انسانی نشوونماء کی اہمیت اور عمل پر اس کے اثرات ڈاکٹر جلال بلوچ

image_pdfimage_print

ہر شعبہ زندگی میں اکثر کام ایسے ہوتے ہیں جن میں انفرادیت کا عنصرشامل ہوتا ہے۔اس کے پس پردہ بہت سارے عوامل ایسے ہوتے ہیں جو انفرادیت کے اس عنصرکی انسانی دماغ میں پرورش کرتے ہیں وہ چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہواس میں اس کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ کچھ ایسا کرجائے جو اس کی پہچان بن جائے۔ انسانی کام جوانفرادی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی اس میں انفرادی کردار اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس حوالے سے بہت ساری مثالیں موجود ہیں جنہوں اپنے اعمال سے دنیا کو نئے رنگوں سے نوازا۔ اگر ہم دنیا میں اصولوں(Theories)کی بات کریں انہیں پیش کرنے میں انفرادی کردار کا ہی عمل دخل ہوتا ہے لیکن آگے چل کر یہی اصول ذہنوں پر اجتماعی اثرات مرتب کرنے کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں اور لوگ انفرادی اور اکثر اجتماعی زندگی کو صحیح سمت دینے کے لیے انہیں اپناتے ہیں ۔جیسے مذہب سے وابستہ اصول جنہیں انبیاء کرام ؑ نے پیش کیے اور انہیں سماج نے اپنایا، مختلف ادوار میں مفکرین کی وضح کردہ اصول جیسے معیشت کی دنیامیں کارل مارکس کا نظریہ اشتراکیت جس نے دنیا میں ایک انقلاب برپاء کیا جس کی وجہ مظلوم اور ظالم کے درمیاں خلیج اتنی بڑھ گئی کہ اس سے ریاستوں کانئی سمت میں جنم ممکن ہوا، روسو ، لاگ اورہابس نے انسان کو یہ سوچ دی کہ سماج نے ریاستوں کی شکل اور اپنے اختیارات ریاستوں کو کیسے سونپ دی(نظریہ عمرانی)، ارسطو نے نئی سیاسی سوچ دی جس نے آنے والے دنوں میںیونان کو متحدکرنے کی جانب گامزن کی، نفسیات کی دنیامیں سگمنڈ فرائڈ نے ایسی راہیں متعین کیں جس نے انسانی دنیا میں انسان کے کردار اور اس کی نشو ونماء اور اسے پرکھنے کا زاویہ دیا۔ ان کے علاوہ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو مختلف موضوعات میں ہمیں ایسے کردار نظر آ ئینگے جنہوں آنے والوں کے لیے راہوں کا تعین کیاجن پہ عمل پھیرا ہو کے انسان نے دنیاوی زندگی کا نقشہ بدل دیا۔
ہما را موضوع سماجی رویوں اورانسانی نشونماء سے متعلق ہوگا جس میں انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں، وجوہات اور سماج پہ اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائیگی ۔
کسی مسلئے کی تخصیص اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی محرکات سامنے نہیں آتے ۔ انسانی کردار اور رویوں کو دیکھنے ، پرکھنے ، سمجھنے اور ان کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ جب ہم کوئی کام یا کچھ نیا کرنے جارہے ہوں تو سب سے پہلے اپنی صلاحیتوں کو دیکھیں کہ جو میں کرنے جارہا ہوں آیا اس کام کو کرنے کی صلاحیت مجھ ہے یا نہیں، اگر نہیں تو وجوہات کیا ہیں یا کسی کو جب کوئی ذمہ داری سونپ رہے ہوتے ہیں تو اس میں بھی انہی باتوں کا خیال رکھناہوگاکہ جسے ذمہ داری سونپی جارہی ہے آیا وہ اس معیار پہ پورا اترتا بھی ہے کہ نہیں؟ اس پہ منطقی بنیادوں پہ سوچھے ، سمجھیں اور جب کسی نتیجے پہ پہنچوں تب جا کے کوئی فیصلہ کرنا۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں آپ جب کام کی نگرانی کرتے ہیں تو وہ ان توقعات کی رو سے ہوتی ہیں جو آپ نے وابستہ کی تھی اور اگرصلاحیتوں کو پر کھے اور سمجھے بغیر کسی کو ذمہ داری دی جائے جو اکثر دیکھنے میں آتا ہے تو ہم مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرپاتے جس کی آس لگاتے ہیں ۔ہم اکثر جذبات کی رو میں بہتے ہیں لیکن زندگی فقط جذبات کا نام نہیں بلکہ عملی زندگی تو منطق کی بات کرتی ہے جو جذبات کی نفی ہے۔
انسانی جبلتوں کے اس عمل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انسانی نشوونماء ، تربیت اور اس کے ماحول کو دیکھیں۔ جو مختلف مراحل سے گزر تی ہے جس کے اثرات انسانی صلاحیتوں پر پڑتے ہیں۔
اصولوں کی رو سے انسانی نشوونماء پانچ بنیادی مراحل سے گزرتی ہے۔
۱۔شکنِ مادر سے لیکر ۲سال تک کا دورانیہ:۔
(الف)شکن مادر:۔ ماہ کی کوکھ انسان کی پہلی درسگاء ہوتی ہے ۔ ۹ ماہ کا یہ دورانیہ جہاں بچہ نشوونماء پارہا ہوتا ہے اس میں ۱۶ ہفتوں کے بعد کا دورانیہ انتہائی اہمیت کا حامل کا حامل ہوتا ہے جہاں خوراک ، ماحول اور رویوں کے اثرات برائے راست شکنِ مادر میں موجود طفل پر پڑتے ہیں ۔ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اس دوران ماں کو جیسا ماحول میسر ہوگا اس کے اثرات عملی زندگی میں بڑی حد تک آنے والے انسان کے کردار کا حصہ ہوتے ہیں ۔
(ب) شیرخواری کادورانیہ:۔ “اور مائیں دو سال تک اپنے بچوں کو دودھ پھیلاتی رہیں”(القران) آج کے سائنسی دور میں ماہرین کا کہنا بھی یہی ہے کہ ماہ کی دودھ بچے کی اچھی صحت کی نشوونماء کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔اس سے بچے کی جسمانی ساخت مضبوط ہوتی اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے جس سے وہ بیماریوں سے لڑنے کے قابل ہوجاتا ہے اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں بچے کی ذہنی ساخت کا دارومدار جس میں اس کی IQ پاور،اور مدافعتی نظام کی صلاحیت، کام میں تھکاوٹ یا چستی وغیرہ سب کا دارومدار اسی دورانیہ کی پرورش اور نشوونماء پہ انحصار کرتی ہے۔
۲۔دو سے پانچ سال تک کا عرصہ:۔

Gaining a few more years of healthy life would be great for individuals, but expensive for Medicare, researchers say.

اس دورانیہ میں بچہ چونکہ بات کرنے اور انہیں سمجھنے کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔گھر میں دیگر افرادکے ساتھ بھی وہ گھل مل جاتا ہے اور خصوصاً والدین سے جیسا ماحول بچے کو میسر ہوگا آنے والے دنوں میں اس کے دوررس تنائج اس کی شخصیت پر پڑتے ہیں ۔ کیونکہ بچہ گھر میں ہونے والی حرکات اور رویوں کو نوٹ کررہا ہوتا ہے اور ساتھ میں انہیں ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے جواس کی عادت بن جاتی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں تمام باتوں کو مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ ایک ہی گھر میں ایک ہی ماحول میں پرورش پانے والے بچوں کی طبعیت اور خصلت ایک دوسرے سے جدا ہوسکتے ہیں اس کی وجہ شکنِ مادر اور شیر خواری کا دورانیہ بھی ہوتا ہے اور گھر میں اس وقت کا ماحول بھی کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے جو اس کی عادات اور رویوں پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔
۳۔ سکول جانے کا دورانیہ یا ماحول میں دوستی کی عمر:۔
بچہ جب پانچ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو پہلی مرتبہ اسے گھر سے باہر قدم رکھنے کا موقع میسر آتا ہے ۔جہاں اس کے نئے دوست بنتے ہیں سکول ایج(School Age)یا دوست بنانے کی عمر کا انسانی رویوں اور اس کی شخصیت کو بنانے میں بڑااہم کردار اداکرتاہے۔ اس عمر میں بچہ چونکہ۶سے ۸ گھنٹے گھر سے باہر رہتا ہے لہٰذاوہ باہر ہونے والی حرکات کا بخوبی مشاہدہ کرتا ہے جنہیں بڑی حد تک نقل کرنے یا ان کے بارے میں سوچنے اور سوال کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ہمارے ہاں اکثر بچوں کا جو غیر متوقع سوال کرتے ہیں اس ڈر سے والدین اور گھر کے دیگر افراد جواب نہیں دیتے یا انہیں مطمئن نہیں کرتے کہ کہیں یہ ساری عادتیں وہ اپنا نہ لیں ۔ لیکن انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ انسان فطرتاً تجسس پسند ہے اور جب تک اسے اپنے سوال کا جواب نہیں ملتا وہ خاموش بیٹھنے والا نہیں انسان کی یہی تجسس پسندی اور رویہ اسے یہ سوال دوسروں سے یا اپنے ہمنواؤں سے کرنے پہ اکساتاہے۔ اور بعض اوقات جب اسے کہیں سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملتا تو وہ خود اپنی بساط یا کبھی کبھار اس سے بھی بڑھ کر اس کی کھوج لگاتا ہے ۔اب وہاں سے جواب چاہے جیسا بھی اسے ملے اکثر اوقات وہ اسے قبول کرتا ہے جو اس کی شخصیت پہ اثر ڈالنے کا پیش خیمہ ثابت ہوتاہے۔
۴۔ بلوغیت کی عمر:۔
انسانی کردار اور اس کو سمت دینے میں انسانی نشوونماء کا یہ دورانیہ یعنی بلوغیت کی عمر سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔اس عمر میں انسان شعوری اور منطقی بنیادوں پہ سوچنے کے مرحلے سے گزررہا ہوتا ہے یعنی وہ ابھی شعور اور منطق کی اس بنیاد پر نہیں پہنچ پایا جہاں صحیح اور غلط میں اصولی تمیز کر سکے۔ لہٰذا اس عمر میں جہاں انسان کی ذات میں چھپی ہوئی خواہشات جاگتے ہیں جو صحیح اورغلط دونوں جانب لے جانے کا سبب بنتے ہیں اس میں اس ماحول کا کردار سب سے نمایا ں ہوتا ہے جو اسے میسر ہو۔ اگر ماحول مثبت انداز میں سفر کررہا ہے تو انسان مثبت سوچ کا حامل ہوگا اور اگر ماحول میں کوئی دراڑ ہے تو اس کے اثرات آنے والے دنوں میں اس کی شخصیت میں نمایاں ہونگے۔ ایسا بھی نہیں کہ اس ماحول کہ بعد کوئی انسان تبدیل ہی نہ ہو۔بعض شخصیات جنہوں نے انسانی تاریخ میں نمایا ں کردار ادا کیے ہیں ان کو یا ان کی ذات کو تبدیل کرنے کے لیے کسی بھی عمر میں کوئی چھوٹا سا واقعہ اور سوچ بچھار ان کی شخصیت میں تبدیلی کا سبب بنا ہے۔اس حوالے سے ماہرین کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ اکثر یت ماحول کاشکار ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔
۵۔ عملی زندگی:۔
انسان کی شخصیت کا آخری پہلو اس کی عملی زندگی میں قدم رکھنے سے شروع ہوتی ہے جہاں اسے سماج اور اپنے محدود ماحول میں نت نئی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے ۔ بیان کی گئی چار پہلو ؤں کوانسان کی عملی زندگی اور اس کی شخصیت کو نکھار نے ،سنوارنے یا بگاڑنے میں بڑا اہم کردار ادا ہے ۔ انسان جوں ہی اس مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو زندگی اچانک تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔اس مرحلے میں انفرادیت کا شکار لوگ اپنی ذات اور چھوٹے سے ماحول جو اس کے اپنے گھر یا چند خاص دوست احباب تک محدودہوتاہے اس بھنور میں اس کی زندگی کا پہیہ گردش کرتا ہے ۔جس میں اسے ہر وقت اپنی ذات یا کسی حد تک اس چھوٹے سے ماحول کی فکر لاحق ہوتی ہے اور اپنی ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی تگ و دو میں زندگی گزارنے کو اپنا مقصد حیات بناتا ہے۔
جب کہ ہر سماج میں ایسے افراد بھی نمایاں تعداد میں ہوتے ہیں جو اجتماعیت کی جانب روبہ سفر ہوتے ہیں ۔ ان کی سوچ کا محورسماج اور سماج میں بسنے والے ، ان کی زندگی کا مقصد ان کی ضروریات پوری کرنا ، ان کو اجتماعی سوچ کوجانب گامزن کرنا، پورے معاشرے کو تبدیلی اور ترقی کی راہ دکھا نا اور اس راہ میں ان کی رہنمائی کرنا، اس راہ میں اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر ہراول کا کردار خود نبھانا۔ الغرض اجتماعی سوچ کی جتنی بھی خصوصیات ہیں ایسے افراد میں بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں ۔یہی وہ افراد ہوتے ہیں جو آگے چل کر سماج کے حقیقی رہنماء بن جاتے ہیں۔
انسانی نشوونماء اور تربیت کے جتنے بھی پہلو بیاں کی گئی ان کا انسان کی شخصیت ،اس کے رویوں اور اس کے کردار پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان تمام پہلووں کا ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک مرحلے کو نظر انداز کرنا اس سے روگردانی کرنا قطاً درست فعل نہیں۔کیونکہ کسی بھی قوم کے مستقبل کے ستاروں کا دارومدار ان کی تربیت اور نشوونما ء ہوتی ہے۔
سماجی تبدیلی یا ارتقاء سست روی سے منزل کی جانب بڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ ہونے والی تبدیلی کے محرکات سامنے آنا شروع ہوتے ہیں ۔ تبدیلی کی رفتارکا تعلق سماج میں رونماء ہونے والے واقعات اور سماج کا ان کی جانب توجہ اور رویہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ سماج اگر ان تبدیلیوں کو ذہنی طور پہ قبول کرتاہے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں میں مثبت اندزا میں منتقل ہونا شروع ہوتے ہیں ۔ اورجہاں ان واقعات اور تبدیلیوں سے روگردانی کی جاتی ہے تو اس کے منفی اثرات کا مرتب ہونا فطری عمل بن جاتا ہے۔
سیاسی تبدیلی جس کے لیے صبر آزماء محنت اور جدوجہد کی ضرورت پڑتی ہے رہنماوں کے بیانات یا ان کی بات چیت جواکثر مشاہدے میں آتا ہے کہ ہر حال میں جہد مسلسل کوسلسلہ برقرار رہنا چاہیے۔ دراصل انہیں اس بات کی جانکاری ہوتی ہے کہ جب تک آنے والی نسلوں کو کام کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا اس عمل کو اس وقت تک جاری رکھنا چاہیے۔ جب عمل اور کام کی جانکاری آنے والی نسلوں کو منتقل ہوتی ہے تو جد و جہد کا سلسلہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک عمل کے میدان میں شامل افراد اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پاتے۔ اور دوسرے مرحلے میں جو تعمیر و ترقی کا مرحلہ ہوتا ہے اس میں ان اقوام نے مثبت پیش رفت کی ہیں جنہوں نے پہلے مرحلے میں(جہاں افراد کی ذہنی نشو ونماء اور ان کی توجہ عمل کی جانب مبذول کرانا ہوتا ہے ) اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
سماجی علوم کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان جب بڑے پیمانے پہ کوئی اجتماعی یا سماجی عمل شروع کرتا ہے تو اس کے اثرات ۲۰ سے ۲۵ سال کے دورانیہ میں اپنا اثر دکھانا شروع کرتی ہے بشرطیکہ عمل کا تسلسل منظم انداز میں برقرار رہے ۔ اگر اس دورانیہ سے کم مدت میں عمل کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے تو دوبارہ نئے سرے سے کام شروع کرنا پڑے گا ۔عمل منظم یاغیر منظم جس انداز میں برقرار رہتی ہے تو سماج پر اس کے اثرات اسی انداز میں پڑتے ہیں کیونکہ سماج کے ہر آنگن میں عمل سے وابستہ افراد کے کردار اس گھر کا موضوع بحث بنتے ہیں ۔اگر مثبت پیش رفت ہوں تو اس سے جنہوں نے آگے چل کر انہی کرداروں کو نبھانا ہوتا ہے بڑی جانفشانی اور محنت سے اپنے حصے کی ذمہ داریاں اور فرائض سرانجام دیتے رہیں گے اور اگر عمل میں ابہام ہو تو اس سے لوگ راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے اگر ہم انسان کی سیاسی تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ اور مشاہدہ کریں تو مختلف ادوار اور مختلف معاشروں میں رونماء ہونے والے واقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہماری نظروں سے گزرتا ہے۔ ان کی جدوجہد کا تسلسل اور اس دوران ان کے سماجی رویے ، ان کی کامیابی یا ناکامی کی وجوہات،غرض تمام پہلو سامنے آتے ہیں جو ان کے سماج کو متاثر کرنے کا سبب بنے تھے۔
جیسے ہندوستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ۷۱۲ء جب عربوں نے ہندستان پر حملہ کیا تو اس وقت راجہ داہر اور بھیم سنگھ کی جانب سے مزاحمت تو کی گئی پر وہ ایک مختصر مزاحمت تھی۔ جو آنے والے ہر دور میں اپنایا گیا۔ لیکن ہزار سال سے زائد عرصے تک وہ غیر منظم انداز میں کام کرتے رہیں جس کی وجہ سے تسلسل کو برقرار نہ رکھ سکیں۔ جس کا فائدہ کھبی تغلق، کبھی غوری ، کبھی غزنوی ، کھبی لودی، کبھی مغلوں تو کھبی انگریزوں نے اٹھایا۔ جس کی وجہ سے ۱۳ سو سال سے بھی بڑا عرصہ گزرا انہیں اپنی کھوئی ہوئی آزادی واپس لینے میں۔
جد و جہد طویل ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عمل میں کتنی پختگی ہے ۔ منظم انداز میں ہونے والی جد و جہد سے اول تو کہیں مایوسی کے آثار دیکھتے نہیں اگر ہوں بھی تو ان کا ازالہ ممکن ہوتا ہے ۔
بلوچ جد و جہدِ آزادی کی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو اس میں بھی گزشتہ ادورار میں ناکامی کی وجوہات جو سامنے آتی ہیں وہ یہی ہیں کہ ہمارے رہنماء اپنے اپنے زمانے میں ہونے والے عمل کو طول دینے میں ناکام رہیں جس سے قوم کھبی تاجِ برطانیہ کی غلامی میں رہا اور آج پاکستان کی غلامی میں زندگی بسر کررہی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے کے دوران اس کا تنقیدی جائزہ انتہائی ضروری ہے جو آنے والے دنوں کے لیے بہتر منصوبہ بندی، اپنے اور مخالفیں کے سماج اور مقاصد کا بہتر تجزیہ اورعمل کے دوران ہونے والی غلطیوں کا جائزہ وغیرہ میں اچھی پیش رفت ثابت ہوتی ہے ۔ اس حقیقت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا کہ کسی بھی سماج میں کمزوریاں موجود ہوتی ہیں وہ چاہے آزاد سماج ہو یا غلام ۔ بلوچ تحریکِ آزادی میں بھی کمزوریاں دیکھنے میںآتی ہیں ۔ بلوچ جہدِ آزادی میں جو سب سے بڑی کمزوری اس وقت مشاہدے میں آتی ہے وہ ہے اداروں کا اس انداز میں منظم نہ ہونا جو وقت و حالات کا تقاضا ہوتا ہے ۔ اداروں کی بات اس لیے اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ Human Resource کی مکمل ذمہ داری جماعتوں میں موجود ان اداروں کے ذمہ ہوتی ہیں ۔اگر ادارے مضبوط ہوں تو قوم کی ذہنی تربیت اور نشونماء بہتر طریقے سے ہوسکتا ہے جن کے اثرات سے قوم کا مستقبل وابستہ ہے ۔اگر حال میں ہونے والے عمل کے اثرات مستقبل کے معماروں پہ مثبت انداز میں پڑیں گے تو کامیابی مقدر ہوگی۔ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا بلوچ جہد کاروں کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے کیونکہ اقوام کسی ایک پلیٹ فارم پہ جو کہ خود ایک صبر آزما ء مرحلہ ہوتاہے اس وقت تک جمع نہیں ہونگے جب تک فیصلے فرد سے اداروں کو منتقل نہیں ہوتے ۔ان خامیوں کے باوجو د جو سب سے بڑی کامیابی جوملی ہے وہ ہے۱۷ سالہ جہدِ مسلسل ۔ان کمزرویوں کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ بلوچ تحریک آزادی پچھلے تمام ادوار کی تحریکوں سے زیادہ منظم انداز میں کام کررہی ہے ۔ اس حوالے سے ہر جماعت کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اپنے اداروں کی منظم انداز میں صف بندی کریں جس سے سماج کے ہر آنگن تک پہنچنا اور انہیں عمل کا حصہ بنانا ایک مرحلے پہ حقیقت کا روپ دھار لے گا۔
نو آبادیاتی نظام میں جہاں انقلابی جماعتوں کے کارکنوں کوتکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جیسے آج بلوچ جہد آزادی کے جمہوری سیاسی پارٹیوں کا قبضہ گیر ریاست کی جانب سے کالعدم قرار دیناایسے میں سماجی رویوں کو جانچنے کا عمل یقیناً مشکل ہوگالیکن ناممکن نہیں اور جب تک سماجی رویوں کو پرکھا نہیں جائے گا سماجی تبدیلیوں کے حوالے سے آنے والے دنوں کے لیے لائحہ عمل بنانا ممکن نہیں ہوگا۔ کامیابی سے منزل کی جانب گامزن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی کارکن سماج کا سائنسی بنیادوں پہ مشاہدہ کریں اس کے لیے پہلی شرط سماج کے اندر رہتے ہوئے سماج میں گھل میں جانا:جس سے ہمیں سماج کے رویوں اور ان میں تبدیلیوں ، اور اپنی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کا ازالہ کرنے میں دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا۔ پارٹیاں اگر اس عمل کو بخوبی سر انجام دینے کے مرحلے میں کامیاب ہونگے تو آنے والی نسلوں میں عمل کے حوالے سے مثبت سوچ پروان چڑھنا مقدر بنے گی۔
بلوچ جہدِ آزادی آج جس نہج پہ پہنچ چکی ہے جہاں شاید ہی کوئی آنگن ہوں جہاں تحریک کی بابت گفت و شنید نہ ہوں ۔اب آنے والی نسلوں پہ عمل کے اثرات کا دارومدار آج کے سماجی رویوں پہ منحصر ہے۔اگر رویے جہد عمل کے حق میں ہیں تواس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور اگر انسانی سوچ کا پہلو قوتِ مخالف کی جانب ہیں اور ان کے تدارک کے لیے عملی طور پہ اقدامات بھی نہ ہوں تومسائل اور مشکلات کے بھنور میں پھنسنا یقینی ہے۔
آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے جو عمل کے تمام مراحل کا بخوبی علم رکھنے کے ساتھ انہیں منطقی بنیادوں پہ عملی شکل دینے کے لیے ہر صبر آزماء امتحان سے گزرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔