براہوئی جدید شاعری میں امن کی تلاش۔ ڈاکٹر لیاقت سنی

image_pdfimage_print

امن‘ آشتی یا ایمنی متضاد الفاظ ہیں‘ ظلم‘ بربریت‘ جبر اور استحصال کی‘ جہاں احساسات جذبات اور افکار متزلزل ہوں ‘ وہاں روح گھائل ہوکر سکون آرام اور مسرت کی تلاش شروع کرتی ہے۔
کائنات میں یہ فلسفہ عجیب لگتا ہے کہ امن اور جنگ ایک دوسرے کے متضاد ہیں لیکن اکثر جنگیں امن ہی کے لئے لڑی جاتی ہیں۔ اسی لئے ڈر لگتا ہے کہ جہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں وہاں مابعد امن کسی جنگ کی تیاری تو نہیں ہو رہی ہے؟
اسی تناظر میں براہوئی جدید شاعری میں پیام امن کی تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ بلوچستان آخر ہے کیا؟ گذر گاہ ہے‘ قیام گاہ ہے یا تجربہ گاہ؟ جہاں کی سورج تب تک نہیں نکلتاجب تک کسی ماں کی لخت جگر کو دہشت گرد قرار دیکر اسکی لاش مسخ نہ کی جائے۔ اسیطرح کسی کی ماورائے آئین اغوا یا گرفتاری کے بعد ہی غروب آفتاب ممکن ہو پاتی ہے۔ ان تما م انسانیت سوز جبر کے باوجود بلوچستان کے لکھاریوں کے عنوانات میں امن کی جستجو اور آرزو کی طلب مگر یقینی نہ ہونے کی وجہ سے تذبذب کا شکار نظر آتی ہے۔
براہوئی جدید شاعری کا سورج جو 1960 سے جدید اور نئے رجحانات اور موضوعات لیکر طلوع ہوتا ہے۔ 80ء کی دھائی تک براہوئی جدید شاعری مکتبہ درخانی کے مذہبی رجحان سے نکلنے میں بلآخر کامیاب ہوتا ہے۔ جہاں سے شعوری طور پر رومانوی شاعری کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن بیسوی صدی کے آخری دوعشروں میں براہوئی جدید شاعری کئی فکری میلانات‘ سماجی رویوں‘ فرنگی سے قومی آزادی اور حقوق کی جنگ جیسے رجحانات لے کر رومانوی پیراھن سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔
براہوئی جدید شاعری کا واسطہ اور تعلق اس وقت امن اور آشتی سے جا ملتا ہے جب1998 میں چاغی میں واقعہ راسکو کی بلند چوٹیاں ایٹمی دھماکوں سے گونج اٹھتی ہے۔ تب سے براہوئی جدید شاعری میں امن کی آواز اور آذان سنائی دیتی ہے۔ براہوئی شعراء ایٹم کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے امن کی جستجو شروع کرتی ہیں۔ اور وہ ایٹم کو انسانیت کے خلاف قرار دیکر راسکو کی شہادت پر نوحہ پڑھتی ہیں۔
است ہشوکن داوڑ دنکہ ہشنگا چاغی
غم تا خلوکن داوڑ دنکہ خلنگا چاغی
ہستی ٹی کس داوڑ نیست مرو ننے آنبار
تینتو الوکن داوڑ دنکہ النگا چاغی(1)
دل ایسی جلی ہے جیسے چاغی کو جلا دیا گیا ہے
غموں نے ایسی وار کی ہے جیسے چاغی پر وار ہوا ہے۔
اس لئے براہوئی جدید شاعری میں بلوچستان کے پہاڑوں راسکوہ، چلتن، آماچ ، بطور ’’امن اور استقامت‘‘ کی علامت سمجھی جاتی ہیں اور جنہیں موضوع بنا کر نظم تخلیق کیے جاتے ہیں۔
ایسے ہی بولان، سیندک، ریکوڈک کوہلو اور گوادر کے لئے شاعر ہمیشہ آشتی کا طلبگار ہے مندرجہ بالاناموں کے لئے امن کی درخواست ہر شعراء نے کی ہے
چاغی اور نوشکی کے ایک نوجوان شاعرغمخوارحیات جو براہ راست ایٹمی دھماکوں کے متاثر علاقوں سے تعلق رکھتاہے اس واقعہ کے بعد حیات انسانی کے لئے اپنی زمین، گاؤں اور گھر کے لئے امن اور آشتی کے موضوع باندھتا ہے۔
کنا لوزاک ڈغار کن ندر
کنا شعراک امن نا پھل
کنا فکر بندغی نا فکر
حیات اٹ ای کنے
پگہ نا تاریخ اٹ
پدا خوانیس
ای تینا ڈیہہ نا تاریخ اٹ
میرے الفاظ دھرتی پر قربان
میرے اشعار امن کے پھول
مرا فکر انسانیت سے جڑا ہے
حیات ہوں اور مجھے
کل کی تاریخ
دوبارہ دہرانا بھی ہے


میں اپنی دھرتی کی تاریخ ہوں(2)
بابو عبدالرحمان کرد ‘ نادر قمبرانی اور گل خان نصیر یہ تینوں شعراء‘ فیض احمد فیض ‘ حبیب جالب اور شیخ ایاز کے ہم عصر تھے۔ جنکے اشعار امن کی دائی تھے۔ لیکن نا عاقبت اندیشوں کی پالیسیوں کی نظر انکا نظریہ امن کار آمد نہ ہو سکا۔ مگر آج جسطرح وطن عزیز کو امن کی تلاش ہے اور ان اشخاص کو ایک مرتبہ پھر مقدس مقام دینے کی کو شش ہو رہی ہے۔
وحید زہیر جو اپنی شاعری میں اتحاد اور اتفاق کی تلقین کرتا ہے۔ وہ ان سامراج سے مخاطب ہو تا ہے کہ اگر تم میری فلاح چاہتے ہو تو مجھے تعلیم دو۔ وہ ایک ہائیکو میں یوں گویا ہوتا ہے


کلاشنکوف ای خواپرہ
کنے خوانف کنا دوست اس؟
دا رازے کسے پاپرہ (وحید زہیر‘ کونٹ)
مجھے تعلیم دو میرے دوست
اگر اسے راز جانتے ہو
تو یہ راز راز ہی رہیگا۔
فاختہ جسے براہوئی میں گوگو یا ’’پین آ کپوت‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اسے اکثر امن کی تلاش میں گھائل ہوتے دیکھ کر براہوئی شعراء اپنی شاعری میں اسے مقام بخشتا ہے۔
دنزو مول خاخرتیٹ امن او خوشی گوہنگا
گگ تہارا جمرتیٹ امن او خوشی گوئنگا
مس دترچُر ہر گاما پین آ کپوت قاصد
وا ستم تا محشرتیٹ امن او خوشی گوئنگا (3)
گرد، دھواں اور آگ میں امن اور خوشی دھول ہے
اندھیری راتوں میں بادل سے امن اور آشتی منفی
ہر قدم خون آلود ہے یہ امن کی طالب فاختہ
ظلم اور ستم کی محشر میں امن اور آشتی بے نامُ نشان ہو گئے ہیں۔
براہوئی جدید شاعری میں امیرالملک مینگل یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ جب معاشرے میں حق اور سچائی کی باتیں کرنے والا کوئی نہیں ہوگا تب وہ معاشرہ تنزلی کی جانب گامزن ہوگا امیر اپنے دور میں امن کی متلاشی ہونے کے باوجود آخر کار مایوس ہوکر ’’انجیر کے پھول‘‘ کو علامت بناتا جو ایک خواب ہے۔ براہوئی ادب میں انجیر کا پھول ایک علامت ہے انجیر کے پھول کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے کہ انجیرکا پھول دیکھنا اس طرح امن بھی خوش بختوں کی قسمت میں ہوتی ہے۔
امیر رقمطراز ہے
راستگوئی جہاں سے اس طرح غائب ہے
جیسے انجیر کی پھول اور شہر میں امن(4)
کیونکہ اس پتہ تھا کہ
’’جب سے کلاشنکوف آئی ہے مشکلات بڑھ گئی ہیں
ہر گھر میں آہ وزاری کا سماں ہے
ہر کوئی غیرت اور عزت کے لئے روتا ہے۔
کیونکہ سرمایہ داری کا سماں ہے(5)
براہوئی جدید شعراء قلم اور کلاشنکوف میں واضح تمیز رکھتے ہیں انہوں نے قلم کی جگہ کلاشنکوف تھامنے والے اذہان اور افکار کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے کہ کوئی سامراج ہی ہے کہ میری ہاتوں میں قلم کی جگہ کلاشنکوف تھمانے کی شعوری کوشش کررہی ہے لیکن براہوئی شعرا نے اکثر اس کوشش کے خلاف آواز بلند کی ہے کہ اسے یقین کامل ہے کہ
’’مسلم ہے کہ بندوق سے روشنائی نہیں چھٹتی
سچا علم ہی کسی قوم میں فکری تبدیلی کا سبب ہوتا ہے(6)
اکیسویں صدی میں براہوئی کا ایک نوجوان شاعر ’’سائرعزیز‘‘ امن کی تلاش میں سرگرداں اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتا ہے کہ

امن اسے کن وطن زہیر
زہرے کر شکرے جتا
امن کے لئے دھرتی تشنہ ہے
زہر اور شکر میں فرق کریں(7)
بیچارا سائر عزیز ظلم اور جبر کے جنم سے چھٹکارہ پانے کے لئے وطن اور دھرتی میں امن عام کرنے کے بہانے اپنی بساط کے مطابق تلاش کرتا ہے کہ شاعری ہے جو امن لاسکتی ہے وہ ایک جاگہ رقمطراز ہے
شاعر امن کی پاسباں ہے
پھول اور چمن کی نگہبان ہے
ظلمت میں اضافہ دن بدن
شاعر ہی امن کی پاسباں ہے(8)
براہوئی جدید شعراء انسانیت کی فلاح اور بقاء کے لئے امن، آشتی کو نہایت لازمی عنصر خیال کرتے ہیں اس طرح قیوم بیدار نے انسانیت سوز مظالم کے محرک انسان ہی سے مخاطب ہوتا ہے۔
اے انسان نی انسان تیا ظلم کپہ
کرک داڑے بڑزا توارے امن نا (9)

حوالہ جات
۱۔ منظور بلوچ،برگشت، براہوئی ادب سوسائٹی کوئٹہ
۲۔ غمخوارحیات، آجوئی دتر خوائک، راسکوہ ادبی دیوان صفحہ ۹۸
۳۔ غمخوارحیات، ایضا۴۶
۴۔ امیرالملک مینگل،’’چلہ نا توبے‘‘ صفحہ ۷۶
۵۔ ایضا ۵۳
۶۔ غمخوارحیات صفحہ ۸۷
۷۔ سائر عزیز، دیر و خاخر، ۲۳
۸۔ایضاً ۳۷
۹۔ قیوم بیدار ، شمبلاخ ۲۴
10۔ وحید زہیر‘ کونٹ۔