریزوں کے خلاف لکھے گئے یہ سب کے سب ان غداروں نے لکھے تھے بطور سزا ان لوگوں کو جلا وطن کیا گیا۔

13 نومبر1839 سے لیکر 11 اگست 1947 تک بلوچستان انگریزوں کے زیر قبضہ رہا، 11 اگست کو اعلان آزادی ہوا اور قلات پر ریاست بلوچستان کا پرچم لہرایا گیا لیکن 14 اگست کو پاکستان کے نام پر ایک غیر فطری ریاست وجود میں آگیا اس نے انگریزوں کے طرز پر 27 مارچ 1948 کو بلوچستان پر چڑھائی کی گ اور ایک بار پھر بلوچستان کے باسی غلام بن گئے۔ محراب کے سپوت اس غلامی کے خلاف اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے اور آج تک قربانیوں کا تسلسل جاری ہے.