انسان بننے کی سزا  تحریر:حمید بلوچ

image_pdfimage_print

زندگی خدا کی طرف سے انسانیت کے لیے ایک مقدس انعام ہے جسے اپنی مرضی سے گزارنے کا حق اشرف المخلوخات کو حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنی زندگی گزارے لیکن انسانیت سے نفرت کرنے والے جابر و ظالم حکمرانوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے انسان کی زندگی جہنم سے بدتر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج اس گلوبل ولیج میں زندگی ایک جنگ بن گئی ہے اور اس جنگ کو جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ مظلوم انسان باہمت حوصلہ و عزم سے بھرپور ہو کیونکہ ایک مظلوم انسان کے لئے ہمت حوصلہ ہی اس کا کل سرمایہ ہوتا ہے ۔تاریخی تناظر میں ہم دیکھیں تو نتائج اس طرح قلمبند کئے گئے ہیں کہ جن قوموں نے آقاؤں کی غلامی کو قبول کیا اور جنگ کے ڈر سے اپنی زندگی اور آزادی داؤ پر لگی رہنے دی تو ایسی قوموں کو تاریخ نے اپنے صفحات سے مٹاکر مردہ قوم کا نام دیا اور جن قوموں نے آزادی اور اپنی زندگی حاصل کرنے کے لئے سامراجی طاقتوں کو چیلینج کیا آزادی کے لئے جنگ لڑکر انہیں شکست سے دوچار کیا تو تاریخ ایسے قوموں کے گن گاتی نظر آئی اور اپنے صفحات میں ایسی قوموں کو صف اول کا مقام دیا ۔غلامی سے آزادی، پسماندگی سے خوشحالی، حیوان سے انسان بننے کے اس ارتقائی عمل میں نوجوان طبقے کا کردار ان کا عزم و حوصلہ مثالی رہا جنھوں نے اپنی قربانیوں اور ہمت کے  ذریعے زندگی کی جنگ جیتنے میں وہ نمایاں کارنامے انجام دئیے جو رہتی دنیا تک مظلوم اقوام کے لئے باعث تقلید ہے ۔

نیلسن منڈیلا جس نے انسان بننے کے جرم میں ہزاروں مصیبتیں برداشت کیے اپنی نوجوانی کے بیشتر سال زندانوں گزارے ،انسان بننے کے سفر میں ہزاروں تکلیفیں بھی اسکے مضبوط عزم کا مقابلہ نہ کرسکے منڈیلا نے اپنے مضبوط ہمت سے ہر رکاوٹ کو عبور کرکے اپنے قوم کے لئے یہ جنگ جیتی ۔بھگت سنگھ جسکی بہادری ہمت اور حوصلہ سامراج کے راستے کی بڑی رکاوٹ تھی جس سے خوفزدہ ہو کر سامراج نے اسے پھانسی پر لٹکایا ۔چی گویرا جسکی ہمت و بہادری اور بلند ہمت نے سامراج کو چھین سے رہنے نہ دیا اپنے جوانی کے بیشتر سال انسانیت کے لئے جنگ لڑ کر گزاری ۔ ماؤ زے تنگ جس کے جوانی کے دن پہاڑوں بیابانوں میں دشمن سے برسرپیکار ہونے میں گزری ۔ جیولس فیوچک جسے آج دنیا فخر چیکوسلواکیہ کے نام سے جانتی ہے جسے پھانسی پر لٹکایا گیا۔ ان نوجوانوں نے کھٹن و مشکل راہوں کا انتخاب انسانیت کی بقاء کے خاطر کیا اور اس سفر میں کوئی بھی رکاوٹ ان کا راستہ نہ روک سکی انکی ہمت بہادری عزم و حوصلہ جسے تاریخ سلام پیش کرتی ہے آج ان نوجوانوں کی انسانیت سے محبت اور جان کی قربانی دنیا کے مظلوم عوام کے دلوں کو گرماتی اور انہیں جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے ۔ دنیا کا ہر روشن فکر طالبعلم اور نوجوان انہیں اپنا آئیڈیل مان کر انکی پیروی کرنے میں ہی اپنی زندگی کی بقاء تلاش کرتا ہے ۔ محکوم قوموں کے نوجوانوں نے جب بھی اپنی قومی غلامی کا ادراک کیا تو انہیں راستے سے ہٹانے کے لئے مختلف پالیسیوں کو استعمال کیا گیا کبھی انہیں زندانوں میں اذیتناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا کبھی انکی مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکا گیا لیکن انسان بننے کے جذبے سے سرشار نوجوانوں نے عزم و ہمت کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ اور زیادہ تندہی سے اپنے منزل کی جانب رواں رہے ۔ایسے باہمت بلند حوصلوں سے لبریز نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بلوچ قوم کے نوجوانوں کی ہے جنھوں نے اپنی قومی آجوئی کے لئے ہر طرح کی تکلیفوں کو قبول کرکے قومی تحریک کو سائنسی بنیادوں پر ترقی دی بلوچ نوجوانوں نے ماؤ ،چی گویرا،جیولس فیوچک اور بھگت سنگھ کی قربانیوں کی یاد کو تازہ کردیا ۔ پاکستان اپنے طاقت کے نشے میں مست ہوکر بلوچ قوم سے انسان ہونے کا حق چھیننا چاہتی ہے اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ریاست روشن خیال بلوچ نوجوانوں کو راستے سے ہٹانے کی کوششوں پر عمل پیرا ہے کیونکہ ریاست جانتی ہے کہ یہ علم سے محبت کرنے والے نوجوان اسکے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔نوجوان طالب علموں کو راستے سے ہٹانے کی پالیسیوں کو لیکر پاکستان نے سینکڑوں بلوچ طالب علموں جن میں بی ایس او آزاد کے چیرمین زاہد بلوچ اور ذاکر مجید بلوچ مرکزی انفارمیشن سیکرٹری شبیر بلوچ سمیت ہزاروں نوجوان طالب علموں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیئے۔ کامریڈ قیوم ، کمبر چاکر ،رسول جان ،اکرام بلوچ حاصل بلوچ سالار بلوچ جیسے ہزاروں نوجوانوں کو اغوا ہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناکر لاشوں کو ویرانوں میں پھینکا لیکن نوجوانوں کا یہ سفر کامیابی سے اپنے منزل کی جانب رواں دواں رہا ۔ 28اکتوبر کو بلوچ انسانی حقوق کے کارکن عطا نواز بلوچ کو 8 نوجوان طالب علموں سمیت کراچی سے گرفتار کرکے لاپتہ کردیئے ۔15نومبر 2017کو کراچی سے بی ایس او آزاد کے مرکزی سیکرٹری جنرل ثنااللہ بلوچ کو بی ایس او آزاد کے مرکزی کمیٹی کے ممبران نصیر بلوچ ، حسام بلوچ اور بی این ایم کے ممبر رفیق بلوچ کے ہمراہ جبری طور پر اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جو بلوچ طالب علموں پر پاکستانی مظالم کا تسلسل ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔جس طرح برطانوی سرکار بھگت ، راج گرو سے امریکہ چی گویرا سے خوفزدہ تھا اسی طرح ان انسان دوستوں کے نقش قدم پر چلنے والے انسان دوست اور ترقی پسند بلوچ طالب علموں سے پاکستانی ریاست خوفزدہ ہے۔ ان نوجوانوں نے اپنی زندگی اور قومی غلامی کے خلاف جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ، انہیں آزادی اور اپنے سرزمین سے محبت تھی ،یہ نوجوان اطاعت گزاری کی زندگی گزارنے کے بجائے جدوجہد پر یقین کرنے والے تھے۔ عزت جان،چراگ جان اور نودان امید حوصلہ عزم سے بھرپور نوجوان تھے جن کی ہمت کی جتنی داد دی جائے کم ہے ایسے بلند کردار انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو یہ جانتے تھے کہ آزادی کے لئے جدوجہد کرنا سخت کھٹن اور تکلیف دہ عمل ہے اور اس جرم کی سزا موت سے بھی بدتر ہے لیکن سلام ان نوجوانوں کی ہمت کو کہ انہوں نے یہ سب جانتے ہوئے بھی اس راستے کا انتخاب کیا ۔
آزادی دوا کا نسخہ نہیں کہ جس کے پینے سے آزادی ملتی ہیں اور نہ ہی آزادی حاصل کرنا پھولوں کی سیج ہے جس پر آسانی سے چلا جاسکتا ہے بلکہ آزادی کا عمل کھٹن اور مشکل ہے اسکے لئے مستقل مزاجی ہمت حوصلہ اور عزم کا ہونا ضروری ہے جس طرح ہمارے یہ عظیم دوست آزادی کے عمل کی پاداش میں پابند سلاسل کیئے گئے جہاں وہ دسمبر کی سرد راتوں میں بدترین تشدد کا سامنا کررہے ہیں ایسے ہمت اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور بی ایس او آزاد کے نوجوانوں میں یہ ہمت حوصلہ اور عزم موجود ہے کہ وہ نودان عزت اور چراگ کے ادھورے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچاسکے اور اس مقصد کے لئے بی ایس او کے نوجوان کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ شائد ریاست یہ سمجھ چکی ہے کہ ان نوجوانوں کے اغوا ہونے سے بی ایس او آزاد کے نوجوان اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں گے لیکن ریاست کو اس بات کا علم نہیں کہ بی ایس او آزاد ایک روشنی کا نام ہے جس کا مدہم ہونا انہونی بات ہے۔بقول عزت جان کہ ہمیں اپنے دوست کامریڈز عزیز ہے لیکن آزادی اس سے بھی زیادہ عزیز شئے ہے۔