انقلاب فرانس تحریر:دادجان بلوچ

image_pdfimage_print
کہتے ہیں کہ بھوک افلاس بے حسی اگر انقلاب کو جنم نہ دے تو مجرم کو جنم دیتی ہے۔
انقلابی حقائق کو ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ ان کے پیچھے خام انسانی فطرت اور بھوک کے مارے خالی پیٹ ہوتے ہیں۔ یہی کچھ ہمیں فرانس میں نظر آتاہے۔ 1794سے 1789کے پانچ فیصلہ کن برسوں میں بھوک کے مارے عوام حرکت میں آگئے ۔ُ ُُُاُس وقت لوئس سیزدھم کا جانشیں اس کا پوتا لوئس چاردھم1715ء میں تخت نشین ہوا اور اس نے 69برس تک حکومت کی اور عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے، اور خود خوب عیاشی کی۔ لوئس چاردہم کی موت1774کو ہوئی او ر اس کے بعد اس کا پوتا لوئس پازدہم تخت نشین ہوئے ، لوئس پازدھم کی بیوی میری ’جو کہ آسٹریا کے شہنشاہ کی بیٹی تھی ‘کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بادشاہوں کے خدائی میں یقیں رکھتی تھی اور اُسے عام لوگوں سے سخت نفرت تھی ۔لوئس پازدہم اور اس کی بیوی نے بادشاہی کے تصور کو لوگوں کیلئے قابل نفرت بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔
لوئس ایک بہت غاصب جابر اور ظالم حکمران تھا۔بادشاہوں اور آمروں کا ایک سہارا فوجی قوت ہواکرتاہے فرانس میں بھی یہی کچھ ہوا سات سال کی یورپ کے ساتھ طویل جنگی کیفیت نے فرانس کی معیشت پر کاری ضرب لگائی،معیشت دیوالیہ ہونے کو تھی،پادری ٹیکسوں سے مستثنی تھے ، لیکن لوئس کو قرضوں کی ادائیگی اور دربار کی فضول خرچیوں کیلئے رقم درکار تھی عوام بے چارہ کدھر جاتے ، محنت مشقت کرنے والے عوام کی حالت تو مسلسل ابتر ہورہی تھی ، کم بخت ٹیکسٹ دہندہ عوام کی تعداد اڑھائی کروڑ تھی جب کہ ان پر 2% آبادی بادشاہ اور پادری حکمرانی کررہی تھی، انہی 98% عوام کی ٹیکس سے فرانس چل رہاتھا۔
ایک اندازے کے مطابق فرانس) 3 Billions (livre جو اس وقت کی کرنسی تھی کی مقروض ہوگئی اس وجہ سے لوئس نے مزید ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا۔ لوئس پازدھم کے دور حکومت میں فرانس کے عوام کی حالت نا گفتہ بہ تھی یہی وجہ تھی کہ بھوکے عوام نے ہنگامے شروع کردئے۔1777کو حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ فرانس میں گیارہ لاکھ بھکاری ہیں ، اس سے عوامی غربت کی ابتری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
ْ قر ضہ اتنے بڑھتے جارہے تھے کہ اب بادشاہ کے پاس خرچہ کرنے کیلئے رقم کی کمی تھی جب کہ وہ پہلے ہی کئی طریقے سے عوام سے ٹیکس وصول کررہے تھے ۔پہلی زراعت سےtithe نام سے ٹیکس لی جاتی تھی اور یہ چرچ کو دیا جاتا تھا اور taileنام کی ٹیکس بادشاہ کو ملتا تھا جب کہ ایک اور ٹیکس تھا جسے indirect ٹیکس کہتے تھے یہ۔ بادشاہ اور پادریوں چرچ کے لوگوں کی کھانے پینے اور خواراک کیلئے استعمال ہوتی تھی جب کہ ان کے زمینوں پر کسانوں سے بلا معاوضہ کام لیاجاتاتھا فرانس کے اسمبلی کوstate General کہا جاتا تھا لیکن یہ برائے نام اسمبلی تھی یہاں طبقہ کے حساب سے نمائندے برائے نام بیٹھے تھے جب کہ مطلق العنان حکمران لوئس ہی تھے ، حکمران طبقہ جنہیں ہم نوبل کہتے ہین نہ نوبل ٹیکس ادا کرتے تھے اور نہ پادری فرانس کی ٹیکس دھندہ لوگ عوام تھی جتنی ٹیکس لی جاتی تھی یہی ادا کرتے تھے اور جتنی پیسہ آرہا تھا وہ ان ہی غریبوں سے آرہاتھا ۔
یہاں کچھ دانشور فلاسفر تھے جہیں شاید کوئی نہ جانتا ہو ۔ان میں سے ایکJohn lockتھا ، Lock خود UKسے تھے ۔ اس نے عوام کو نیا نظریہ دے دیا، تما لوگوں کو زندہ رہنے اور آزاد رہنے کا حق ہے اور تمام لوگوں کو جائیداد رکھنے کا حق ہے تمام لوگ اپنا کاروبار کرسکتے ہیں۔ یہ جان لاک کا نظریہ تھا۔ ایک اور دانش ور لکھاری تھے جن کا نامjean_jacquesتھا اور یہ خود سوئزرلینڈ سے تھے ا نہون نے عوام کی حالت زار پر اور بادشاہت کے خلاف ایک کتاب لکھی جس کا نام تھاSocial contrectاور یہ کتاب کافی مقبول ہوئی انہوں نے کہا کہ لوگوں کو آزادی چاہے قانون تمام لوگوں کیلئے ہونی چاہے، انصاف ہر کسی کی دسترس میں ہو۔
ایک اور فلاسفر Baren de Montesquieu تھے، انہی فلاسفروں نے عوام میں بیداری اور رائے عامہ کو ہموار کرنے میں بہترین کردار ادا کیا، اپنے آرٹیکلز اخبارات اور لٹریچر کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کرتے رہے۔ جب کہ فرانس کے لوگ انقلاب امریکہ سے بھی متاثر ہونے لگے۔فرانسی فلاسفروں کے ان خیالات اور تصورات نے انقلاب پر قوی اثر کیا۔
فرانس سے جنرمارک امریکہ کی انقلاب میں حصہ لے چکے تھے اور انہوں نے فرانس آکر عوامی موبلائزیشن شروع کی، انہوں نے کہا کہ جب امریکی لوگ انقلاب لاسکتے ہیں تو ہم بھی انقلاب کیلے جدوجہد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بادشاہت کو اکھاڑ پھینک سکتے ہیں جو کہ ہماری خون پسینہ سے عیاشی کرتی ہے جب کہ ہماری حالت روز بدتر ہوتی جارہی ہے اور اوپر سے مزید ٹیکس لگانے کی مطالبہ ہورہی ہے۔
جب کہ بادشاہ نے may 1789 4 برائے نام جنرل اسمبلی کی میٹنگ بلائی ۔ اس اجلاس کا مقصد مزید ٹیکس لگاناتھا جب کہ اس مقصد کیلئے بادشاہ لوئس نے Jacques neckerکو اپنا مشیر مقرر کردیا اور اس کے ساتھ پادری طبقہ سےmirabeauتھے۔ Jacques neckerنے بادشاہ کے حکم کے برخلاف تما طبقہ بشمول نوبل اوپادریوں پر ٹیکس لگانے کی مطالبہ کردی جب کہ عوام تو پہلے ہی یہ مطالبہ کررہے تھے۔ جب لوئس نے دیکھا کہ معاملہ الٹ ہورہاہے تو انہوں نے نیکر کو بلاکر عہدہ سے فارغ کردیا کیوں کہ بادشاہ اورپادری نہیں چاہتے تھے کہ ان پر ٹیکس لگائی جائے۔ کونسل میں جو کچھ عوامی نمائندوں نے کیا وہ لوئس کیلئے ناقابل برداشت تھا۔ اس نے سب کو اجلاس سے باہر نکال دیا وہ سب فورا ٹینس کورٹ میں جمع ہوئے اور سب نے عہد کیا کہ ہم ایک آئین بنائینگے اس واقع کو( اوتھ آف دی ٹینس) کہا جاتاہے انہوں نے 17June1789کو tennis court کی جگہ اپنی نیشنل اسمبلی بنائی اور انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی ہم کرینگے کیونکہ ہم خود ٹیکس دیتے ہیں فرانس ہمارے ٹیکس سے چلتاہے اس لئے ہمیں حق ہے اور فیصلہ ہم خود کریں گے۔ انہوں نے یہیں سے حلف لے لیا اس لئے اسے لوگtennis court oath کہتے ہیں۔ جب یہ مرحلہ آیا تو بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو باغی ارکان کو منتشر کرنے کا حکم دیا لیکن سپاہیوں نے طاقت کے استعمال سے انکار کردیا ، بادشاہ لوئس خوف زدہ ہوکر محل میں چلا گیا، اور پھر اس نے اپنے معمول کی حماقتوں میں ایک اور اضافہ کرتے ہوئے غیر ملکی فوجیوں کو اپنے عوام پر گولی چلانے کیلئے منگوالیا، عوام میں صبر کی حدختم ہوگئی ۔ عوام نے 14جولائی 1789کو پیرس میں ہنگامہ کھڑا کردیا اور عوامی ہجوم نے 14جولائی 1789کو بیسٹائل جیل پر حملہ کردیا بیسٹائل کے قید خانہ پرقبضہ کرکے تمام قیدیوں کو رہا کردیا (14جولائی کو فرانس میں قومی دن کی مناسبت سے منایا جاتاہے یہ بیسٹائل جیل پر حملہ کا دن ہے)
یہ پورے فرانس میں لوئس کے خلاف انقلاب کی نشانی تھی اسی خوف سے لوئس نے بربریت شروع کردی۔
عوامی نمائندوں کے گھروں کو آگ لگانا ، عوام کو جیلوں میں ڈالنا ،قتل کرنا شروع کردیا۔ فرانس ایک جنگی قتل گاہ کی شکل اختیار کرگیا۔ جب کہ عوام میں جزبہ مزید مستحکم ہوتی جارہی تھی۔ یہیں سے فرانس میں ایک، قدیم شہنشاہیت،جاگیردای ا ور مراعات کی نظام کا خاتمہ اسی انقلاب سے ہی ممکن ہوا اور یہ انقلاب کی جانب پیش قدمی کی شروعات تھی۔
اس کے بعد عورتوں نے ایک مارچ شروع کرکے لوئس کے محل کا گھیراو کیا، ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ یہ صورتحال دیکھ کر لوئس بھاگ جاتاہے لیکن پھر احتجاجی عورتوں کی سخت موقف کی وجہ سے مجبوراََ اسے واپس آنا پڑ تاہے اور آتے ہی لوئس کو گرفتار کرکے قیدی بنائی جاتی ہے۔
یہاں نیشنل اسمبلی ایک قرار دار پاس کرتی ہے، لوئس خاندان اور پادریوں کی زمینون کو قرضہ جھکاوء کیلئے بھیج دی جائیگی اور عام لوگوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اسمبلی چرچ کو سیکیولر بنانے کا فیصلہ بھی کرتی ہے۔ موقع ملتے ہیlous خاندان کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کرتی ہے اور پھرvarrennesفرانس کے مقام پر دوبار پکڑا جاتاہے اور دوبارہ قید ی بنایا جاتاہے جب کہ یہ خوف یورپ کے دیگر ریاستوں میں پھیل جاتی ہے کہ کہیں ان کے ہاں عوامی انقلاب برپا نہ ہو ۔انقلاب کے شعلے ان تک نہ پہنچیں اس خوف سےKing of Austria king of pressia اور لوئس کے بھائی جو بھاگ کر آسٹریا گئے تھے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ لوئس کی مدد کی جائیگی اور انقلاب کو کچلا جائے گا یہ Pilnizکے مقام پر ایک declerationپر دستخط کرتے ہیں۔ اس میں یہ تمام باتیں موجود ہوتی ہیں کہ لوئس کی مدد اور انقلاب کو کچلنا لوئس کو آزاد کرکے دوبارہ بادشاہ بنانا۔
اور اس بات کا پتہ چلتے ہی نیشنل اسمبلی ایک قرار دار پاس کرتی ہے کہ آسٹریا کے ساتھ جنگ کی جائیگی اور اس کے لئے وہ اٹھارہ سال سے پچیس سال تک کی عمر کے لوگوں کی بھرتی کرتے ہیں اسے the war of first coalation کہا جاتاہے جب کہ جنگ مزید تیز ہوجاتی ہے اور لوئس کو اقتدار تو نہیں ملتی البتہ ان کی اقتدار اور بادشاہت کے خاتمے کا عواما علان کرتی ہیں۔ اور یہیں سے لوئس کی بادشاہت کے دن ختم ہوجاتے ہیں اور فرانس کی رپبلک ہونے کی اعلان کی جاتی ہے۔
21sep 1792کو نیشنل اسمبلی کی میٹنگ ہوجاتی ہے جسےNational convention کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔ اسی کنونشن میں یہ فیصلہ لیا جاتا ہے کہ فرانس ریپبلک ہوگا، بادشاہت کا خاتمہ کیا گیا۔ تمام فیصلوں کو قانونی شکل دی گئی۔نیشنل اسمبلی کے ممبران کا تعلق عوام سے تھا، لیکن ان میں دو گروپ ابھرے ایک (Jacobins)دوسری(giraundi)گروپ تھیں ان دونوں گروپوں کا تعلق عوام سے تھا ۔
جیکوبین کا لیڈرRobespierre تھے یہ قانوں دان تھے یہ ریڈیکل خیالات کے مالک قدرے سخت موقف رکھنے والے تھے اس نے انقلاب میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا لہذا اس کی قائدانہ صلاحیت یا پھر نیت پر کوئی شک نہیں کر سکتا تھا۔ اس گروپ کا مطالبہ تھا کہ غداری
کرنے والوں کو سرعام گولی ماری جائی یا پھر پھانسی دی جائی اور جب کہ جیرونڈک گروپ قدرے نرم اور مذاکرات پر یقین رکھنے والے تھے۔ جیکوبین گروپ پرانے گند کو صاف کرنے کیلئے dictitor shipکا مطالبہ کررہی تھی۔ وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے ، کنونشن جو کہ جیکو بین کی پارٹی تھی گروپ کو جیکوبین کہا جاتاہے ان کے ایکرکن Dr josephنے غداری کی سزا اور مجرموں کی سزا کیلئے ایک قرارداد پیش کی کہ ان کوGuillotineکیا جائے۔ یہ ایک مشین تھی جوکہ سر کو جدا اور تن کو الگ کرتھا تھا جسےGuillotineکہتے تھے یہ اس ڈاکٹرکا نام تھا Dr joseph Guillotine جو کہ Guillotine کی نام سے مشہور ہوئی جب کہ 21jan 1793کو لوئس کو فیملی کے ساتھ Guillotine کردیا گیا۔ اب شاہ لوئس چلاگیا ۔ جب زیادہ تعداد کی اس طرح وحشیانہ پھانسی سے عوام میں خوف کی لہر دوڑنا شروع ہوگیااورRobespierreایک عامر ظالم ڈکٹیٹر بن گئے ۔ انہوں نے اپنے مخالفین کی بھیGuillotine شروع کردی ۔ جب عوام نے احتجاج شروع کیا تو احتجاجیوں کی ڈر سے اگر چہ Robespierre نے the committies of public safety بنائی تاہم اس کے اختیارات بھی آمرانہ تھے۔ یہ پانچ ممبران تھے جو کہGuillotine کا فیصلہ کرتے تھے وہ غدار ہوتے یا مخالفین ،یا پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے ہوتے، اس کمیٹی کا طریقہ کار بس یہی تھیGuillotine کرکے سر الگ کرنا۔ ایک سال تک اس کمیٹی نے ہزاروں لوگوں کوGuillotine کیا۔ اس سال کو تاریخ میں the reign of terrorکہا جاتاہے ۔ پھر ہوا یوں کہ جس شخص نے سزا کا یہ نظام بنایا تھا اسی اژدھا نے رُخ موڑ دیا 27جولائی1794کوRobespierre کو خودGuillotineنے نگل لی۔ Robespierre خودthe reign of terror کی آخری شکارہوئے ۔
اگست 1795کو ایک نیا آئین بنائی جاتی ہے اور اس میں سے آمرانہ قوانین کو ہٹایا جاتاہے اور ایک نئیDirectory سسٹم کی اعلان کی جاتی ہے جس کے چلانے والے پانچ لوگ ہوتے ہیں۔ ایکexacutiveبرانچ بھی بنائی جاتی ہے لیکن یہ لوگ اتنے ناتجربہ کار ہوتے ہیں کہ انہیں سرکار کرنے یا قانون سازی کی فن نہیں آتی اس وجہ سے فرانس مزید بحرانوں کی طرف جانا شروع کردیتاہے
ان کی طرز حکمرانی جیکوبین سے بدتر ہوجاتی ہے کیونکہ ان کے جو ڈائریکٹرز ہوتے ہیں،وہ من پسند اور لوئس کی طرز اپنے خاندان والوں کیلئے دروازے کھول دیتے ہیں جب کہ عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتی ان کی زندگی بدتر ہوجاتی ہے ۔لوئس کی حکومت کی طرح یہاں خوراک کی کمی اور معاشی بحران مزید سر اٹھاتاہے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے Napoleon ان کے خلاف اعلان جنگ کرتاہے ۔نپولین ایک فوجی جنرل تھے ا ور انقلاب فرانس میں بڑھ کر حصہ لینے اور آسٹریا کے خلاف لڑنے اور بہادری کی وجہ سے وہ بہت مشہور تھے۔ نپولین ایک ایسا نجات دہندہ ہیرو تھے جس نے انسانیت کو بہت سے بندھنوں سے آزادی دلائی وہ ایک غیرمعمولی عظیم جنرل تھے۔ نپولین انقلاب کا بیٹھا تھا۔ Napoleon ڈائریکٹری نظام کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔ Napoleon پھر خود 1804 کو کنگ آف فرانس بن جاتی ہے لیکن اس کنگ کے پاس لوئس جیسی پاور نہیں ہوگی انقلاب کا یہ فائدہوا کہabsolutitismکا خاتمہ ہوجاتاہے۔عوام اپنا فیصلہ کرنے میںآزاد ہوجاتے ہیں ۔لوگ پراپرٹیز کے مالک بن جاتے ہیں، جب کہ fundamintal of right ،freedomاور equelityلوگوں کو مل جاتی ہے ۔بے تحاشہ قربانیوں کے بعد بالاخر عوام اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور اپنے
ملک کے حقیقی مالک حکمران بن جاتے ہیں۔